بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل

کالم نگار  |  تنویر ظہور

خوشحال اور مضبوط بلوچستان ہی پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے۔ کیا وجہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہو پا رہا۔ بلوچستان کا مقدمہ ہر کوئی اپنے تئیں لڑتا رہا ہے اور لڑتا رہے گا لیکن بلوچ کا مقدمہ من حیث القوم بہت کم لوگوں نے لڑا ہے۔
بلوچستان کے موجودہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، بلوچ مسئلے کو حل کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ڈیرہ بگٹی سے نقل مکانی کر جانے والے ہزاروں بگٹی قبائل سے اپیل کی ہے کہ وہ واپس اپنے اپنے گھروں کو آ جائیں۔ ڈیرہ بگٹی میں تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف دانشور اور رائٹر اور سابق بیورو کریٹ حکیم بلوچ کا موقف ہے کہ بلوچستان کا مقدمہ ہر کوئی لڑتا رہتا ہے لیکن بلوچ کا مقدمہ شاذ و نادر کوئی لڑنا چاہتا ہے۔ امان اللہ گچکی نے اعلان کیا تھا کہ وہ بلوچ کو افغان Shadow سے نکال کر صرف اور صرف بلوچ کا من حیث القوم مقدمہ اسلام آباد میں ایک ایسے فورم کے ذریعے پیش کریں گے جو بلوچ دوستوں پر مبنی ہو گا اور یہ Friends of Baloch کہلائے گا۔ کئی سال پہلے اس سلسلے میں اسلام آباد میں ایک محفل ہوئی جس میں جنرل عبدالوحید خان سابق چیف آف دی آرمی سٹاف کو بھی مدعو کیا گیا۔ ان کے علاوہ اس محفل میں لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان اور لیفٹیننٹ جنرل صلاح الدین ترمذی بھی آئے تھے۔ جنرل عبدالوحید خان نے بلوچستان میں فوجی آفیسر کی حیثیت سے متعین ہونے کا تفصیلی ذکر کیا۔ انہوں نے اکبر بگٹی کے ساتھ (جب وہ وزیراعلیٰ تھے) سرکاری رتبہ و مراسم میں اچھے روابط کے علاوہ ان کی ذاتی خوبیوں کا فراخدلی سے ذکر کیا۔ فوج اور فوجی آفیسرز سے ان کے تعاون کا بحیثیت وزیراعلیٰ اور ذاتی طور پر مثبت انداز میں ذکر کیا اور ان کی ہلاکت (شہادت) کو ناخوشگوار سانحہ مانا اور ان کو بڑا قومی نقصان بھی جانا لیکن اپنے دور کے فوجی حاکموں کی زیادتیوں کا ذکر نہیں کیا۔ یہ بھی نہیں بتایا کہ ان کے کور کمانڈر ہی کے دوران آئی جی ایف سی نے وزیراعلیٰ بگٹی کے دفتر میں جا کر ان سے یہ کہنے کی جسارت کی کہ Sir I have come to charge sheet you اور اس پر نواب صاحب کی برافروختگی اور سسٹم کو لپیٹنے کی دھمکی کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ اس وقت کے گورنر جنرل محمد موسٰی خان کی فراست اور دوربینی نے صورت حال کو بچایا مگر انہوں نے نہ ان کو سراہا اور نہ ذکر تک کیا کہ حاضر سروس جرنیل اپنے فیصلے کرنے پر ہر سطح پر خودمختار اور مجاز ہیں۔ صرف فوجی معاملات میں نہیں بلکہ سیاسی عسکری معاملات میں بھی، لیکن ایک پرانے ریٹائرڈ جنرل نے آئی جی ایف سی کے میجر جنرل خالد کو نواب صاحب سے معافی منگوا کر راضی کروا لیا کہ وہ بدستور وزیراعلیٰ کے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔ ان کو تو وہ پریڈ بھی یاد تھی یوم آزادی کی جس کی سلامی گورنر موسٰی خان نے لینا تھی، وہ علالت کے سبب نہ آ سکے تو وزیراعلیٰ اکبر خان بگٹی نے وہ سلامی لی۔ ان کو یہ بھی یاد تھا کہ نواب صاحب جی ایچ کیو راولپنڈی ان کو مبارکباد دینے پہلی بار (شاید آخری بار) گئے تھے۔ انہوں نے یہ تو بتایا کہ وہ ان کو صدر پاکستان بنانا چاہتے تھے لیکن یہ نہیں بتایا کہ 1990ءمیں صوبائی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی بن کر جے ڈبلیو پی کو حکومت کیوں بنانے نہیں دی گئی۔
پھر جنرل علی قلی خان نے بلوچستان میں اپنی خدمات اور ایچی سن کالج لاہور کے کامریڈشپ وغیرہ کا ذکر کیا۔ جنرل صلاح الدین ترمذی نے اپنے سے زیادہ کرنل تصور کی خدمات کا ذکر کیا کہ کس طرح سے دونوں نے مل کر بلوچ نوجوانوں کو آرمی میں بھرتی کروایا لیکن ان سب نے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ بلوچستان کا یا بلوچ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کونسی قابل عمل تجویز دیں گے اور نہ وہ اس فوجی مائنڈ سیٹ میں تبدیلی کے حامی ریٹائرمنٹ کے بعد نظر آ رہے تھے جو لارڈ ڈلیوزی کی پنڈی اور لارڈ سنڈیمن کی کوئٹہ چھاﺅنیوں نے ان کو ورثے میں دیا تھا جس کی بدولت بلوچ نہ صرف مین سٹریم سے باہر ہوتے ہوتے مکمل طور پر مارجنلائز (Marginalize) ہونے کے بعد ابھی تقریباً Alienate ہو چکا جس کو وہ علیحدگی پسندی اور بلوچ مزاحمت کار آزادی تصور کرتے ہیں۔ موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ مضبوط بلوچستان، مستحکم پاکستان کا ضامن ہے۔ 20 ہزار بلوچ فوج میں شامل کئے۔ ڈیرہ بگٹی، کوہلو، سبی میں ترقیاتی منصوبے ہمارے تعاون کا ثبوت ہیں۔ ہم چاہتے ہیں بلوچ مزدور نہ بنیں، اعلیٰ عہدوں پر کام کریں۔ بلوچوں کی ترقی کے لئے فوج نے جو اقدامات کئے اور کر رہی ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جانا چاہئے۔ بلوچستان کے سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق وہاں کے عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق حل کئے جائیں۔ بلوچستان میں عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات اندرونی ہیں۔ اس لئے ان مسائل کا حل اندرونی سیاسی اقدامات ہی سے ممکن ہے۔ مضبوط وفاقی اکائیاں درحقیقت ایک کامیاب وفاق کی علامت ہوتی ہیں۔