ایجوکیشنل سکیورٹی پلان کیلئے چند گزارشات

کالم نگار  |  ڈاکٹر راشدہ قریشی
ایجوکیشنل سکیورٹی پلان کیلئے چند گزارشات

خبر ہے کہ سکولز کے گیٹس پر دھمکی آمیز خط وصول ہونے پر والدین اپنے بچوں کو گھر واپس لیجانے لگے ہیں۔ محکمہ داخلہ کی طرف سے بھی تعلیمی اداروں، جیل خانوں اور ائیرپورٹس پر دہشتگردی کے متوقع واقعات کے حوالے سے ریڈ الرٹ جاری ہوئے ہیں۔ ادھر فرانس اور دیگر ممالک میں گستاخانہ خاکوں کی بارہا اشاعت سے عالم اسلام کے جذبات کو برانگیختہ کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ حالات مزید کتنا خون خرابہ کرینگے سر زمین پاک پر دہشت گردی کی لہر کو ختم کرنے کیلئے افواج پاکستان کی کاوشیں و قربانیاں قابل تحسین و فخر سہی بحرحال انتظامی سطح پر دہشتگردی کیخلاف جنگ کی کامیابی ٹھوس پلاننگ و اقدام کی متقاضی نظر آ رہی ہے۔ وطن عزیز کے مقدس مقامات و عوامی سپاٹس بری طرح دہشتگردی کی لپیٹ میں ہیں۔ مائیں اس وقت تک خوف میں رہتی ہیں جب تک ان کا بچہ مدرسے سے بخیر و عافیت گھر نہیں پہنچ جاتا۔

16 دسمبر کو پشاور آرمی پبلک سکول میں جس طرح نونہالان وطن کا خون ہوا اب بلاشبہ یہ تعلیمی ادارے جو حصول علم کا گہوارہ تصور کئے جاتے رہے ہیں یہ مکتب جو ذہن کے اندھیروں سے نکال کر نسل نو کو روشنیوں کی جانب سفر کے راستے سمجھے جاتے رہے ہیں اب دہشتگردی کے مرکز معلوم ہونے لگے ہیں۔ اس احساس کے ساتھ مدرسوں کو بند کر کے قوم کی تعلیم کا ناش کرنا ملک و ملت کیلئے خطرناک ہے۔ یہ تعلیمی اداروں کی انٹگرٹی کا مجروح ہونا ہے ملک کی تمام صوبائی حکومتوں نے خصوصاً حکومت پنجاب نے اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ تعلیمی اداروں کو خوف و ہراس کے احساس سے نکالتے ہوئے 12 جنوری کو انہیں ری اوپن کرنا حکومت کا مستحسن فیصلہ ہے۔ اس وقت ادارے اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور مڈٹرم و دیگر انواع کے امتحانی سلسلے جاری ہےں۔
حال ہی میں پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود کی سرپرستی میں تعلیمی اداروں کے سکیورٹی پلانز کو قابل عمل بنانے کیلئے تعلیمی اداروں کے سربراہان کیساتھ اجلاس ہوا جس میں اہم ہدایات جاری کی گئیں۔ اس وقت رانا نسیم اختر ڈائریکٹر کالجز اور جناب منظور حسین نیازی صاحب و دیگر اعلیٰ افیسر ان کی زیر نگرانی بیشتر تعلیمی اداروں میں 6 سے 8 فٹ بلند دیواریں تعمیر کرنے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ ان دیواروں پر دو دو فٹ خار دار تاریں بھی لگا دی گئی ہیں۔ ہر ادارے میں کم از کم 3 ٹرینڈ گارڈز کی تعیناتی بھی مقصود تھی جس پر ابھی کام ہو رہا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ معاملے کی سنجیدگی کے پیش نظر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ وحدت روڈ کالج کی پرنسپل پروفیسرفرح ملہی اپنے کالج کے سٹاف کے ہمراہ خود گیٹ پر کچھ گھنٹے موجود رہتی ہیں جس سے گارڈز و سٹاف کا مورال اپ رہتا ہے اور سکیورٹی ڈیوٹی پہ معمور افراد زیادہ مستعد بھی ہو جاتے ہیں۔ اس پریکٹس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر محکمہ تعلیم کے افسران بالا خود اداروں میں آ کر کچھ وقت طلباءکے ساتھ گزاریں اور حکومتی سکیورٹی پلان و معاملات سے آگاہ کریں تو طلباءکے ساتھ والدین کو حوصلہ ملے گا اور تعلیمی اداروں میں وحشت کا جو ماحول اس وقت بن چکا ہے اس سے بھی باہر نکلنے میں مدد ملے گی۔ حکومتی نمائندوں اور خود وزیر اعلیٰ صاحب کو بھی خصوصی طور پر اہم (انڈر تھریٹ) تعلیمی اداروں کے دورے ترتیب دینے چاہئیے تاکہ عوام کے اندر یہ احساس پیدا کیا جا سکے کہ ہمارے لیڈر و حاکم خود قوم کے معماروں کی حفاظت پر معمور ہیں۔
دوسری میری تجویز یہ ہے کہ ہر گلی، ہر محلے اور ہر علاقے میں مقامی پولیس کی شرکت سے ڈیفنس فورس کا قیام عمل میں لایا جائے جو اپنے علاقے کے سکیورٹی معاملات پر دن رات نظر رکھے۔ مدرسوں کی بلڈنگز کا 24 گھنٹے پہرہ ڈیفنس فورس کے خفیہ اداروں کے ذمہ دے دیا جائے جو کسی طرف سے کسی بھی قسم کی مشکوک حرکت پر فوری کارروائی عمل میں لائیں۔ مشکوک اشیاءمواد و افراد پر نظر رکھیں۔ یہ فورس مختلف شفٹوں میں بھی کام کر سکتی ہے۔ ڈیفنس سکیورٹی فورس ادارے کی انتظامیہ کے بشمول حکومتی نمائندوں کے زیر انتظام ہو۔ تنخواہ دار ہو اور مقامی حکومت ہی اسکی کارکردگی کیلئے جوابدہ ہو۔
یورپین یونین میں شامل بیشتر ممالک میں پرائمری گریڈز ہی سے بچوں کو فوجی ترتیب دینے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ بچوں کو کسی بھی حادثے یا مد مقابل دشمن سے نبٹنے کی ٹریننگ کو کمپلسری قرار دیا گیا ہے مگر ہمارے ہاں سکول کا آغاز اسمبلی و دعا تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ مدرسوں میں پہلا پریڈ سکاﺅٹس ٹریننگ کیلئے وقف کر دیا جائے۔ اللہ کرے کہ پشاور آرمی پبلک سکول کے بعد اب ہمارے بچے محفوظ ہو جائیں اور کوئی ایسا دوبارہ دل شکن واقعہ نہ ہو ۔ ہم خواہ کتنے بھی مضبوط سکیورٹی کے اقدامات کیوں نہ کر لیں اگر ہماری انٹیلی جنس کمزور ہو گی تو ہمارے اقدامات کارآمد نہ ہو پائینگے.... اور اگر ہم بروقت متحد نہیں ہوں گے تو ہماری انٹیلی جنس کسی کام کی نہ ہو گی؟
اب تک ہمارے ملک میں جن جن مقامات پر جو جو حملے ہوئے تجزیہ بتا رہا ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ ہی خفیہ کا ”چوکنا“ اور کسی بھی خطرے کا ”بروقت مقابلہ“ کرنا ہے۔ محکمہ تعلیم حکومت پنجاب میں مخلص و باہمت افسران کا قطعی فقدان نہیں سکولز کالجز انتظامیہ سے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے افسران اعلیٰ کا اکیڈمک مسائل کے حوالے سے مسلسل رابطہ بھی رہتا ہے اگر ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو مناسب فنڈنگ کی جائے تو یہ ادارہ متعلقہ تعلیمی اداروں کیلئے انٹیلی جنس و مستعد رضا کار گارڈز کا بہتر انتظام کر سکیں گے ۔ تعلیم کیلئے زندہ رہنا ضروری ہے تو تعلیم میں ہی زندگی ہے۔
٭....٭....٭