عمران خان کی مطالبات کی نئی لسٹ

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
عمران خان کی مطالبات کی نئی لسٹ

پاکستان کی تاریخ اور تحریک انصاف کی سیاست کا طویل اور مقبول ترین دھرنے کا پارٹ ون تو2013 کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف تھا۔ مگر اب کی بار عمران خان اور پی ٹی آئی عوامی مسائل کیلئے مسلم لیگ ن کی حکومت کو مطالبات کا پرچہ تھما چکی ہے۔

ڈیرہ مراد جمالی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے کہ وزیراعظم اپنے خاندان کے اثاثے ظاہر کریں، پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ بیرون ملک سے واپس لایا جائے، بجلی 3 روپے فی یونٹ سستی ، پیڑول اور مٹی کے تیل کی قیمت میں پانچ پانچ روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے کمی کی جائے،گیس پر لگائے گئے ٹیکس واپس لیے جائیں، ایف بی آر میں ریفارمز کی جائیں، پاکستان سٹیل ملزاور پی آئی اے کی نجکاری کے بجائے انتظامیہ کو ٹھیک کیا جائے اور تمام سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جائیں۔ عمران خان کے مطالبات جائز ہیں ۔
کیونکہ دو برسوں میں عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ70 تا 80 فیصد کم ہو چکے ہیں اور یہ 150 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 30 ڈالر فی بیرل تک گر گئے ہیں، جو پچھلے دس پندرہ برسوں میں ان مصنوعات کی قیمتوں کی کم ترین سطح ہے۔ قیمتوں میں اس کمی کا فائدہ عام آدم کو پہنچایا تو گیا ہے۔ یعنی ملک میں پٹرولیم کی قیمتیں کم کی گئی ہیں۔ لیکن عالمی منڈی میں کمی کی نسبت سے نہیں، اس سے کم پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مہنگائی کا گراف نیچے آنا چاہیے تھا۔ جو نہیں آیا
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر حکومت کو دھیمی سی احتجاجی دھمکی دی ہے۔ مگر حکومت کے رویہ سے لگتا ہے کہ وہ عمران خان کی نہ تو دھمکیوں سے خائف ہے نہ عمران خان کی جانب سے پیش کیے والے مطالبات کو لے کر سنجیدہ ہے۔ مسلم لیگ ن یہ سمجھتی ہے کہ جب پارٹ ون کے دھرنے میں کسی ایمپائر کی انگلی نہیں اٹھی تھی۔ تو اب عمران خان کسی کی آشیر بادکے بغیرحکومت کے تخت کو ہلا بھی نہیں پائیں گے اور پارٹ ٹو دھرنا اگر ہو بھی جاتا ہے تو بقول پرویز رشیدکے اس کا حال بھی پارٹ ون جیسا ہی ہو گا۔ سوال یہاں حکومت کے رویے کا نہیں سوال یہ ہے کہ عمران خان ان کے مطالبات کو لے کر سنجیدہ ہیں یا نہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ اگر صرف پوائنٹ سکورنگ ہے سیاست کو زندہ رکھنے اور آئندہ الیکشن میں ووٹ مانگنے کیلئے ہے یا پھر عمران خان سنجیدہ ہیں تو یقین مانیں مجھے بالکل نہیں لگتا کہ عمران خان یا پھر ان کی پارٹی عوام کے ان ایشوز کو لے کر سنجیدہ ہے ۔ اگر باالفرض سنجیدہ ہو بھی جائے تو کیا پی ٹی آ ئی ا س پوزیشن میںہے کہ وہ دھرنے کی ایک اور قسط کو ٹیلی کاسٹ کرے تو مجھے اس کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں ۔ پی ٹی آئی اپنے اندرونی محاذوں پر تو ابھی پورا نہیں اتر پا رہی ہے۔2013 کے الیکشن میں جو سیاسی ناپختگی اور تنظیم سازی کا فقدان تھا وہ آج بھی ہے۔ پہلے پارٹی الیکشن کی ناکامی کے بعد اب دوسری بار پارٹی الیکشن کروانے جارہی ہے ۔ سنا ہے کہ ایک بار پھر جسٹس وجیہ الدین نے پہلے پارٹی الیکشن کی طرح اس الیکشن میں بھی خدشات کا اظہار کیا ہے ۔ مجھے خبر ملی ہے کہ جہانگیر ترین کے حلقے سے پارٹی میں بہت سے لوگ ممبرز رجسٹر ہو رہے ہیں۔ اس کا فائدہ تو صاف ظاہر ہے کہ پارٹی الیکشن میں جہانگیر ترین یا اس کے حامی کو ہی ہو گا ۔ تو کیا یہ بھی علیم خان این اے 122 کے حلقے کی طرح پری پول پارٹی الیکشن میں ریگنگ ہے ۔ ان سب سے گزارشات کا مقصد یہ تھا کہ اب اس وقت پی ٹی آئی کی اپنی پارٹی کی سیاست کہاں سٹینڈ کرتی ہے جو مطالبات عمران خان صاحب کر رہے ہیں اور منظور نہ ہونے کی صورت میں سٹرکوں پر آئیں گے یا نہیں اور اگر آئیں گے تو ان کی پارٹی خود تیار ہے ایسا کوئی ایڈونچر کرنے کیلئے یا نہیں
لیکن کیا ہے کہ سیاست میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا اور نہ ہمیشہ دشمن ہی رہتا ہے اور عمران خان بھی اس سیاست کا اب حصہ ہیں ۔ ایک عالمی شہرت یافتہ سیاستدان نے کیا خوب کہا تھا
Nikita khurshchev said
Politicians are the same all over.They promise to build a bridge even where there is no river.