محترم نواز شریف اور انقلاب؟

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
محترم نواز شریف اور انقلاب؟

نواز شریف اسلام آباد سے سفر کے مراحل طے کرتے کرتے لاہور کے قریب ہوتے گئے تو ان کے لہجے کی تلخی کی شدت بھی بڑھتی گئی اور گوجرانوالہ ’’ٹپتے‘‘ ہی انہوں نے ’’انقلاب‘‘ کا نعرہ لگا دیا۔ ویسے سچی بات یہ ہے کہ لفظ انقلاب اور نواز شریف کی شخصیت میں کوئی میل ملاپ دکھائی نہیں دیتا اور لفظ انقلاب شہباز شریف کی شخصیت کے ساتھ بھی ملتا جلتا نہیں دکھائی دیتا حتیٰ کہ ان کے فیملی کے کسی شخص کے ساتھ لفظ ’’انقلاب‘‘ کا تعلق نہیں بنتا… اور یہ بات انہوں نے اپنے ہر دور حکومت کے انداز حکمرانی میں ثابت بھی کی۔ بحیثیت وزیراعظم انہوں نے فائلیں دیکھنے‘ پڑھنے اور ان پر غور و فکر کر کے فیصلے کرنے والی مشقت شاید ہی کبھی کی ہو گی۔ البتہ دو باتیں طے شدہ ہیں کہ مزاح انہیں پسند ہے اور مزاحیہ اور جملے باز شخصیات ان کی پسندیدہ ہیں جبکہ شہباز شریف کو حبیب جالب کی نظم ’’میں نہیں مانتا‘‘ جو کہ ضیاء الحق کے دور میں لکھی گئی ترنم سے یاد ہے اور یہ ان کی پسندیدہ نظم ہے جلسے جلوس میں روح پھونک دیتی ہے مگر ان کی سوٹڈ بوٹڈ شخصیت کی خوبصورتی میں نظم ’’انقلابی‘‘ ہو کر بھی ’’انقلابی‘‘ نہیں رہتی اور پھر کچھ لوگوں کے ذہنوں میں ان کے بڑے بھائی نواز شریف کے ضیاء الحق کے ساتھ مشفقانہ تعلقات بھی آ جاتے ہیں لیکن پھر ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق سے بے اعتنائی بھی سامنے آ جاتی ہے لہذا نظم پرتاثیر نہیں رہتی۔ محترم نواز شریف نے ’’انقلاب‘‘ کا لفظ بول تو دیا ہے آج میں انہیں سمجھاتی ہوں کہ لفظ ’’انقلاب‘‘ کہاں سے سیکھا جاتا ہے؟ اور انقلاب کیسے برپا کیا جا سکتا ہے؟ ایک مرتبہ ایران کے صدر پاکستان آئے تو ان سے صحافیوں نے سوال کیا کہ انقلاب ایران کے لئے دلوں میں تڑپ کس نے پیدا کی تو ایران کے صدر نے جواب دیا ’’ستما نمی دانید اقبال لاہوری؟‘‘ اور اقبال لاہوری بھی تھے اور کشمیری بھی تھے۔ نواز شریف بھی لاہوری ہیں اور کشمیری بھی مگر اقبال کے فلسفہ خودی کو نہیں جانتے اور انہوں نے فکر اقبال کا مطالعہ نہیں کیا اور خاص طورپر اقبال کی فارسی شاعری کو ترجمہ کروا کر کسی استاد گرامی سے پڑھنے کی زحمت نہیں کی ورنہ لیڈر کے طورپر ان کی تربیت بھی ہو جاتی اور انقلاب کا نعرہ ان کے منہ پر اچھا بھی لگتا لیکن یہ خاصا محنت طلب کام تھا لیکن یہ محنت کام کیسے آتی ہے۔ یہ واقعہ دیکھئے کہ یہ انقلاب ایران کے دنوں کی بات ہے کہ جب کمیونسٹوں نے ایران کی یونیورسٹیوں پر چھا جانے کی کوشش کی تو آقائے شریعتی اور ان کے ساتھیوں نے انہیں ’’کلام اقبال‘‘ سنانا شروع کر دیا اور پھر اقبال کے اشعار کی تشریح بھی فرمائی تو لال پگڑیوں والوں نے ’’لال‘‘ رنگ بدل دیا۔
انقلاب کا نعرہ لگانے والوں کو اقبال کی شاعری ہی نہیں بلکہ تشریح بھی پڑھنا پڑے گی اور اتنی پڑھائی کرنے کے لئے سب سے پہلے ’’سادہ غذا‘‘ کھانے کے نسخہ پر عمل کرنا پڑے گا اب تو باہر کے ممالک میں بڑے بڑے حکمران ’’مودی‘‘ کی دعوت کرتے ہیں تو چار کرسیوں اور ایک میز پر تین چار ڈشیں پڑی ہوتی ہیں اور اہم امور معاملات پر گفتگو ہوتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ درمیان میں ’’کاروباری معاملات‘‘ نہیں ہوتے ورنہ سب جانتے ہیں کہ بزنس حاصل کرنا ہو تو کبھی کبھی بڑی بڑی پرتعیش دعوتیں کرنا پڑتی ہیں۔ ہمارے ہاں طاہر القادری اگر موسمی پرندوں کی طرح اپنے ملک میں نہ آیا جایا کریں بلکہ زندگی ادھر ہی وقف کر دیں تو وہ کافی حد تک ’’انقلابی‘‘ ہیں جبکہ عمران خان نے بھی اپنی روش بہتر کر لی ہے اور خاص طورپر ’’کرپشن‘‘ کے خلاف اور اداروں میں اقرباء پروری کی بھرمار کے خلاف آواز اٹھا کر عوام میں ’’عزت‘‘ بھی کمائی ہے مگر اب یہ عمران خان پر ہے کہ وہ اپنی ’’کمائی‘‘ کو خود برباد نہ کرے کیونکہ اس پر ’’پٹھانیت‘‘ طاری ہوتی ہے تو جو عوام جوش و خروش سے اس کے پیچھے بھاگ رہی ہوتی ہے ان کو وہ مایوس کر دیتا ہے۔ امید ہے اب وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے اور قائداعظم کی طرح بڑا لیڈر بننے کے لئے ’’صبرجمیل‘‘ اختیار کریں گے البتہ ’’انقلابی انقلابی‘‘ سے وہ دکھائی دے رہے ہیں۔
بات نواز شریف کے ’’انقلاب‘‘ کے نعرہ لگانے کی ہو رہی تھی تو چینی جو کہ سست الوجود قوم ہوا کرتی تھی انہوں نے انقلاب برپا کیا تو آج ’’سپرپاورز‘‘ میں شامل ہو گئے ہیں اور آج ہمیں بھی ’’سی پیک‘‘ کی کامیابی سے بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں۔ چین میں انقلاب لانے کے لئے ان کے لیڈر ماؤزے تنگ نے بڑی عظیم جدوجہد کی تھی۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا تھا کہ ’’جو کوئی انقلابی لوگوں کی حمایت کرتا ہے وہ انقلابی ہے‘ اور جو کوئی سامراجیت‘ جاگیرداری‘ افسر شاہی اور سرمایہ داری کی حمایت کرتا ہے تو وہ انقلابی قوتوں کا دشمن ہے‘‘ ان لائنوں کے بعد انہوں نے صحیح قسم کے انقلابی کی تعریف بھی کر دی تھی کہ وہ کیسا ہوتا ہے؟ لیکن پہلے ہی سمجھ لیں کہ ’’سرمایہ داری‘‘ نظام کو پسند کرنے والا یا ’’سرمایہ دار‘‘ انقلابی نہیں ہو سکتا اور جو اس نظام کی حمایت کرتا ہے یا خود سرمایہ دار ہے وہ دراصل انقلابی قوتوں کا بھی دشمن ہے۔ لہٰذا نواز شریف نہ انقلاب لا سکتے ہیں اور نہ کسی تبدیلی یا انقلاب کے حامی ہو سکتے ہیں۔ اب آخر میں‘ میں ’’انقلابی‘‘ ہونے کی تعریف بھی بتا دوں۔ ماؤزے نے کہا تھا کہ ’’جو کوئی بھی الفاظ کے ذریعے ’’انقلابی‘‘ لوگوں کی حمایت کرتا ہے لیکن اپنے عمل میں اس کے خلاف ہے تو وہ فقط زبانی طورپر انقلابی ہے لیکن جو کوئی عمل اور الفاظ دونوں کے ذریعے انقلاب پسندوں کا حامی ہے وہ صحیح معنوں میں انقلابی ہے‘‘۔
پاکستان میں اب تبدیلی‘ انقلاب لانے کے لئے محض الفاظ یا خواہشات کے ذریعے یہ واقعہ ممکن نہیں ہو سکے گا بلکہ الفاظ اور عمل دونوں کے ذریعے حمایت کی جائے گی تو صحیح معنوں میں کوئی ’’انقلابی‘‘ بنے گا۔ اور ہم الفاظ اور عمل دونوں کے ذریعے انقلابی ہیں خاص طورپر گوجرانوالہ کے واقعہ کے بعد جس میں ’’بچہ‘‘ مار دیا گیا اور جلوس گے بڑھ گیا اور اب یہ کیا جائے گا کہ بچے کے خاندان والوں کا منہ پیسوں سے بھر دیا جائے گا۔
یہ کہتی ہے زراندازوں کی حکمت
وہیں پہنچو جدھر افلاس دیکھو
اور یہ لوگ افلاس دور کرنے نہیں بلکہ افلاس زدگی کا فائدہ اٹھانے جاتے ہیں لہٰذا ’’انقلاب‘‘ کہاں؟؟