ڈینگی آرہا ہے؟

کالم نگار  |  خواجہ عبدالحکیم عامر

یہ بات تو طے ہو چکی ہے کہ ڈینگی ایک ڈھیٹ اور جان لیوا مچھر/ بخار ہے جو انسان کی جان اس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک اسکے خلاف اعلان جنگ نہ کر دیا جائے۔ اسے مار دینے کو جہاد کا نام نہ دے دیا جائے۔ ڈھائی دو سال قبل ڈینگی نے پنجاب بالخصوص لاہور میں جو تباہی مچائی تھی کتنی قیمتی جانوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ اہل نظر نے تو ڈینگی کی آمد کا سرخ سگنل بہت پہلے دےدیا تھا مگر پنجاب کی نااہل اور غافل بیورو کریسی نے خطرے کے الارم کو سنجیدگی سے نہ لیا اور پھر ڈینگی نے وہ حشر بپا کیا جس نے حکومت اور عوام کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ عوام کی چیخ و پکار سننے کے بعد پنجاب کی بیورو کریسی متحرک ہوئی بھی تو جعلی سپرے کرانے کی حد تک پھر کیا ہوا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ ہلاکتوں کی تعداد درجنوں سے شروع ہو کر سینکڑوں تک پہنچ گئی ۔یہ سب کیا دھرا پنجاب کی بیورو کریسی خاص کر محکمہ صحت کے نااہل افراد کا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار آج بھی نااہل افسروں کو قرار دیا جاتا ہے جنہوں نے ڈینگی کی اطلاع ملنے کے باوجود اس کے توڑ کیلئے خاطر خواہ انتظامات نہ کئے۔
سیاسی مخالفین نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور شہباز شریف اور انکی حکومت کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی بلکہ ڈینگی کی وجہ سے ہونیوالی ہلاکتوں کی ساری کی ساری ذمہ داری صرف شہباز شریف پر ڈالنے لگے۔ رو دھو کے ایک سال توبیت گیا مگر لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ڈینگی کے حوالے سے ہونے والے پراپیگنڈے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا تھا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ 2012ءمیں شہباز شریف نے ڈینگی کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کر ڈالا اور ہر وہ حربہ استعمال کیا کہ ڈینگی اور اس کا لاروا پنجاب خاص کر لاہور میں پل بڑھ نہ سکا۔ ڈینگی کیخلاف مشن کی نگرانی وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ذاتی طور پر خود کی۔ کہتے ہیں کہ جب کوئی کام صاف نیت کے ساتھ شروع کیا جائے تو خدائی مدد بھی پہنچ جاتی ہے۔ یہاں یہ بات تفصیل کے ساتھ دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ شہباز شریف کی ڈینگی کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں غیبی مدد بھی آئی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ حکومت اور عوام نے مل کر ڈینگی کو شکست دی اور ڈینگی کو فنا کر دیا گیا۔ 2012ءبغیر کوئی بڑا نقصان کئے خیرو عافیت سے گزر گیا۔ اس نیک نامی کا سارا کریڈٹ شہباز شریف ان کی ٹیم خاص کر خواجہ سلمان رفیق کو نہ دینا سراسر زیادتی ہو گی۔ میں تو اس ضمن میں شہباز شریف کو فاتح ڈینگی قرار دیتا ہوں۔
پیشگوئی تو کافی پہلے ہو چکی ہے کہ 2013ءمیں ڈینگی ایک بار پھر سر اٹھائے گا مگر اہل نظر سال رواں کے اوائل ہی میں ڈینگی کی آمد کا بگل بجانے لگے ہیں اس رائے کے ساتھ کہ اس سال ڈینگی پہلے سے کہیں زیادہ تباہی لائے گا جس کے باعث انسانی ہلاکتیں بہت زیادہ متوقع ہیں۔ دوسری طرف بدقسمتی سے فائٹروں کی حکومت نہیں رہی نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی خود کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت کا کام صرف انتخابات کروانا ہے اور بس ،وہ زیادہ بکھیڑوں میں نہیں پڑینگے لیکن مقام حیرت ہے کہ صرف الیکشن کروانے کا دعویٰ کرنے والے نجم سیٹھی پنجاب کے سرکاری محکموں کی اکھاڑ پچھاڑ میں ہر قسم کی بازی جیتنا چاہتے ہیں لگتا ہے کہ وہ کسی ہوائی طاقت کے ایما پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ مجھے انکی کابینہ کے ممبران سے کوئی سروکار نہیں غیر معروف و نامعلوم چہرے ہیں البتہ پنجاب کی نگران کابینہ کی رکن محترمہ سلیمہ ہاشمی کو جانتا ہوں موصوفہ نجم سیٹھی کا انتخاب ہیں۔ فیض احمد فیض کی دختر ہونے کے علاوہ ایک اداکار ٹیچر کی بیوی ہیں۔ محترمہ سلیمہ ہاشمی کی نہ جانے کن خصوصیات کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہوئے انہیں پنجاب کی وزارت صحت کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے۔ ہیلتھ کے معاملات اس قدر پیچیدہ ہیں جنہیں ہینڈل کرنا ہر ایرے غیرے کا کام نہیں۔ محکمے کے ساتھ وابستگی‘ تجربہ اور لگن بہت ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ میڈم سلیمہ ہاشمی کے پاس یہ تینوں چیزیں نہیں ہیں۔ کیا وہ جانتی ہیں کہ ڈینگی پنجاب میں ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے ؟کیا انہیں معلوم ہے کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دل کے مریض زمین پر پڑے ہیں ؟انہیں کیا پتہ کہ یہاں پیسہ خرچ کرنیوالے مریضوں کیلئے علاج ہے بغیر سفارشیوں اور غریبوں کیلئے صرف دھکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جانتیں کہ سرکاری ہسپتالوں کے سینئر ڈاکٹروں کی گردنوں میں سرئیے پڑے ہوئے ہیں اور وہ یہاں صرف حاضری لگانے‘ بھاری بھر کم تنخواہیں وصول کرنے اور شکار پھانسنے کیلئے آتے ہیں۔ پنجاب بالخصوص لاہور کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھنے والا ڈینگی جہاد کا تقاضا کرتا ہے مجھے نہیں لگتا کہ محترمہ سلیمہ ہاشمی وہ سب کچھ کر پائیں گی جو گذشتہ سال شہباز شریف اور خواجہ سلمان رفیق نے کہا تھا کیونکہ متذکرہ دونوں حضرات جذبہ جہاد سے سرشار تھے۔ لگتا ہے کہ اس سال ڈینگی ایک بار پھر بیورو کریسی کے رحم و کرم پر ہو گا اور خاکم بدہن مجھے وہ کچھ نظر آرہا ہے جو نہیں ہونا چاہئے اور پھر اہل پنجاب پکار اٹھیں گے۔ ” تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی“
 یہاں میرے مخاطب شہباز شریف ہیں جنہیں فاتح ڈینگی کہنا بے جا نہ ہو گا۔ ڈینگی اور محکمہ صحت کو جنگی بنیادوں پر کام کرنے والے وزیر اور سیکرٹری صحت کی اشد ضرورت ہے اور میرا نہیں خیال کہ میڈم سلیمہ ہاشمی جنگجو خاتون ہیں۔ رب کعبہ پنجاب اور اہل پنجاب کو ڈینگی سے محفوظ رکھے آمین۔