عزت مآب پوپ فرانسس

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان
عزت مآب پوپ فرانسس

آزادی اظہار سے کسی کو اختلاف نہیں۔ اس کا ہر معاشرے میں احترام ہوتا ہے۔ کسی کی دل آزاری کی دانستہ کوشش کو آزادی¿ اظہار کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ افسوس کہ مغرب میں ایسا چلن جاری ہے۔ نبی کریم کے خاکے شائع کرکے اسے آزادی¿ اظہار کا نام دیا جاتا ہے جس سے اہل اسلام کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ نادانستگی میں کیا گیا ایسا اقدام بھی مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں اور جو دانستہ ایسا کرے تو مسلمانوں میں اشتعال فطری امر ہے۔آزادی اظہار کی بات کرنے والوں نے ہالوکاسٹ کے ذکر تک پر پابندی لگا رکھی۔اس کا مطلب ہے کہ ان کے ہاں بھی آزادی¿ اظہار کے نام پر سب جائز نہیں ہے۔آزادی¿ اظہار کی بھی ایک حد مقرر ہے۔

7 جنوری کو چارلی ہیبڈو کے دفتر میںگھس کر 12 کارکنوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس اقدام کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی۔ حمایت میں کہیں سے کوئی آواز نہ اٹھی۔ 11جنوری اتوار کو چالیس ممالک کے سربراہ پیرس میں جمع ہوئے۔ انہوں نے دس لاکھ افراد کی قیادت کی، ان میں مسلمان بھی شامل تھے۔ اس اجتماع میں چارلی ہیبڈو کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔ فرانسیسی وزیراعظم نے کوشر مارکیٹ کے باہر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم سب چارلی ہیبڈو ہیں۔ اس وقت ماحول سوگوار اور جذباتی تھا اس لئے عالم اسلام نے اس پر بھی خاموشی اختیار کی تاہم مراکش کے وزیر خارجہ صلاح الدین فیروز نے اگلے روز یہ ضرور کہا کہ 40 سربراہان توہین آمیز خاکوں کی حمایت میں جمع ہوئے۔ ہم ایسی تعزیت میں ان کے ساتھ نہیں ہیں۔
توہین رسالت ظالمانہ اقدام ہے۔ اسکی حمایت کرنے والوں نے دنیا کے سامنے خود کو بڑی مہارت سے مظلوم ثابت کر دیا۔ 10 لاکھ افراد کے اجتماع میں تہذیبوں کے مابین دوریاں ختم کرنے اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا۔ اس ریلی کے تیسرے روز چارلی ہیبڈو نے پھر توہین آمیز خاکے شائع کردیئے پہلے اسکی تعداد ہزاروں میں ہوتی تھی اب تیس لاکھ کاپیاں شائع کی گئیں۔ اس کو بھی مغرب آزادی¿ اظہار کا نام دیتا ہے۔ چارلی ہیبڈو کا یہ اقدام اور اسکے حامی عمداً اہل اسلام کے دکھی دلوں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ اس کےخلاف عالم اسلام میں عوامی سطح پر بجا احتجاج کیا گیا تاہم حکمرانوں کی سطح پر خاموشی، بے حسی، بے حمیتی اور بے غیرتی کی ایک مثال ہے۔تاہم ترک صدر طیب اردگان نے اپنے بیان میں کہا کہ گستاخانہ خاکے نفرت پر مبنی ہیں، اس سے مسلم امہ کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ہم اسکی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔ آزادی¿ رائے کا مطلب یہ نہیں کہ شان میں گستاخی کی جائے۔ ہم ایسی حرکات کو برداشت نہیں کرینگے۔
ایک چارلی ہیبڈو کی ظالمانہ جسارت پر بھی 40 ممالک کے سربراہ جمع ہو گئے۔ 30 لاکھ کاپیوں کی اشاعت سے ہر مسلمان کی روح کو جھنجوڑ کے رکھ دیا۔ جمعہ 16 جنوری کو عالمی سطح پر احتجاج کیا گیا۔ اصولی طور پر ہر مسلم حکمران کو اپنے ملک میں ریلیوں کی قیادت کرنا چاہئے تھی۔ پرامن ریلیوں کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جاتا۔ مغرب پر توہین آمیز خاکوں کی حمایت سے بازرہنے اوربین المذاہب ہم آہنگی پر زور دیا جاتا۔مسلمان ممالک کے سربراہان شاہی محلات میں دُبکے بیٹھے رہے۔ شہروں میں احتجاج ہوتا رہا۔ کئی مقامات پر لوگ بے قابو ہوئے اور جلاﺅ گھیراﺅ بھی دیکھنے میں آیا۔ نائیجریا میں فرانسیسی کلچرل سنٹر اور 3 چرچ نذر آتش کر دئیے گئے۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں میں کئی ہلاکتیں ہوئیں۔سربراہ مملکت کی شرکت مظاہروں کے پُر امن رہنے کی ضمانت ہوتی ہے ۔ خاکوں کی اشاعت کے حوالے سے ہم مسلمان مظلوم ہیںمگر اپنے اقدام سے ہم دنیا میں خود کو ظالم ثابت کر رہے ہیں۔ عوام شاہی محلات اور اقتدارکے ایوانوں سامنے اس وقت تک بیٹھے رہیںجب تک حکمران باہر آکر انکی قیادت نہ کریں۔
”برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون اور امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ وہ کسی کو بھی اظہارِ رائے کی آزادی دبانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چارلی ہیبڈو کے نئے شمارے کی چند گھنٹوں کے اندر فروخت کے بعد فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ چارلی ہیبڈو اور اسکی اقدار زندہ رہیں گی۔چارلی ہیبڈو زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ آپ لوگوں کو قتل کر سکتے ہیں لیکن انکے تصورات کو نہیں۔
افسوس ہوتا ہے کہ عالمی لیڈر خود تہذیبوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں۔ ان کا کام بین المذاہب ہم آہنگی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے یہ مذاہب کو تصادم کی طرف لے جا رہے ہیں۔ آپ کو اسلامی تعلیمات پر اعتراض ہے تو مکالمے کے ذریعے یہ سامنے لایا جائے۔ رسول کریم کی تضحیک کیوں؟
مائیکل ہارٹ کون تھا اس سے مجھے کوئی غرض نہیں۔ اس نے سو عظیم انسان کتاب لکھی جس میں آقائے دوجہاں کو دنیا ئے انسانیت میں پہلے نمبر پر رکھا اس لئے وہ میرے لئے قابل احترام ہے۔ لنکنز ان کی میرے دل میں اس لئے جگہ ہے کہ اسکی پیشانی پر میرے نبی کا نام عظیم قانون دانوں میں سرفہرست ہے۔ اسی طرح پوپ فرانسس کی عزت میرے دل میں بڑھ گئی کہ انہوں نے قرآن کا پیغام اپنی زبان میں دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ پوپ فرانسس نے اہل مغرب کو آئینہ دکھایا ہے۔عزب مآب پوپ نے وہ کچھ کہاجس کی کسی مسلم حکمران کو بھی توفیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی اور تہذیبوں کے مابین نفرتیں کم کرنے کی بات کی ہے۔انہوں نے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی ¿اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ کسی مذہب کا مذاق اڑایا جائے کسی کو دوسروں کے مذہب کی تذلیل نہیں کرنی چاہیے، ہرمذہب کاایک وقارہوتا ہے۔ میں نے ہمیشہ اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کی لیکن ایسی آزادی کی لازمی طور پر کچھ حدود ہونی چاہئیں، کوئی بھی شخص ایسا کام نہیں کر سکتا جس سے کوئی دوسرا شخص اشتعال میں آجائے، نہ ہی دوسرے کے عقائد کی توہین کی جائے اور نہ ہی اسے مذاق بنایا جاسکتا ہے۔ ہر ایک کو آزادی حاصل ہے لیکن اس کےساتھ اس کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں لہذا کسی بھی قسم کی آزادی کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ وہ کسی کی تضحیک کا باعث نہ بنے بلکہ انسانیت کا احترام مد نظر رکھا جائے۔ اگر کوئی میری ماں کی توہین کرےگا تو اسے بھی تھپڑ کھانے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔