رانا پھول محمد کا ویژن اور طاہرالقادری کی تجویز!

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری

رانا پھول محمد خان کا نام پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی شگفتہ مزاجی اور کاٹ دار جملوں سے ایوان میں خوشگوار فضا قائم رہتی یوں قانون سازی کے مشکل کام کا بوجھل پن دور ہو جاتا تاہم شگفتہ بیانی ہی ان کی واحد شناخت نہیں تھی وہ ایک منجھے ہوئے پارلیمنٹیرین اور زیرک سیاستدان بھی تھے۔ رانا صاحب سے ایک صحافی کا سیاستدان سے بڑھ کر نیاز مندانہ تعلق تھا تب جناب بلخ شیر مزاری نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا کہ ”پنجاب کو ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور پنجاب میں تقسیم کر دیا جائے یعنی چار صوبے بنا دئیے جائیں“ ۔ چنانچہ 5 اگست 1986ءکی سہ پہر پیپلز ہاﺅس میں انکے کمرے میں رانا پھول محمد خان سے اس حوالے سے گفتگو کی جو روزنامہ مشرق کے سیاسی ایڈیشن میں شائع ہوئی۔ لاشعور میں گم اس بات کا خیال پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی اس تجویز سے آیا کہ ہماری جماعت پاکستان کے ہر ڈویژن کو صوبہ بنانا چاہتی ہے۔ پاکستان کے ہر ڈویژن کو صوبے کا اچھوتا خیال ڈاکٹر طاہرالقادری کے ذہن رسا کا کرشمہ نہیں ہے اب سے تقریباً 27 سال پہلے رانا پھول محمد خان یہ تجویز پیش کر چکے ہیں۔
رانا پھول محمد خان نے میرے سوال کے جواب میں کہا تھا ”یہ مزاری صاحب کی اپنی سوچ ہے اس کی تشریح تو وہی کر سکتے ہیں۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ صوبوں کا لفظ ختم کر دیا جائے اور ہر ڈویژن کو ایک انتظامی یونٹ قرار دے دیا جائے جس کا سربراہ ڈویژنل کونسل کا چیئرمین ہو اسے وزیراعلیٰ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ ڈویژنل کونسل کے چیئرمین یا وزیراعلیٰ کا انتخاب براہ راست ووٹوں کے ذریعہ کیا جائے۔ جسے تمام صوبائی اختیارات حاصل ہوں اس طرح ڈویژنل کمشنر کو چیف سیکرٹری کے اور ڈی آئی جی کو آئی جی کے اختیارات حاصل ہوں اور ڈویژن کے تمام محکموں کے سربراہوں کو وہی اختیارات تفویض کئے جائیں جو صوبوں میں صوبائی محکمو ں کے سربراہ رکھتے ہیں۔ ڈویژنل کونسل کے ارکان کے چناﺅ کیلئے آبادی کے لحاظ سے حلقہ بندیاں کی جائیں۔ ڈویژنل کونسل کے چیئرمین یا وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کا اختیار بھی صرف ڈویژن کے عوام کو ہونا چاہئے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ڈویژنل کونسل یا ڈویژن کی سطح پر اسمبلی کے ارکان ناجائز یا غلط کاموں کیلئے چیئرمین یا وزیراعلیٰ پر دباﺅ نہیں ڈال سکیں گے لیکن جمہوریت کے تقاضوں کے تحت چیئرمین یا وزیراعلیٰ کو ہر فیصلہ ڈویژنل اسمبلی کے اکثریتی ارکان کی رائے سے کرنے کا پابند بنایا جائے۔
مجوزہ انتظامی یونٹوں کی افادیت سے متعلق میرے سوال کے جواب میں رانا صاحب نے کہا ”ایک تو چھوٹے یونٹ قائم کرنے سے امن و امان کی صورتحال پر آسانی سے قابو پایا جا سکے گا دوسرے ترقیاتی منصوبوں اور دیگر تمام معاملات بخوبی نمٹائے جا سکیں گے۔ اس طرح صوبائی حقوق کی بجائے اقتدار کے بھوکے سیاستدان ڈویژن کے حقوق کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہو جائینگے اور پھر سندھی، بلوچی، پٹھان اور پنجابی کے نام پر تعصب ابھارنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔ ہر ڈویژن کے امور کی نگرانی کیلئے صرف ایک چیف سیکرٹری ہو گا جو وزیراعلیٰ کے احکامات کا اور وزیراعلیٰ ارکان اسمبلی کی اکثریتی رائے کا پابند ہو گا اور جب صوبے نہیں رہیں گے تو صوبائی سوچ قومی سوچ میں تبدیل ہو جائیگی میں نے سوال کیا رانا صاحب آپ نے انتظامی یونٹوں کا جو خاکہ پیش کیا ہے اس میں انتظامی یونٹ کا سربراہ قائد ایوان ہو گا تو کیا اس میں قائد حزب اختلاف اور سپیکر کی گنجائش بھی ہو گی تو انہوں نے جواب دیا ”جی بالکل، سپیکر کا انتخاب کیا جائیگا تاکہ اپوزیشن کھل کر بات کر سکے۔ وزیراعلیٰ اپنی کابینہ تشکیل دیگا جس میں ہر ضلع سے صرف ایک نمائندہ لیا جائیگا جس کا انتخاب متعلقہ ضلع کے عوام کرینگے“۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا انتظامی یونٹوں کے قیام کے حوالے سے آئینی الجھن پیدا ہو گی انہوں نے کہا ”کوئی لمبی چوڑی الجھن پیدا نہیں ہو گی صرف ایک آئینی ترمیم کی ضرورت ہے صوبے کی جگہ لفظ ڈویژن ثبت کر دیا جائے“۔ ان سے سوال کیا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کی کیا صورت ہو گی تو رانا صاحب جو اس حوالے سے بہت واضح ذہن رکھتے تھے کہا ”قومی اسمبلی کے انتخاب کے سلسلے میں میری تجویز اس حوالے سے یہ ہے کہ صوبوں کے کوٹے کی بجائے ملک بھر میں آبادی کے لحاظ سے ہر حلقہ نیابت کو پاکستان پارلیمنٹ کے رکن کا حلقہ قرار دے دیا جائے ملک کو جمہوری انداز میں چلانے کیلئے پارلیمنٹ اور وزیراعظم کا ہونا ضروری ہے۔ اس طرح ہر انتظامی یونٹ کے ارکان کی تعداد کے لحاظ سے ہر انتظامی یونٹ کو سینٹ میں نمائندگی دے دی جائے“۔
یہ رانا پھول محمد خان کا سیاسی ویژن اور قومی سوچ تھی جس کا مشاہدہ انکے خیالات کے آئینہ میں کیا جا سکتا ہے اب سے 27 برس پہلے شاید ان کی اس سوچ کو زیادہ قابلِ توجہ نہ سمجھا گیا ہو 27 سال بعد غور کیا جائے تو یہ آج درپیش مسائل کیلئے نسخہ کیمیا نظر آئیگا۔