الفاظ کا گورکھ دھندا

کالم نگار  |  فخر الدین کیفی
الفاظ کا گورکھ دھندا

بچہ بچپن سے نئے نئے الفاظ سیکھتا ہے۔ اس میں اردو انگریزی کی قید نہیں۔ اردو کی بجائے ہم پاکستانی مادری زبان کہیں تو زیادہ ٹھیک رہے گا۔ نئے الفاظ ہو سکتا ہے قبر میں جانے تک سیکھے جاتے ہوں لیکن ہم اتنی باریکیوں میں نہیں پڑتے کیونکہ اپنے تھوڑے بہت مطالعے کے پیش نظر ہم اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ ہماری اردو اور انگریزی کی ووکیبلری (Vocabulary) ٹھیک ٹھاک ہے لیکن پہلا جھٹکا ضیاءالحق کے مارشل لاءکے ساتھ لگا جب کان اکاﺅنٹی بلیٹی(Accountability) سے اس طرح آشنا ہوئے کہ رات دن میڈیا میں یہ لفظ تواتر سے ذہن پر کچوکے مارتا رہا۔ بہت سوچا کہ اس سے پہلے کبھی اس لفظ سے واقفیت رہی ہے لیکن یاد نہیں آیا ۔۔۔ ہو سکتا ہے سرسری طور پر سُنا ہو لیکن اس تواتر سے نہیں کہ جڑوں میں بیٹھ جائے۔
اس کے بعد دورِ پرویزی میں جب میڈیا ٹاک شوز کا نعم البدل ٹھہرا اورنام نہاد دانشوروں کا مرہون منت ہوا تو دو اور الفاظ سے روشناس ہوئے۔۔ لکونا (Lacuna) اور ایمیکیبلی (Amicably)۔ تقریباً ہر ٹاک شوز میں اینکر اور دانشور ان کا استعمال کرتے رہے۔ جمہوری دور میں بھی نئی نئی ترکیبیں سُنیں مثلاً کونسٹی ٹیوشنل ڈکٹیٹر شپ یا فرینڈلی اپوزیشن۔
ان الفاظ کا ذکر ہم نے تذکرتاًً کر دیا ہے ورنہ یہ کالم لکھنے کی وجہ لفط پیج (Page) ہے جس کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے جس پر ہمیں اعتراض نہ ہوتا لیکن اینکر حضرات نے ہی نہیں، دانشوروں اور سیاستدانوں نے بھی اسے اپنا ہی نہیں لیا بلکہ اس کے اردو معنی ”صفحہ“ کو بھی پیج کا نعم البدل سمجھ لیا اور کہتے نہیں تھکتے کہ ”اب دونوں مخالفین ایک ہی صفحے پر ہیں“ جبکہ بہتر ہوتا کہ کہتے اب دونوں کا ایک ہی مو¿قف ہے۔ شکر ہے کہ پیج جس کا دوسرا معنی ”اٹینڈنٹ یا خدمت گار“ بھی ہوتا ہے استعمال نہیں ہوا۔ کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو انگریزی میں ہی ٹھیک لگتے ہیں لیکن ہمارے جاہل دانشور انہیں مشرف بہ اردو کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ایک ہی پیج پر ہونا انگریزی میں جتنا اچھا لگتا اردو میں ایک ہی صفحے پر ہونا معیوب لگتا ہے۔
اب بات نکلی ہی ہے تو ایک اور لفظ”بولڈ“ (Bold )کا بھی ذکر کر دیتے ہیں کہ اس کا استعمال انگریزی میں بھی درست نہیں لگتا۔ اس کے لغوی معنی تو بے خوف یا نڈر ہی ہیں لیکن یہ فلموں میں بے ہودہ یا نیم برہنہ کرداروں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بے ہودہ ڈائیلاگ اور سین فلمی دنیا میں بولڈ کہلاتے ہیں جبکہ بولڈ کی بجائے بے حیا یا بے شرمی (Shameless) زیادہ بہتر ہے۔ ہالی ووڈ کا تو معلوم نہیں کہ ان کو شرم سے کیا علاقہ لیکن بھارت میں یہ لفظ ”بولڈ اداکارہ“ سب سے پہلے شاید پروین بابی یا زینت امان کے لئے استعمال ہوتے ہوئے ملکہ شرارت یا شراوت تک کیا پہنچا کہ اب وہاں کی ہر اداکارہ ”بولڈ“ ہو رہی ہے۔ وہاں کی فلموں میں بولڈ سین ہی نہیں بولڈ ڈائیلاگ بھی کچھ زیادہ ہی ہو گئے ہیں جن کی رو سے ماں بہن کی گالیاں عام بکی جاتی ہیں کیونکہ نڈر یا بے خوفی تو اچھی چیز ہوتی ہے تو بولڈنیس کیوں نہ اپنائی جائے۔
شکر ہے کہ ابھی ہمارا پاکستانی معاشرہ اتنا بے حیا نہیں کہ بے غیرتی کو بے خوفی کے طور پر پیش کرے۔ اس بولڈنیس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ حال ہی میں ایک اچھے موضوع پر بنائی گئی فلم ”پی کے“ (PK) ہماری نظروں میں اپنے چند بےہودہ ڈائیلاگ اور سین کی بدولت وہ مقام نہ حاصل کر سکی جس کی وہ متقاضی تھی۔ ہماری سمجھ سے بعید ہے کہ اگر فیملی کے ساتھ دیکھتے ہوئے کسی بچے نے ڈانسنگ کار، یا پاپولیشن کنٹرول والے سین کے بارے میں استفسار کر دیا تو والدین کس طرح سمجھائیں گے۔ عامر خان نے مسلمانوں کا دفاع کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کو تو خاموش کر دیا لیکن کیاہمارا میڈیا عامر خان سے ان بے حیائی کے سین اور ڈائیلاگ کے بارے میں استفسار کرتے ہوئے اپنی بے خوفی کا مظاہرہ کر سکے گا۔