موت سے کس کو رُستگاری ہے؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر تنویر حسین
موت سے کس کو رُستگاری ہے؟

حضرت علیؓ اپنے ایک خطبے میں فرماتے ہیں۔ ”اسی حالت میں کہ آسائش زندگانی حاصل ہے (کچھ کام کر لو) نامہ اعمال کھلے ہوئے ہیں۔ تو یہ باز گشت ابھی قبول ہو سکتی ہے۔ گناہ گار کو بلایا جا رہا ہے تاکہ برے کاموں سے باز آ جائے) اور بدکار کو امید دلائی جا رہی ہے (تاکہ بدکرداری سے توبہ کر لے) قبل اسکے چراغ عمل خاموش اور فرصت ہاتھ سے نکل جائے اور مدت ختم ہو جائے اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے اور ملائکہ آسمان پر نامہ اعمال لیکر چڑھ جائیں پس موت سے پہلے چاہئیے کہ آدمی اپنے نفس سے اپنے لئے زندگی سے موت کیلئے اور نیستی سے ہستی کیلئے گزر جانیوالی چیز سے باقی رہنے والی چیز کیلئے نتیجہ حاصل کرے، دنیا میں کام کرے تاکہ آخرت میں کام آئے۔وہ شخص جو خدا سے ڈرتا ہے اور جسے موت سے ایک مدت معینہ کیلئے فرصت اور انجام عمل کیلئے مہلت عطا فرمائی گئی ہے یہ وہ شخص ہے کہ جس نے اپنے نفس کو وہاں بند کر دیا ہے اور اپنی مہار اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے، پس اپنے آپ کو بادبان بند نفس، جو کچھ خدا نے منع کیا ہے، اسی سے روکتا ہے اور اپنی مہار کو اطاعت و فرماں برداری، الٰہی کی طرف کھینچتا ہے“۔یہ اس مقدس ہستی کے الفاظ ہیں جو اپنی پیدائش کے وقت ہی سے آغوش رسول اسلام میں تربیت پاتی رہی۔ ان پاکیزہ الفاظ میں زندگی گزارنے کا ایسا خلاصہ بتا دیا گیا ہے جس سے ہماری دنیا اور عاقبت دونوں سنور سکتی ہیں ہم میں سے ہر کوئی کسی نے کسی قبرستان کے قریب سے گزرتا ہے، سڑکوں، بازاروں اور گلیوں میں سے جنازے گزرتے ہوئے بھی دیکھتا اور اس دنیا سے رخصت ہونیوالوں کے جنازوں میں شریک بھی ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جن میں انسان کو تھوڑی دیر کیلئے یہ خیال آتا ہے کہ اس وقت سے پہلے کہ چراغ کل خاموشی اختیار کر لے فرصت اور وقت ہاتھ سے نکل جائے، مدت ختم ہو جائے اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے، انسان نیک اعمال کرے۔ یہ کیفیت انسان پر صرف تھوڑی دیر کےلئے طاری ہوتی ہے۔ دوسرے ہی لمحے وہ زندگی کی اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے اور وہ سمجھنے لگتا ہے کہ غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی۔ انسان کو حضرت خضرؑ جیسی زندگی بھی کیوں نہ مل جائے تو وقت مرگ اسے یوں محسوس ہو گا جیسے وہ اس دنیا میں ابھی تھوڑی دیر پہلے آیا تھا اور ابھی اس دنیا سے جا رہا ہے۔ ہمارا کوئی خیر خواہ اگر ہم سے پوچھے کہ آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے تو ہم اپنی دنیاوی مصروفیات کا بہانہ بنا کر اپنے تئیں بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ برس ہا برس ملک اس بڑے اور اہم فرض کے ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ 

ہم سب کو علم ہے کہ یہ دنیا ایک عارضی ٹھکانہ ہے ہمیں ہر وقت موت کو یاد رکھنا چاہئیے اور خدائے بزرگ و برتر سے ڈرتے رہنا چاہئیے جن لوگوں کے ہاتھ میں ملک کی تقدیر ہے انہیں اگر آخرت کی فکر لاحق ہو اور انکے دل میں یہ خوف ہو کہ انہوں نے ایک دن اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے تو وہ اپنی ذات سے نکل کر ملک و قوم کی فلاح و بہبود کیلئے کوشاں رہینگے۔ اب تو ہماری مساجد میں ہر نماز کے بعد ایک دعا یہ بھی مانگی جاتی ہے۔ ”اے اللہ تعالی! تو ہمیں صالح اور نیک حکمران عطا فرما“ (آمین) گزشتہ دنوں صبح سویرے بھائی فیض الحسن شاہ کا ٹیلی فون آیا۔ کہنے لگے ڈاکٹر عمران علی گردیزی کی والدہ محترمہ اور میری ممانی جان انتقال فرما گئی ہیں۔ آپا مجیداں کو میں آپا جی کہا کرتا تھا۔ آپا جی مرحومہ میری والدہ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ میری والدہ سے عمر میں بڑی تھیں لیکن میری والدہ کو بھی آپا کہہ کر پکارتی تھیں۔ آپا جی ایک عرصے سے علیل تھیں ہم ان کے ہاں جاتے تو وہ تلاوت کلام پاک اور اورادو وظائف میں مصروف ہوتیں۔ آپا جی درود پاک کا کثرت سے ورد کرتی تھیں اور ہمیں بھی درود پاک کا وردکرنے کی تلقین فرماتی تھیں۔ آپا جی کے والد محترم ہمارے خاندان کے ایک روحانی بزرگ تھے۔
آپ لطیف شاہ صاحب کے نام سے معروف تھے۔ آپ سانگلہ ہل کے نواحی گاﺅں پہاڑی پور سکونت پذیر تھے۔ آپ عبادت گزار اور شب بیدار بزرگ تھے۔ آپکے مرید آپکی دعاﺅں سے فیض یاب ہوتے تھے۔ آپا جی مرحومہ سیرت اور عبادت و ریاضت میں اپنے والد گرامی سے مشابہت رکھتی تھیں۔ آپا جی میرے تایا زاد بھائی محترم علی حسین شاہد صاحب کی شریک حیات تھیں۔ میرے والد محترم بھائی جان کی غیر معمولی ذہانت اور قابلیت کا تذکرہ اکثر کیا کرتے تھے۔ انکی علمی قابلیت اور سیرت کی چمک انکے شاگردوں کو انکی جانب کھینچتی تھی یہ حسن جیسے پرانے عالم فاضل اور شفیق اساتذہ کا رنگ انکی شخصیت میں نظر آتا ہے۔ انکے ہاتھوں سے کئی اقبال بن کر عملی زندگی میں کامیابیاں اور کامرانیاں سمیٹ رہے ہیں انگریزی اردو کے تلفظ کے حوالے سے آپ کو سند گردانا جاتا ہے۔ محترم علی حسین شاہد صاحب کو سانگلہ ہل کے اسی سکول میں تدریسی فرائض انجام دہی کا اعزاز حاصل ہوا ہے، جس میں بطل صحافت مجید نظامی (معمار نوائے وقت) مرحوم و مغفور نے ابتدائی تعلیم حاصل کی بعد ازاں بھائی جان نے لاہور آ کر بہت سے سکولوں میں درس تدریس کے فرائض انجام دیکر اعلیٰ گریڈ میں ریٹائر ہوئے۔ آپ اب بھی اخبار ”نوائے وقت“ کا مطالعہ کرنے میں ناغہ نہیں کرتے۔ ہم جب بھی بھائی جان کے ہاں گئے۔ کھانے کے علاوہ سیپرٹ چائے پینے کو ملتی۔ جس طرح اردو ادب میں ابو الکلام آزاد کی کتاب ”غبار خاطر“ اور معروف ادیب اے حمید (مرحوم و مغفور) کی تحریروں میں چائے کا تذکرہ ملتا ہے اسی طرح محترم بھائی جان کے چائے پینے کا ذوق بھی انہی ادیبوں جیسا رہا ہے۔ بات ہو رہی تھی آپا جی مرحومہ کی۔ آپ نے اپنی اولاد کی جس طرح تربیت کی ہے۔ اسکی نظیر لانا مشکل ہے۔ آپکی ایک بیٹی مصروف افسانہ نگار نزہت زہرہ گردیزی ہے، آپکی ایک بیٹی ڈاکٹر ہے اور باقی پروفیسر ہیں۔ ڈاکٹر عمران گردیزی والدہ کی خدمت کی خاطر سعودی عرب سے پاکستان آ گئے تھے۔ اپنے والد محترم اور والدہ محترمہ کی طرح بہت شفیق اور قابل ڈاکٹر ہیں۔ آپا مجیداں کے جسد خاکی ردا اوڑھ لی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی آپا جی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے۔ کاش ہم انسان ”حضرت علی کرم اللہ وجہہ“ کے قول اس زندگی کی حقیقت کو سمجھیں اور اپنی عاقبت سنوارنے کےلئے نیک اعمال کی طرف توجہ دیں۔ رہے نام اللہ کا!