"سپریم کورٹ،EOBIاور پنشنرز کیس"

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ

سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے ای او بی آئی(ای او بی آئی) کرپشن کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ غریب مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی کو لٹنے نہیںدے گی اور اس مقدمے کومزید التوا میں نہیں رکھا جائے گا۔جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بینچ پنشنرز کی دادرسی کے لیے بھی پر عزم نظر آتا ہے۔عدالت نے محکمہ کی املاک ،خرید و فروخت کرنے والی کمپنیوں اور افراد کی فہرست کے بارے میں جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 26جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔سپریم کورٹ نے ای او بی آئی کے ڈی جی انوسٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پنشن میں 6000تک اضافہ کرنے سے متعلق حکومتی اداروں سے میٹنگ کر کے رپورٹ پیش کرے۔

ای او بی آئی کا شمار پاکستان کے امیرترین محکموں میں ہوتا ہے۔اس کی آمدنی کی ذریعہ غیر سرکاری ملازمین کی طرف سے باقاعدگی سے جمع کرائے گئے فنڈز ہیں۔ محکمے کے کئی سربراہان نے ادارے میں اربوں روپے کے گھپلے کئے۔اس کے باوجود محکمہ اپنی جگہ نہ صرف موجود ہے بلکہ مالی طور پر مضبوط بھی ہے لیکن اس ادارے سے بڑھاپے کی پنشن لینے والے افراد زبوں حالی کا شکارہیں۔ان کی پنشن3600روپے ماہانہ ہے۔جس میں اضافے کے لئے حکومت نے کئی بار اعلانات کئے لیکن ان پر عمل نہ ہو سکا۔
ای او بی آئی کے پاس وسائل کی کمی نہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ادارے میں جمع ارب ہا روپے اور کھربوں کی پراپرٹی کو سیاسی بنیادوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران اس ادارے میں کی جانے والی کرپشن اور اس کی جمع رقم کو بوڑھے افراد کی فلاح وبہبود پر خرچ کرنے کی بجائے غیر قانونی طور پر دوسری مد میں لگانے کی وجہ سے اد ارے کے چیئرمین ظفر گوندل جو پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر نذر گوندل کے بھائی بھی ہیں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔ای او بی آئی سکینڈل کی نشاندہی آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بھی کی ہے۔عوام توقع کرتے ہیں کہ حکومت ای او بی آئی کے اکاﺅنٹ کا جائزہ لے کر عمر رسیدہ افراد کی ماہانہ پنشن میں خاطر خواہ اضافہ کر ے اور اس کے رجسٹرڈ افراد کو دوسرے ممالک کی طرح سوشل سکیورٹی کی مد میں مزید مراعات بھی فراہم کرے۔ دنیا بھر کی فلاحی ریاستیں اپنے بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے کئی منصوبے بناتی ہے کیونکہ ان بزرگ افراد نے اپنے ایام جوانی میں قومی پیداوار بڑھانے اور ملکی ترقی کے عمل میں اپنی جوانی اور صلاحیتیں صرف کی ہوتی ہیں۔
ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ہم پر یہ لازم ہے کہ اسلامی تعلیمات اور انسانی اخلاقیات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اپنے بزرگوں کی زندگی آسودہ حال بنانے کے لیے خصوصی اہتمام کرنا چاہئیے جس طرح معذور افراد کے لیے خصوصی تعلیم اور سہولتوں کے حوالے سے مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں اسی طرح وفاقی، صوبائی بلکہ بلدیاتی سطح پر بزرگ شہریوں کے لیے خصوصی مراعات کے فراہمی ضروری ہے۔ خاص طورپر بے سہارا بزرگوں کی دیکھ بھال ہمارا قومی اور انفرادی فریضہ ہے۔ ہر یونین کونسل یا ضلعی سطح پر اولڈ ایج ہومز بنانے کی ضرورت ہے۔ ان اولڈ ایج ہومز کے لیے وسائل ای او بی آئی اور حکومتی اداروں کے علاوہ این جی اوز اور مخیر حضرات یقینی طور پر فراہم کریں گے۔ اس حوالے سے ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی آگے بڑھے اور اس تحریک کو منظم کرے۔
ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ جن میں دس فیصد سالانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ترقی یافتہ ممالک نے اپنے عمر رسیدہ شہریوں کی سہولت کے لیے اولڈ ایج ہوم قائم کیے ہیں۔ پاکستان میں ابھی تک سرکاری سطح پر ایسے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نجی شعبے میں کچھ مراکز قائم ہیں جن میں ایدھی ویلفیئر ہومز نما یاں ہے۔حکومت پاکستان نے ایسے شہریوں کی اعانت کے لیے جنہوں نے اپنی متحرک عمر سرکاری یا نجی شعبے میں ملازمت کرتے ہوئے گزاری ہے۔ ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد اضافی مالی امداد فراہم کرنے لیے ایک قومی ادارہ"ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن" بنایا ہے۔
اس ادارے کے قیام کے بعد ایک قانون کے تحت ایسے تمام نجی اداروں کو ای او بی آئی سے رجسٹر ہونے کا پابند کیا گیاجہاں پانچ یا اس سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہوں۔ رفاہی اداروں کے ملازمین بھی ای او بی آئی میںرجسٹرڈ ہوتے ہیں۔رضاکارانہ یا ذاتی ملازمت کے حامل افراد بھی یہاں اپنا نام درج کروا سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کے لیے ای او بی آئی سے بلا معاوضہ فارم حاصل کیا جاتا ہے۔ادارے کے ویب سائٹ یا مفت مدد گار فون لائن 08000-3624پر بھی معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ایک سال پہلے تک کے اعداد و شمار کے مطابق ادارے سے پنشن لینے والوں کی تعدادپانچ لاکھ سے زائد تھی۔
ای او بی آئی حکومت سے کسی بھی قسم کی مالی اعانت نہیں لیتا۔ اس کے وسائل کا دارومدار صنعتی اور کمرشل اداروں سے مقررہ شرح پر وصول کی جانے والی کنٹر بیوشن ہے۔ اس کے بینک اکاﺅنٹ میں منافع کی کثیر رقم ہمہ وقت موجور رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں اس قومی ادارے کے پاس ارب ہا روپے کی عمارتیں، دفاتر، رہائش، کمرشل اور صنعتی مقاصد کے لیے ہیں۔ جن سے حاصل ہونے والی آمدنی اس ادارے کا اہم اثاثہ ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اس ادارے کے ارب ہا روپے کرپشن کی نذر ہو چکے ہیں۔سپریم کورٹ نے اس کیس کے مختلف پہلوﺅں پر جس قومی درد کے تحت کارروائی شروع کی اسے پاکستانی عوام میں تحسین کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ عوام توقع کرتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ اس قومی ادارے کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار افراد کو گرفت میں لے گی اور ضعیف العمر افرادکی پنشن میں اضافے کا حکم بھی دے گی۔