بچیوں کے ساتھ زیادتی اور حکومت کی کارکردگی

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

گزشتہ روز راقم کو گوجرانوالہ، گجرات، جہلم اور فیصل آباد جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے ان تمام شہروں میں لاہور، فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کیخلاف لوگوں کو احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے دیکھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ انسانیت سوز واقعات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔گجرات، جہلم اور فیصل آباد میں متعدد صحافیوں سے راقم کی ملاقات ہوئی۔ لاہور کی پانچ سالہ بچی کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے سب ہی پریشان تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے گناہ بچی کے ساتھ درندگی کے واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بھارتی ڈراموں اور ٹی وی چیلنز نے معاشرہ تباہ کر دیا ہے۔ جہلم کے سینئر صحافی اور تحریک انصاف کے رہنما محمود مرزا جہلمی کا کہنا تھا کہ بے گناہ بچی کے ساتھ ظلم کرنے والوں کوعبرت کا نشان بنا دیا جائے۔ معاشرے میں قانون کا خوف ختم ہو چکا ہے۔ عریانی و فحاشی اور بے پردگی کو نہ روکا گیا تو ایسے سانحات رونما ہوتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں نئی دہل میں بھی بھارتی عدالت نے ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنیوالے چار ملزموں کو موت کی سزا دی ہے اور اس حوالے سے بھارتی سول سوسائٹی نے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ وطن عزیز میں سول سوسائٹی کی طرف سے ایسے واقعات پر کسی بڑے ردعمل کا اظہار سامنے نہیں آیا۔ بچی کیساتھ جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ وہ پورے معاشرے اور اس کے اقدار کے خلاف سنگین جرم ہے جس پر سخت ترین سزا دی جانی چاہئے کیونکہ جب تک سنگین جرائم کو سخت سزاﺅں سے نہیں روکا جائیگا‘ سماج دشمن عناصر کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔
جہلم میں راقم کی ایک روحانی شخصیت سید مخدوم صاحبزادہ اظہار الحسن شاہ سے بھی ملاقات ہوئی آپ ایک بہت بڑے بزرگ ہیں ملک بھر سے لوگ ان سے ملنے کیلئے آتے ہیں۔ میں جب انکے آستانہ پر گیا تو انہوں نے اور انکے عقیدت مندوں نے میرا بڑا والہانہ استقبال کیا بعد ازاں انہوں نے وہاں پر موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور شریعت کے اصولوں پر زندگی گزارنا ہی تصوف ہے۔ تصوف کی راہ میں جو پاکیزہ نفس لوگ اللہ تعالیٰ کو جان جاتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں یوں سراپا زندگی بن جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت کرنے لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصوف کا راستہ شریعت کی طرف اور شریعت تصوف کی طرف جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دعا ایک ایسی چیز ہے جس کے کرنے سے انسان کی بے چینی دور ہوتی ہے۔ صوفیائے کرام بغیر کسی لالچ اور مفاد کے دعا کیا کرتے تھے۔ دعا ذکر الٰہی بھی ہے اور عبادت بھی، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ مجھ سے مانگو میں تمہاری پکار سنتا ہوں۔ آج ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں جن مسائل اور مصائب میں ہم گھرے ہوئے ہیں اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان برگزیدہ ہستیوںکے صدقے میںہمارےحالات بہتر فرمائیں اور ہماری مشکلات کم ہوں۔ ہماری مشکلات کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اللہ کے حضور جھکتے تو ہیں لیکن ہمارےہ قول وفعل میں تضاد ہے اس کو ٹھیک کرنا ہے۔ دعا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک رابطہ کا ذریعہ ہے۔ مشکلات کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ اولیا دلوں کو زندہ کرتے ہیں امن کیلئے صوفیاءکی تعلیمات کو اپنایا جائے۔ گجرات جہلم اور فیصل آباد کے لوگ موجودہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئے پورے تین ماہ ہو چکے ہیں اور یہ عرصہ کسی بھی نئی حکومت کے طویل المعیاد منصوبوں کے حوالے سے ایک پیمانہ ہوتا ہے جسے سامنے رکھ کر مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے جو اندیشہ ہائے دور دراز عوام میں پائے جاتے تھے وہ اگر سو فیصد نہیں تو اس کے قریب قریب ضرور سچ ثابت ہوئے ہیں۔ ہم حکومت سے حسن ظن کا اظہار ہی کرینگے کہ غلاظت کو صاف کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ وقت بہرحال درکار ہوتاہے لیکن اگر حکومت چاہے تو ا پنی باقی ماندہ مدت کے دوران عوام کی خدمت سے کوئی نہیں روک سکتا۔