سیاست میں آئیٹم سانگ اور عاشقی کا مستقبل

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
سیاست میں آئیٹم سانگ اور عاشقی کا مستقبل

سیاسی مرد کی زندگی میں کسی عورت کے آجانے سے سیاست میں کچھ نہ کچھ ہلچل ضرور پیدا ہوتی ہے۔ ایسا شروع سے ہی ہوتا آیا ہے۔ مثلاً قبل مسیح کی ایک سیاسی عورت جو حسن کے لئے ایک تاریخی حوالہ بن گئی قلوپطرہ تھی۔ وہ سکندر اعظم کے بعد مصر کی سرزمین پر فرعونی سلطنت کی آخری ایکٹو حکمران تھی۔ جب وہ پہلی مرتبہ مصر کی حکمران بنی تو کچھ عرصے بعد ہی شاہی سازشوں کے ذریعے اُسے تخت سے محروم کردیا گیا۔ حکومت چلے جانے کا دکھ اور غصہ اُس وقت بھی اُتنا ہی تھا جتنا آج کل ہم دیکھتے ہیں۔ اقتدار دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ملکہ حسن قلوپطرہ نے اُس وقت کی سپرپاور رومن امپائر کے خطرناک، طاقتور اور لیتھل جنرل جیولیس سیزر کو اپنے حسن کی طرف متوجہ کیا۔ جیولیس سیزر پہلے ہی دو بیویوں کا شوہر تھا لیکن اُس نے قلوپطرہ سے شادی اور اُسے دوبارہ تخت دلوانے سمیت ملکہ کی سب خواہشات پوری کردیں۔ ہسٹری کے کچھ اہم تجزیہ نگاروں کے مطابق ناقابل یقین حسن کی مالک قلوپطرہ کچھ اور ہونے سے زیادہ ڈپلومیٹک تہہ دار شخصیت کی مالک تھی۔ اُس کے عاشقانہ تعلقات میں سیاسی ایجنڈہ نمایاں تھا۔ وہ جان چکی تھی کہ جیولیس سیزر کی فوجی طاقت ہی اُسے مصر کے تخت پر دوبارہ بٹھا سکتی ہے۔ ماڈرن ہسٹری میں سیاست، حسن اور عشق کی لرزہ خیز داستانوں میں لیڈی ڈیانا کی کہانی بھی بہت اہم ہے۔ خواب و خیال سے بھی زیادہ دلفریب لڑکی ڈیانا برطانوی شہزادہ چارلس کو بھاگئی۔ ڈیانا شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ عشق وقتی طور پر جیت گیا اور روایات کے سانپ کچھ وقت کے لئے بلوں میں چلے گئے مگر موقع ملتے ہی شاہی روایات کی کینہ پروری نے لیڈی ڈیانا اور شہزادہ چارلس کے تعلقات کو ڈس لیا۔ کچھ خبروں کے مطابق انہی قدامت پسند رسم و رواج نے طلاق کے بعد لیڈی ڈیانا کے دوسرے مرد سے ناجائز تعلقات کو شاہی خاندان کی بے عزتی سمجھتے ہوئے تعلقات کے ساتھ ساتھ بیسویں صدی کی اُس حسین پری کی زندگی بھی ختم کردی۔ نہ جانے کیوں لیڈی ڈیانا شہزادہ چارلس کی جگہ اپنے بیٹے ولیم کو برطانیہ کا بادشاہ دیکھنا چاہتی تھی۔ امریکی صدر کلنٹن اور وائٹ ہائوس کی 22 سالہ نازک سی دلربا افسر مونیکا کی داستان بھی عجب داستان ہے۔ یہ کہاں سے شروع ہوئی پتہ نہیں لیکن کہاں ختم ہوئی یہ سب جانتے ہیں۔ مونیکا کی وجہ سے صدر امریکہ کلنٹن مواخذے سے تو بال بال بچ گئے لیکن انٹرنیشنل بدنامی میں اُن کا بال بال جکڑا گیا۔ قانونی اور اخلاقی خنجروں کا ذکر نہ بھی کریں تو طنز و مزاح کے تیروں نے کلنٹن کو چھلنی کر دیا۔ مثلاً واشنگ پائوڈر کے ایک اشتہار میں کہا گیا کہ اگر کلنٹن مونیکا کے اُن نیلے کپڑوں کو اس واشنگ پائوڈر سے دھو دیتے تو مونیکا کے پاس کوئی ثبوت نہ رہتا۔ پاکستانی سیاست میں بھی کئی حکمرانوں اور خواتین کے درپردہ تعلقات کی گرما گرم افواہیں اور الزامات موجود ہیں جن کی دستاویزی تصدیق ممکن نہیں ہے۔ مثلاً وزیراعظم محمد علی بوگرہ جب امریکہ میں سفیر تھے تو اُن کے سٹاف میں ایک نوجوان لبنانی سٹینوگرافر لڑکی عالیہ تھی۔ محمد علی بوگرہ کی نظرکرم عالیہ پر گہری ہوتی گئی۔ وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے عالیہ کو اپنا سوشل سیکرٹری مقرر کرلیا۔ وہ وزیراعظم کے ساتھ اُن کے آفس روم میں ہی بیٹھتی۔ ان تعلقات پر جب چہ میگوئیاں شروع ہوئیں تو محمد علی بوگرہ نے عالیہ سے شادی کر لی۔ جنرل یحییٰ خان کے باب میں جنرل رانی کا نام لینا ہی کافی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نصرت بھٹو سے دوسری شادی بھی ایک کھلی کتاب ہے۔ مصطفی کھر کی پنجاب کی گورنری کے دوران لاہور سے کالج کی چند لڑکیاں اغواء ہو گئیں جو لاہوریوں کے شدید احتجاج کے بعد گورنر ہائوس سے برآمد ہوئیں۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی بھی کئی سنی ان سنی کہانیاں بھی ہیں۔ کہتے ہیں کہ وزیراعظم بننے سے کافی پہلے یوسف رضا گیلانی بھی ایک من موہنی نوجوان گلوکارہ کے ساتھ نظر آتے تھے۔ پرانی باتوں کے مطابق وزیر خارجہ گوہر ایوب رات کے اندھیرے میں نوجوان لڑکی کے ساتھ اسلام آباد میں دامنِ کوہ کی اکیلے سیر کررہے تھے کہ ڈاکوئوں نے گاڑی روک لی اور لڑکی کے زیوارت اور پرس وغیرہ چھین لیا۔ پتہ نہیں وہ ضرورت مند ڈاکو تھے یا وزیرخارجہ کی یہ خبر اخبارات کی شہ سرخی میں لگوانا چاہتے تھے۔ جنرل مشرف کی اس حوالے سے بات کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہو گا کیونکہ ان کا عہد تو اعلانیہ طور پر سوفٹ امیج والا روشن خیال دور تھا۔ پاکستانی سیاست میںاور بھی ایسے کئی غیر مصدقہ واقعات موجود ہیں۔ البتہ عمران خان اور عائشہ گلالئی کے تازہ کرنٹ افیئر کے درست ہونے پر عائشہ گلالئی زور دیتی ہیں۔ عائشہ گلالئی کے معصوم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ جو بھی ہو لیکن بہت سے سوالات میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ عمران خان کے بارے میں جو دنیا جانتی ہے کیا وہ عائشہ گلالئی نہیں جانتی تھیں؟ عائشہ گلالئی کے الزام سے عمران خان کا جو ہو سو ہو مگر اُن کے اِس اقدام سے آئندہ مرد اور خاتون کے درپردہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ خاتون کے ساتھ میسجنگ یا فون پر باتیں کرتے ہوئے اب مرد کے ذہن میں یہ ضرور ہو گا کہ کسی بھی ناچاقی کی صورت میں اُس کی بدنامی کے لئے یہ باتیں پبلک کی جا سکتی ہیں۔ ایک دانشور کے مطابق لڑکی کا مرد پر الزام لگاتے ہوئے یہ ثبوت کافی ہوتا ہے کہ وہ ایک لڑکی ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں دن رات محبت اور دوستی کی میسجنگ اور فون کالز ہوتی ہیں جن سے موبائل کمپنیاں بے تحاشہ پیسہ کماتی ہیں۔ عمران خان اور عائشہ گلالئی کا فون سکینڈل موبائل کمپنیوں کے بزنس پر اثرانداز ہونے کے ساتھ ساتھ عاشقوں کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اکثر اوقات فلم کو پاپولر کرنے کے لئے سٹوری سے ہٹ کر شوخ یا نیم عریاں گانا فلم میں ڈالا جاتا ہے جسے آئیٹم سانگ کہتے ہیں۔ سیاست میں مَردوں اور خواتین کے درپردہ تعلقات بھی ایک آئیٹم سانگ ہی ہیں جن کا مستقبل اب ٹیکنالوجی کے ہاتھ میں ہے۔