یہ دھرتی بیچ ڈالیں گے

کالم نگار  |  رخسانہ نور
یہ دھرتی بیچ ڈالیں گے

پچھلے چار پانچ دنوں سے پٹرولیم مصنوعات کی عدم دستیابی نے سنگین صورت حال اختیار کرلی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ صرف ٹریلر ہو، کیونکہ تماشہ گر جانتے ہیں کہ غلام ذہنوں کے اس ہجوم بے کراں کو وہ جب چاہیں گلے میں ضرور توں کی پھانسی چبھوکر اشتہا لا حاصل کو بے آب صحرا میں سرپٹ دوڑنے پر مجبور کردیں۔ جس طرح عرب میں اونٹوں کی کمروں پر بچوں کو باندھ کر دوڑا دیا جاتا ہے۔ اور بے بس بچوں کی آسمان چیرتی چیخوں سے بدﺅں کے لبوں پر قہقے بکھرنے لگتے ہیں بالکل ویسے یہ انسانیت سوز روئیے ہمارے تماشہ گر بادشاہوں کے ہیں۔ کبھی وہ سانس چھین کر مسکراتے ہیں تو کبھی کتابیں کبھی دو بوند پانی اچھال کر پیاسوں ہی کو آپس میں لڑا دیتے ہیں۔ کبھی سیلاب میں بہہ جانے والوں کی بھوک پر خوراک پھینک کر تماشہ دیکھتے ہیں۔ کبھی روشنی چھین لیتے ہیں۔ کبھی چولہے ٹھنڈے کر دیتے ہیں۔ اب جو آمدورفت کی ”روح“ پیٹرول غائب کر کے چھینی ہے اس نے قوم کی ایسی دوڑیں لگوائی ہیں کہ الا امان دن سے رات اور پھر صبح کاذب تک پیٹرول کیلئے مارے مارے پھرنے والوں نے گاڑی میں موجود کم پیٹرول بھی ختم کر ڈالا۔ فرلانگوں لمبی قطاروں کے باوجود پیٹرول پمپ برقعہ اوڑھے بیٹھے ہیں۔ پیٹرول کی قسمت ڈالر سے ملتی جلتی ہونے کو ہے۔ یہ دکاندار جس طرح ڈالر کا بھاﺅ گرنے سے پہلے اپنا مال نکالتے ہیں اور بھاﺅ بڑھانے سے پہلے مارکیٹ سے سارا ڈالر اٹھا لیتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ کمزور حافظے والی قوم کیا اسی ٹولے کی پہلی اننگ بھول گئی جب ملکوں میں فارن کرنسی منجمد کرنے سے پہلے راتوں رات انکے ڈالر ملک سے باہر نکل گئے اور پیسہ پیسہ جوڑ کر ضروریات پورا کرنے والی قوم کنگال ہوگئی، یہ جو پچھلی بادشاہی میں پیسہ ملک سے باہر گیا وہ سوئیس بنکوں میں انڈے بچے دے کر کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور قوم کا روپیہ پیسہ پیسہ ہو کر منہ کھولی ضرورتوں کے دیونے نگل لیا ۔ سوئیس بنک کے ایک ڈائریکٹر کے مطابق پاکستانی سیاست دانوں کے ستانوے بلین ڈالر اگر ملک میں واپس آجائیں تو پاکستان تیس سال کیلئے ٹیکس فری چلایا جاسکتا ہے۔ اگر کہیں اس سے ملک میں انوسمنٹ کرلی جائے تو ساٹھ ملین نوکریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ صرف تخت لاہور نہیں بلکہ پورے ملک میں دیہاتوں سے لیکر شہروں تک چار لائین سڑکیں بن سکتی ہیں۔ پاور سپلائی میں تو جیسے ہم الٹی چکیاں گھومانا شروع کردیں ہیں کیونکہ انہی بادشاہوں کی پچھلی بادشاہی میں یہ لوگ بھارت کو بجلی بیچنے کے معاہدے کرنے کو تیار بیٹھے تھے لیکن اب عرب کے ریگستانوں میں لگی سٹیل ملز نے جو پیسہ بنانا شروع کیا ہے اس کیلئے یہ کہنا غلط نہیں کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے یہ دانشمند ہرگزنہ چاہیں کہ وہ پیسہ غریب بستیوں میں لاکر غریبوں کے منہ کا زیرہ بنا دیں ۔ ویسے اگر یہ کہیں پاگل ہو جائیں اور اپنا پیسہ واپس ملک میں لے آئیں تو آنیوالی کئی دھائیاں ملک کے ہر شہری کو تقریباً بیس ہزار ماہوار سپورٹ انکم مل سکتی ہے۔ تب نہ آئی ایم ایف کے جوتے سیدھے کرنے پڑینگے نہ ورلڈ بنک کی گھوریاں، سہنے کی نوبت آئیگی۔ یہ سب ہمارے وزیرخزانہ اسحاق ڈار بخوبی جانتے ہیں۔ وہ اب اتنے بھی گئے گذرے نہیں جتنا کہ بارہ پندرہ برس قبل تھے جب وہ اپنی ہی کمپنیوں کے حساب کتاب میں اپنے کھاتے بند کرواتے چلے گئے تھے اب تو سارا مال دوبئی میں بنتا ہے وہ ایچ ڈی ایس گروپ کا برج خلفیہ ہو یا کمرشل مارکیٹنگ کنسٹرکشن، ریل سٹیٹ بزنس ہو کہ ”رینٹل کار“ کا کاروبار! جن کے بیٹے فراری، مرسیڈیز، بی ایم ڈبلیو، "Rolls-Roye" Lamborghint" یعنی دنیا کی مہنگی ترین گاڑیوں سے کم کی بات ہی نہ کریں تو کہا جاسکتا ہے کہ دوبئی جیسی ڈیوٹی فری مارکیٹ میں کاروبار کی جڑیں پھیلتی جا رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سے اپنے ملک کی جڑیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان پٹرولیم کی نجکاری کر دی جائے تو فائدہ کس کو پہنچنے والا ہے گمان کرسکتے ہیں! نیلام عام بولیوں میں کن کے ”کھیسوں“ سے پیسے نکلیں گے اور کن کی جیبوں میں جائینگے بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ ذرا سوچیں کراچی کی بندرگاہ سے ”چودہ سو گیارہ“ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع گلگت میں پھر پیٹرول کتنے میں بکے گا؟ آج حکومت ملک کے کونے کونے میں پیٹرولیم ٹرانسپوٹیشن کو کل پراڈکٹ پر تقسیم کر کے قیمت فروخت کا تعین کرتی ہے لیکن جب پیٹرول کسی پرائیوٹ کمپنی کے اختیار میں ہوگا تو ”ٹرانسپوٹیشن آف فیول“ کہیں ملک کے گوڈے گیٹوں“ میں نہ بیٹھ جائے! یہ سمجھنا اتنا مشکل نہیں کہ کراچی میں پیٹرول 60 روپے لیٹر ہو، پنجاب میں 80 روپے سرحد، بلوچستان میں ڈیڑھ سو سے لے کر دو سو روپے تک تو کون بے وقوف ہو گا جو پہلی تمام محرومیوں اور زیادتیوں کو بھول کر اس نئے زخم پر چپ رہے گا۔ یہ تو قومی سانحات میں سے ایسا سانحہ بھی رونما کر واسکتے ہیں جو نہ ملک دشمنوں سے ہوا، نہ غیر ملکی ایجنسیاں کر سکیں، یہاں تک کہ پہاڑوں میں چھپ کر وار کرنیوالے دہشتگرد بھی پسپا ہونے کو ہیں۔ اور مدارس بھی کمند کی زد میں! مزے کی بات ہے جب کاروبار کی بات ہوتی ہے تو بھارت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ پہلے یہ کتاب دشمن بھارت جیسی نیشنل سپرٹ تو پیدا کرلیں۔ ملک میں قلم کتاب اور آئندہ نسلوں کی جانیں تو محفوظ کرلیں۔ کیا کریں کہ ان میں تو پشاور آرمی سکول کے شہید بچوں کے والدین سے نظریں چار کرنے کی فرصت ہے نہ یارا۔ ویسے بھی عمران خان کے ساتھ جو ہوا ہے ہوسکتا ہے وہ کپتان کی سمجھ میں نہ آرہا ہو لیکن ہماری سمجھ میں سب آ رہا ہے ڈھٹائی اور انسانیت کو کسی کی ”ہلہ شیری“ یا ”مس گائیڈنس“ میں اپنا طرہ امتیاز بنانا ان لوگوں کو تو ہرگز زیبا نہیں جن کی طرف قوم امید کی آنکھ سے دیکھ رہی ہو۔ لیکن پنجاب میں براجمان سطحی سوچ کے خود ساختہ ہیروز کے بتوں کو بھی ٹوٹنے کے لے صرف لمحے درکار ہیں۔ یہ فقط اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان ووٹر خواب خرگوش سے بیدار ہوگا۔ پھر نہ کہیے گا کہ خبر نہ ہوئی۔ اس کو خطرے کا الارم سمجھئے یہ صرف سٹیل ملز یا پاکستان ائیرلائنز کی نیلام بولی نہیں۔ پیٹرولیم کی نجکاری ملک کی سلامتی کو دو تین چار لخت بھی کرسکتی ہے۔ چاہئے تو یہ کہ ملکی وسائل کو انصاف کے ساتھ تمام صوبوں میں تقسیم کیا جائے، سہولیات کو ایک ہی ”کاسٹ“ پر ہر شہری کی دہلیز تک پہنچایا جائے لیکن مسلسل اور طویل زیادتیوں نے احساس محرومی کی فصلیں جوان کردی ہیں۔ محبت کرنیوالوں کے دلوں میں زہر بویا جاچکا ہے۔ ایسے میں صرف پاک آرمی کیلئے قصیدے شاید کام نہ آئیں کہ بلوچ عسکری فورسز دن بدن حقیقت بنتی جا رہی ہیں۔ بس ملک دفاپرستوں کو اپنے اندر ایک ”جھات“ ڈالنی ہے سارے طوق آپ ہی آپ ٹوٹ سکتے ہیں۔ ان کاغذی شیروں سے خوف کھانے کی بجائے ملکی وسائل و دولت کو عوام کا حق بنانے کیلئے حرکت میں آجائے۔ ورنہ یقین کیجئے جن کے منہ کو خون لگ جاتا ہے وہ کبھی کبھی اپنے بچے بھی کھا جاتے ہیں۔ ایسانہ ہو کہ ملکی ادارے بیچتے بیچتے یہ کہیں ہماری دھرتی ہی بیچ ڈالیں۔ اب بھی نہ ہوش کیا، تو یقین کیجئے یہ دھرتی بیچ ڈالیں گے!