بڑا بھائی اور برادرانِ صغیر!

کالم نگار  |  شوکت علی شاہ

فارسی زبان کا محاورہ ہے۔ سگ باش برادر خورد مباش۔ ایک مرتبہ پطرس بخاری نے گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنے چھوٹے بھائی ذوالفقار کو کسی بات پر ڈانٹا تو چھوٹے نے یہ کہہ کر محاورے کی ٹانگ ہی توڑ دی۔ سگ باش برادر سگ مباش۔ حسین لطافت اپنی جگہ لیکن عمومی طور پر محاورے کے وہی معنی لئے جاتے ہیں جو ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ چھوٹا ہونے کے کچھ نقصانات بھی ہیں جن سے بڑا اپنی بزرگی کی آڑ لیکر اکثر بچ جاتا ہے۔ پاکستان میں پنجاب کو بڑا بھائی کہا جاتا ہے جس سے اس کے چھوٹے برادران سندھ، بلوچستان اور خیبر پی کے اکثر شاکی رہتے ہیں۔ شکوک و شبہات کا جو پودا تقسیم کے فوراً بعد لگایا گیا وہ اب ایک تن آور درخت بن چکا ہے۔ مزید المیہ ہے کہ حالات و واقعات کی آکاس بیل نے اسے اپنے زرد شکنجوں میں کس جکڑ لیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ محض اتفاق ہو، لیکن بڑا عجیب اتفاق ہے کہ سندھ کے تین وزرائے اعظم کا خاتمہ پنجاب میں ہوا۔ لیاقت علی خان کو پنڈی کے جلسہ عام میں گولی مار دی گئی۔ بھٹو نے اڈیالہ جیل کے پھانسی گھاٹ میں آخری سانس لی۔ محترمہ بے نظیر بھی لیاقت روڈ پر دستِ قاتل سے نہ بچ سکیں بلوچستان کی محرومیوں کو بھی پنجاب کے کھانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ سندھ پانی کی کمی کا رونا رو رہا ہے۔ خیبر والے بظاہر کسی ٹھوس وجہ کے ہی مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں شومئی قسمت سے ایک پنجابی وزیراعظم پھنسا اُسے بھی جیل سے نکال کر سرور محل میں ڈال دیا گیا۔
یہ باتیں ہمیں اس لئے یاد آئی ہیں کہ آج، تین ماہ کے قلیل عرصے میں حکومت نے تیل کے نرخ تیسری بار بڑھا دئیے ہیں۔ بجلی کا ریٹ بھی اسی حساب سے اُوپر گیا ہے۔ پانچ سو ارب روپے کے نوٹ چھاپنے کے باوصف لوڈشیڈنگ اُسی تسلسل اور نواز سے ہو رہی ہے۔ یہ ادائیگی کن کمپنیوں کو کی گئی ہے؟ اُس کا یقیناً ریکارڈ ہو گا لیکن ایک عام آدمی کے ذہن میں میاں منشا کا ہیولا اُبھرتا ہے۔ وہ سوچتا ہو گا کہ اگر نام کے ساتھ میاں کی اضافت لگ جائے تو پھر ہر چیز کو پَر لگ جاتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی حکومت یقیناً کرپٹ تھی، نااہل تھی، بے حِس جسکا عمومی مطمع نظر لوٹ کھسوٹ تھا۔ اس کے سالار قبلہ یوسف رضا گیلانی تھے جنہوں نے اِس کارخیر میں خاندان کے سبھی افراد کو شامل کیا اور ہر کسی نے حسب استطاعت انکی داغدار شہرت کو کمک پہنچائی۔ باایں ہم ان کے دور میں اس سرعت سے اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں نہ بڑھیں۔ بجلی، گیس اور پٹرول کے نرخ بھی اس برق رفتاری سے اُوپر نہ گئے۔ بالفرض وہ چند پیسوں کا اضافہ بھی کر دیتے تو بڑا شور و شیں ہوتا۔ احتجاج کی لہر آسمان تک جا پہنچتی۔ جگہ جگہ آتش فشانی ہوتی۔ ہڑتالیں کی جاتیں۔ کتاب میں کوئی ایسی گالی نہیں ہے جو حکمرانوں کو نہ دی جاتی۔ ہمارے پنجاب کے حکمران تو برسر عام اُنہیں لتاڑتے۔ یہ ظالمانہ مذاق بند کیا جائے۔ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ ایک عام آدمی کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے۔ ہم آئیں گے تو من و سلویٰ اُترے گا۔ خوشحالی ہر گھر پر دستک دے گی۔ بھوک اور ننگ کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔ شیر کا نشان ویسے تو نہیں لیا۔ اس ملک کو بالآخر ایشین ٹائیگر بننا ہے۔ لاہور کو دیکھ کر پیرس شرمائے گا۔ کراچی کی ترقی دیکھ کر نیویارک کی رالیں ٹپکیں گی۔ بُلٹ ٹرین جب چلے گی تو جاپان کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہو گا۔ گوادر سے لیکر تابخاکِ کاشغر ایک طلسمِ ہوشربا ہو گا۔ ہر دروازہ مشرقِ وسطیٰ کی طرف کھلے گا۔ روسی ریاستوں سے ٹھنڈی ہوائیں آئیں گی جن سے لوڈشیڈنگ کے مارے لوگوں کو بڑا سکون ملے گا۔ چھوٹے صاحب کا ٹارگٹ صدر مملکت آصف علی زرداری رہے۔ صبح شام، ہم وقت ایک ہی راگ الاپتے الگ ہی نعرہ ان کے وردِ زبان ہوتا۔ زر بابا چالیس چوروں کو نہیں چھوڑوں گا۔ ان کا پیٹ چیر کر لوٹی ہوئی ملکی دولت نکالوں گا۔ ایک قلیل مدت میں لوڈشیڈنگ کی لعنت ختم کر دی جائے گی۔ وغیرہ! پتہ نہیں پیٹ کب پھاڑا جائے گا، فی الحال تو بڑے بھائی صاحب زر بابا کی پیٹ پوجا کا بندوبست کر رہے ہیں۔ زرداری صاحب کے اعزاز میں ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ وزیراعظم انہیں باعزت رخصت کرنا چاہتے ہیں۔
مندرجہ بالا ناجوازیوں کے باوصف کوئی سنجیدہ احتجاج نہیں ہو گا۔ حکمرانوں کو اُن کے وعدے یاد نہیں دلائے جائیں گے۔ کیونکہ ہم پنجابی ہیں اور حاکم بھی اس خطے کے رہنے والے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی صفوں میں ایک ہلکی سی پخ ہو گی۔ ایک آدھ نیم دلانہ بیان اخباروں میں چھپے گا، پھر ایک طویل خاموشی چھا جائے گی اور ہمارے بیدار مغز وزیر خزانہ نئے ایجنڈے پر کام شروع کر دیں گے۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ پنجاب کے خلاف اتنی مخاصمت اور کدورت کیوں ہے۔ ہم تو بڑے صاف دل اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ آج کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا ہے۔ سادگی اور حماقت میں بال برابر فاصلہ ہوتا ہے۔ حاکموں کا تعلق چاہے کسی خطے سے بھی ہو سبھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ انکی سوچ کے قافلے صرف ایک ہی منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ حصول اقتدار.... یہ نہ تو پنجابی ہوتے ہیں، نہ سندھی، بلوچ اور پختون۔ موقعہ کی مناسبت سے بھی پگڑی باندھ لیتے ہیں تو کبھی اجرک اور پشاوری کُلہ کو جسم کی زینت بناتے ہیں۔ گنگا گئے تو گنگارام، جمنا گئے تو جمناداس!
نوٹ: میں نے ”پنجاب کے گورنر“ کے عنوان سے مضمون لکھا ہے جس میں نور محمد آف سنگھوالا کے متعلق بھی چند باتیں بیان کی گئی ہیں۔ پنڈی سے ہمارے دوست حفیظ کھوکھر صاحب کا فون آیا ہے۔ انہوں نے متذکرہ واقعے کی تردید کی ہے۔ ان کے مطابق نور محمد ایک نیک انسان ہے چونکہ نواب کالاباغ کے دوست تھے اس لئے مخالفین نے ایک تسلسل اور تواتر کے ساتھ ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا۔ وہ ایک مخیر اور متمول شخص تھے جنہیں کسی بیرونی امداد کی چنداں ضرورت نے تھی۔ علاقائی سیاست میں اس قسم کے قصے اکثر گھڑے جاتے ہیں۔