مسلم لیگی ہونے کے کیا معنی ہیں؟

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

ایس ایم ظفر کی سیاسی داستانِ حیات کا آغاز جنرل ایوب خاں کے دور حکومت سے ہوتا ہے جب وہ 1965ءسے لیکر ایوب خاں کے زوال تک حکومت پاکستان میں وزیر قانون رہے۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خاں کے غیر جمہوری آئین کے خلاف عوامی شاعر حبیب جالب نے ایک نظم لکھی تھی جو اپنی مقبولیت کے باعث تاریخ ادب میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئی ہے....
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نے مانتا، میں نہیں جانتا
ایس ایم ظفر نے ایک فوجی ڈکٹیٹر ایوب خاں کی کابینہ کے رکن ہونے کی تلافی¿ مافات کیلئے تحفظ حقوق انسانی کی ایک انجمن کی بنیاد بھی رکھی اور ہر اس شخصیت کو گولڈ میڈل کا حقدار قرار دیا جس نے بہادری اور جرا¿ت سے جنرل ایوب خاں کی آمریت کو للکارا۔ جسٹس رستم کیانی اور حبیب جالب کا میں بطور خاص حوالہ دوں گا کہ انہیں حقوق انسانی کے تحفظ کیلئے تاریخ ساز جدوجہد کرنے پر گولڈ میڈل پیش کئے گئے۔ ایس ایم ظفر اکثر اپنی تقاریر میں ان شخصیات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جنہوں نے جنرل ایوب خاں کے سیاہ دور حکومت میں جمہوریت کی شمع کو روشن رکھنے کیلئے ایک مثالی کردار ادا کیا۔ ظفر صاحب زیادہ دیر تک مسلم لیگ ہی سے وابستہ رہے۔ تاہم بہت کم مدت کیلئے وہ سندھ کے معروف سیاستدان غلام مصطفیٰ جتوئی کی جماعت نیشنل پیپلز پارٹی میں بھی شامل رہے۔ جب جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاءنافذ کیا تو انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو تقسیم کرکے میاں اظہر کی قیادت میں ایک نئے مسلم لیگ گروپ کی بنیاد رکھ دی۔ ایس ایم ظفر بھی میاں اظہر کی صدارت میں قائم ہونے والی نئی مسلم لیگ سے منسلک ہو گئے اور بعدازاں وہ اسی مسلم لیگ کی طرف سے 2003ءسے لیکر 2012ءیعنی 9 سال تک پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینٹ) کے ممبر رہے۔ ایس ایم ظفر نے اپنے نو سال تک سنیٹر رہنے کی کہانی ایک طویل کتاب کی صورت میں شائع کروا دی ہے۔ یہ داستان دراصل پاکستان کی سیاست کی داستان ہے جو سنیٹر ایس ایم ظفر نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں بیان کی ہے۔
ایس ایم ظفر نے مسلم لیگ میں وہ اپنی دوبارہ شمولیت کا واقعہ اپنی کتاب میں بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ ظفر صاحب نے اس بات پر بھی دکھ کا اظہار کیا ہے کہ اس وقت ملک میں درجن کے قریب ایسی جماعتیں موجود ہیں جو مسلم لیگ کے نام سے سیاست میں حصہ لے رہی ہیں۔ مسلم لیگ کے نام میں کشش ہی اتنی ہے کہ تقریباً جتنے بھی فوجی آمروں نے پاکستان کی جمہوریت پر شب خون مارا ہے جب انہوں نے اپنی سیاسی اغراض کی خاطر کوئی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا ہے تو انہوں نے مسلم لیگ کا لیبل ہی استعمال کیا ہے۔ یہ تکلیف دہ بات ہے کہ جس جماعت کے پلیٹ فارم پر قائداعظم کی قیادت میں خالص جمہوری تحریک کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں نے قیام پاکستان کی جنگ جیتی تھی۔ وہ جماعت ہمیشہ فوجی آمروں کے چنگل میں پھنسی رہی۔ مسلم لیگ سے وابستہ سیاستدانوں کی یہ کمزوری رہی ہے کہ چند بااصول سیاستدانوں کو چھوڑ کر اکثریت فوجی آمروں کی سرپرستی میں تشکیل پانے والی مسلم لیگوں کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ میرا یقین ہے کہ مسلم لیگ کو تقسیم در تقسیم کے مختلف مراحل تک پہنچانے کے ذمہ دار صرف فوجی ڈکٹیٹر نہیں بلکہ وہ مسلم لیگی لیڈر بھی ہیں جنہوں نے کبھی مسلم لیگ پر قبضہ کرنے کی فوجی آمروں کی سازشوں کے خلاف مزاحمت نہیں کی۔ خود ایس ایم ظفر نے بھی مسلم لیگ میں دوبارہ شمولیت کیلئے اس گروپ کا انتخاب کیا جسے جنرل پرویز مشرف کی سرپرستی حاصل تھی۔ ایس ایم ظفر نے اپنی کتاب میں ایک مقام پر لکھا ہے کہ ایک مسلم لیگی کی سوچ وہی رہتی ہے، جہاں بھی وہ چلا جائے۔ مجھے حیرت ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ایک پیروکار اور ایک فوجی ڈکٹیٹر کو دس مرتبہ بھی یونیفارم میں صدر منتخب کروانے کا عزم رکھنے والے مسلم لیگی رہنماﺅں کی سوچ کو یکساں کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ظفر صاحب نے اپنی کتاب میں میاں ممتاز دولتانہ کے ایک مضمون کا حوالہ دیا ہے۔ اس مضمون کے مطابق ایک مسلم لیگی میں درج ذیل اوصاف کا ہونا ضروری ہے۔
-1 وہ دو قومی نظرئیے کی صداقت پر یقین رکھتا ہو -2 قائداعظم کے تصور پاکستان کیلئے عمل پیرا ہو -3 پاکستان میں ڈکٹیٹر شپ کا مخالف اور پارلیمانی جمہوریت پر یقین رکھتا ہو۔-4 صوبائی تعصب سے بالاتر ہو۔ پاکستانی سوچ رکھتا ہو۔-5 مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی کو دل سے کبھی قبول نہ کرتا ہو اور دوبارہ پاکستان کے اتحاد کیلئے جدوجہد کرے۔ -6 ملکی نظام میں تبدیلی کیلئے آئینی ذرائع سے تبدیلی کا علمبردار ہو۔-7 مذہبی فرقہ واریت کے خلاف ہو اور اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھے۔
ممتاز دولتانہ کے ان نکات کو سامنے رکھا جائے تو کتنے سیاسی لیڈرز ہیں جن کو ہم اصلی مسلم لیگی تسلیم کر سکتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ آج دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر پاکستان کی تخلیق کو غلط قرار دینے والوں کو بھی مسلم لیگی لیڈر اپنی سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر قبول کرنے کیلئے تیار نظر آتے ہیں۔ فوجی آمروں کا ساتھ دینے والے مسلم لیگی سیاستدانوں کی گنتی کرنا ممکن نہیں ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو اگر فراموش بھی کر دیا جائے تو مستقبل میں کتنے سیاستدان ہیں جن کے بارے میں یقین سے یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ وہ آئندہ فوجی آمریتوں (اگر خدانخواستہ دوبارہ مارشل لاءنافذ ہوا) کی حمایت میں مسلم لیگ سے بے وفائی نہیں کرینگے۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ دو مرتبہ پاکستان کے آئین سے بغاوت کرنیوالے جنرل مشرف نے بھی اپنی جماعت کا نام آل پاکستان مسلم لیگ رکھ لیا ہے۔ ایک سچے اور حقیقی مسلم لیگی کو تو کسی بھی صورت میں ایک فوجی ڈکٹیٹر سے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی غیر آئینی طور پر حکومت کا تختہ الٹ دینے والے فوجی جنرلوں کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرنا چاہئے۔ لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے کہ جو فوجی آمر ملک کے آئین کی دھجیاں بکھیر کر اقتدار پر قبضہ کرتا ہے وہ مسلم لیگ پر بھی قبضہ کر لیتا ہے اور موقع پرست مسلم لیگی لیڈر اس وقت تک فوجی آمر کے ”نکاح“ میں رہتے ہیں جب تک وہ یونیفارم میں برسر اقتدار رہتا ہے۔ ان ہی بے اصولیوں اور مصلحت پسندیوں کی وجہ سے آج مسلم لیگ کو عوام کی نظروں میں وہ مقام اور احترام حاصل نہیں جو تحریک پاکستان کے دور میں قائداعظم کی زیر قیادت مسلم لیگ کو حاصل تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے تو جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے حزب مخالف کا کردار ادا کرکے اپنی پوزیشن کو کافی حد تک مستحکم کر لیا ہے مگر جنرل پرویز مشرف کے فوجی دور حکومت میں شریک اقتدار رہنے والی مسلم لیگ (ق) جس میں اس وقت ایس ایم ظفر خود بھی شامل ر ہے اس کا قومی سیاست میں اب کوئی کردار باقی نہیں رہا۔ کاش سارے مسلم لیگی سیاستدانوں کو مسلم لیگی ہونے کا صحیح مفہوم معلوم ہو جائے اور وہ جنرل ایوب خاں کی کنونشن مسلم لیگ اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایجنسیوں کی مدد سے قائم ہونے والی مسلم لیگ (ق) کے عبرتناک انجام کو سامنے رکھیں تو وہ آئندہ کبھی کسی فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھی نہیں بنیں گے۔ قائداعظم کے پیروکار صرف آئینی اور جمہوری راستوں سے ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی کی سوچ اور مزاج رکھتے ہیں۔ انہیں یہ زیب بھی نہیں دیتا کہ وہ فوجی آمروں کیخلاف ڈٹ جانے کے بجائے قائداعظم کی اعلیٰ روایات کو محض اقتدار کی خاطر فراموش کر دیں۔ ذرا غور فرمائیں کہ قائداعظم کو متحدہ ہندوستان میں بڑے سے بڑے منصب کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے حصول پاکستان کے مشن پر سب کچھ قربان کر دیا۔ ایک سچے مسلم لیگی کا سیاست میں آئیڈیل صرف اور صرف اگر قائداعظم ہوں تو وہ کبھی سیدھے راستے سے نہیں بھٹک سکتا۔ ہمارے وطن کو آج بھی سب سے زیادہ قائداعظم کے اخلاص اور دیانت کے وارث سیاستدانوں کی ضرورت ہے....
میں نے پوچھا تھا کہ اخلاص کسے کہتے ہیں
ایک بچہ تیری تصویر اٹھا لایا تھا