چوہدری اللہ رکھا سے اشتیاق چوہدری تک

کالم نگار  |  بیدار سرمدی
چوہدری اللہ رکھا سے اشتیاق چوہدری تک

یہ بڑے باپ کے ہونہار بیٹے کی بات ہے 1960 کی دہائی میں روم کے اولمپکس کے میدان میں چوہدری اللہ رکھا نے پاکستان کا نام روشن کیا۔ چیمپئن کہلائے ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں پہلے ہی شہرت حاصل کر چکے تھے۔ اولمپکس کے بعد تو شکر گڑھ کی طرح پنجاب بھر ملک بھر میں دھوم مچ گئی۔ یہ اس علاقے میں نئی بات تھی ۔ اشتیاق چوہدری نے بھی نئی بات کی اب تک بڑے بڑے قلم کار اپنی اپنی والدہ مرحومہ کے حوالے سے تخلیقات پیش کرتے آئے ہیں انہوں نے اپنے والد محترم کی باتوں کو یاد کیا ان کی کامیابیوں کا اور خدمت خلق کا احاطہ کیا اور ”میری محبت میرے ابو“ کے عنوان سے کتاب لکھی تو یہ موضوع کے اعتبار سے دو چار کتابوں میں ایک کتاب بن گئی۔ اشتیاق چودھری نے جو پیشے کے لحاظ سے ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ میں جب دو برس پہلے اس کتاب کے ساتھ لاہور ہائی کورٹ بار کے کراچی شہید ہال میں کتاب کی رونمائی کے سلسلے میں بیٹھے تھے تو منظر دیدنی تھا۔ سٹیج پر ایس ایم ظفر (سابق وزیر قانون)، راجا ذوالقرنین (سیکرٹری سپریم کورٹ بار)، چودھری حنیف کھٹانہ (ایڈووکیٹ جنرل)، نوید عنایت ملک (ڈپٹی اٹارنی جنرل)، پرویز عنایت ملک جسٹس (ر)، چودھری ذوالفقار جیسے سنیئر وکلا ان کے دائیں بائیں تھے اور سب کی زبان پر انکے والد محترم کی کامیابیوں کے تذکرے تھے۔ سال رفتہ کے آخری چار ماہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے صبر آزما سال تھے۔ پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کا مسلم لیگ ن کی حکومت اور قیادت سے براہ راست ٹاکرہ تھا ملک بھر اور خصوصاََ صوبہ پنجاب میں محاذ آرائی عروج پر تھی پاکستان عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے بھی اور ایک ممتاز قانون دان کے طور پر بھی انکی ذمہ داریاں بڑھ گئیں۔ پنجاب بھر بلکہ صوبوں میں بھی گرفتاریوں اور نظر بندیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ صدر رحیق عباسی، سیکرٹری حق نواز گنڈا پور، صوبائی صدر پنجاب بشارت جسپال، پرنسپل سیکرٹری جی ایم ملک سمیت تمام راہنما اپنے مورچوں پر مصروف تھے۔ عدالتی محاذ پر اشتیاق چوہدری سینہ سپر تھے۔ اپنے گرفتار ساتھی کارکنوں کی ضمانتوں کیلئے ان کا مزنگ روڈ پر واقع دفتر رات دن ”آباد“ رہتا۔ ساڑھے تین ہزار کارکنوں اور راہنماﺅں کی ضمانتیں کروانا انکا ہی کارنامہ تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے عزت مآب جسٹس قاسم خان نے انصاف کے تقاضے پورے کئے تھے اور فاضل اعلیٰ عدلیہ کا احترام عوام کیساتھ ساتھ عام سیاسی کارکنوں کی نظر میں بھی بڑھ گیا تھا۔ احتجاج اور انصاف کے منظر ساتھ ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک ایک المیہ ہوا گھر سے ہائی کورٹ آتے ہوئے اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ پر قاتلانہ حملہ ہوا وہ بہتے لہو کو ہاتھوں سے روکتے تھانہ ہربنس پورہ پہنچے وہیں 1122 پہنچی اور پھر رات گئے سروسز ہسپتال کے فرض شناس ڈاکٹروں کی فرض شناسی سے انکی جان بچا لی گئی وہ پاکستان عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل تھے خود وکلاءبرادری میں انکا بڑا چرچا تھا اور سٹریٹ پاور تحریک اور دھرنا سیاست کے دوران مختلف ٹی وی چینلوں پر اپنی پارٹی اور خاص طور پر ڈاکٹر طاہر القادری کے موقف کو دلائل کیساتھ پیش کر کے ٹاک شوز میں بھی انہوں نے اپنی پہچان کروا لی تھی جان لیوا حملے نے سب کو چونکا دیا۔ ہسپتال میں عیادت کرنیوالوں کا سلسلہ بھی جاری رہا اور ہسپتال سے ہی اپنے سیاسی ساتھیوں کے معاملات کی نگرانی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ایک بات البتہ انکے ہم جیسے احباب نے محسوس کی کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے بعض حلقے امتحان کی انکی اپنی گھڑی میں انکے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے دکھائی نہ دیئے جس طرح وہ اپنے والد محترم چودھری اللہ رکھا کی روائت کو سنبھالتے ہوئے پی ٹی آئی کےساتھ جڑے رہے تھے۔ صورتحال اُس وقت اور عجیب محسوس ہوئی جب پی ٹی آئی کے عدالتی معاملات کا ایک بڑا حصہ ایک اور وکیل کے سپرد کر دیا گیا۔ شاید ڈاکٹر طاہر القادری اور انکے سینئر ساتھیوں کو اشتیاق چودھری پر گذرنے والے المیہ حادثے کا علم ہی نہ ہو اگر ایسا ہے تو پھر یہ اور بھی حیران کن بات ہے کہ اعلیٰ قیادت پارٹی کے مخلص ساتھی گھرانے کے اہم رکن اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے عہدے تک پہنچنے والے سیاسی کارکن کے حوالے سے بے خبر رہے۔ لگتا ہے یہ صرف ہمارا تاثر تھا جب اشتیاق چودھری سے اس حوالے سے بات ہوئی تو وہ بولے : نہیں جی۔ پارٹی قیادت میرے معاملے میں باخبر رہی ہے ایک بڑے مقصد کیلئے سفر شروع کیا جائے تو انفرادی زخموں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ ہماری قیادت نے جس منزل کی طرف سفر کا آغاز کیا ہے ہم جیسے سیاسی کارکن ماضی کی طرح آئندہ بھی خلوص کے ساتھ اپنی قیادت کے ساتھ ہیں۔