آہ! صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم راہی عدم ہو گئے۔ ان کی شخصیت کسی لحاظ سے بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں تھی۔ انہوں نے صاف ستھری سیاست کی اور آخری وقت تک اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے ملک بھر میں گذشتہ چند سالوں سے مزید فعال سیاسی اور مذہبی کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ نظریاتی طور پر سچے پکے عاشق رسول تھے اور ان کی تمام تر سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں کا محور ملک اور ملت کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لئے تھا۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم گذشتہ دو ہفتوں سے جگر کے عارضے میں مبتلا ہو کر الائیڈ ہسپتال کے پرائیویٹ وارڈ میں زیرعلاج تھے۔ اپنی وفات سے دو روز قبل وہ قومہ میں چلے گئے اور پھر 15اپریل کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم سے مذہبی سیاسی اور عوامی حلقوں کی عقیدت اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ تھی کہ وہ محدث اعظم مولانا سردار محمد مرحوم کے صاحبزادے تھے۔ صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کے انتقال سے یقینا ملک کے مذہبی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی حلقوں میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم نے 1977ءمیں تحریک نفاذ نظام مصطفی کے لئے انتہائی فعال اور جرات مندانہ کردار ادا کیا۔ تحریک نظام مصطفےٰ کے دوران ان کے دبنگ کردار اور جرات رندانہ پر مبنی تقاریر کے باعث انہیں کئی مرتبہ گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا گیا۔ وہ تحریک نفاذ نظام مصطفےٰ کے لئے فیصل آباد پنجاب بھر اور پورے ملک میں انتہائی کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم صوبائی وزیراوقاف بھی رہے اور وہ دو مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے علاوہ دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے۔ اس مرتبہ بھی وہ اپنے حلقہ انتخاب این اے 82 سے انتخابات میں اترے تھے۔ وہ مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مشترکہ امیدوار تھے۔ صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کا مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف کے والد گرامی میاں محمد شریف کے ساتھ قریبی تعلق تھا اور وہ ان کی بے حد عزت کرتے تھے۔ اسی بناءپر وہ جمعیت علماءاسلام سے اختلافات کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیاسی اتحاد کئے رہے اور پھر 2008ءکے عام انتخابات کے نتیجہ میں معرض وجود میں آنے والی وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت سے ان کے شدید اختلافات رہے۔ وہ وفاق میں ملک بھر میں بدامنی اور دہشت گردی کے خلاف جرات مندانہ کردار ادا کرتے رہے۔ ایک موقع پر جب لاہور میں ایک مدرسے پر خودکش حملہ ہوا تھا اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی اس میں شہید ہو گئے تھے تو شدت پسندوں کی طرف سے بیان سامنے آیا تھا کہ ان کا ٹارگٹ صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم تھے مگر ڈاکٹر سرفراز نعیمی ان کی زد میں آ گئے۔ صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم انتہائی شفیق محبت کرنے والے اور سادہ انسان تھے۔ انہوں نے ساری زندگی اپنی سیاست پر حرف نہ آنے دیا مگر ان کو گلہ تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رانا ثناءاللہ خان نے ان پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی اور پھر ان اختلافات کی بناءپر ان کے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ایسے اختلافات ہو گئے کہ انہیں اپنی سیاسی راہیں مسلم لیگ(ن) سے جدا کرنا پڑیں۔ ان سے ایک آخری ملاقات میری اپنے گھر میں ہوئی جب وہ تشریف لائے اور انہوں نے باتوں ہی باتوں میں کہا کہ وہ مسلم لیگ(ن) کے شریف برادران کے لئے آج بھی اپنے دل میں عزت رکھتے ہیں مگر رانا ثناءاللہ خاں نے اچھا کردار ادا نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت مسلم لیگ(ن) کے ساتھ رہے جب شریف برادران جلاوطن تھے اور ان پر کڑا وقت تھا اور اب جبکہ مسلم لیگ(ن) کی پنجاب کی حکومت رہی اور آئندہ وفاق میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت قائم ہونے کے واضح امکانات ہے تو وہ نظریاتی بنیادوں پر ان سے اختلاف کئے ہوئے ہیں۔ صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم جنہوں نے 1987ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی ان کی وفات کے بعد پورے ملک کے مذہبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں سوگ کی کیفیت ہے۔ سنی اتحاد کونسل نے ان کی وفات سے دو روز قبل ہی ان کے صاحبزادے صاحبزادہ حامد رضا کو قائمقام چیئرمین سنی اتحاد کونسل نامزد کر دیا تھا اور سنی اتحاد کونسل ان کی وفات پر تین روزہ سوگ کا اعلان کر کے تین روز تک تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کئے ہوئے ہے مگر افسوس صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم واپس نہیں آ سکتے۔ وہ دوراندیش اور درویش منش انسان تھے۔ انہوں نے ساری زندگی رزق حلال کو اپنا شعار بنائے رکھا اور ملک اور قوم کی خدمت میں سرگرداں رہے۔ ان سے کسی کو لاکھ اختلاف ہو سکتا ہے مگر وہ ان کی شخصیت کے حوالے سے ایک بھی منفی بات نہیں کر سکتا۔ صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم ہمیشہ ملکی و بین الاقوامی حالات پر کڑی نظر رکھتے تھے جس کا اندازہ ان کے ساتھ ہونے والی ہر بیٹھک سے لگایا جاتا تھا۔ میں جن دنوں لاہور آفس میں تھا وہ اکثر مجھے فون کیا کرتے تھے ایک دو مرتبہ خود بھی دفتر آ کر مجھ سے ملے۔ وہ میرے لاہور سے فیصل آباد آفس آنے پر خوش نہیں تھے اور اکثر ملاقاتوں میں کہا کرتے تھے کہ آپ واپس لاہور آفس میں جناب مجید نظامی صاحب کے پاس چلے جائیں۔ صاحبزادہ حاجی فضل کریم کی یادیں آج ہر اس دل پر نقش ہیں جو ان سے ملتا رہا۔ جو ان سے محبت کرتا تھا وہ آج بھی ان کی شفقت سادگی کو یاد کر رہا ہے مگر وہ ہم میں موجود نہیں رہے۔ انہوں نے جن دنوں سرورکائنات حضرت محمدﷺ کی شان اقدس کے خلاف گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ فیصل آباد میں ہزاروں افراد پر مشتمل ایک بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی اور پھر قومی اسمبلی میں صاحبزادہ حاجی فضل کریم کی وہ پہلی آواز تھی جو گستاخانہ خاکوں کے خلاف گونجی۔ انہوں نے ملک بھر میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف بھرپور پرامن تحریک چلائی۔ وہ سچے پکے عاشق رسول اور محب الوطن انسان تھے۔ وہ انسان جس کی آج ہر شعبہ زندگی میں ہمیں ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے اور ان کے لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ آج وہ ہم میں موجود نہیں مگر ان کی یادیں آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ وہ بہت سادہ اور شفیق انسان تھے۔ ان کی جدائی ہمیشہ یاد رہے گی اور اللہ کرے وہ سنی اتحاد کونسل کے قائمقام چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی صورت میں ہمیشہ زندہ و تابندہ رہیں۔ صاحبزادہ حامد رضا اپنے والد حاجی محمد فضل کریم کی جگہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 82 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے قائدین کو چاہیے کہ وہ این اے 82 میں اپنے امیدوار رانا محمد افضل جنہوں نے پی پی 66 سے بھی کاغذات جمع کروا رکھے ہیں اور وہ پی پی 66 سے رکن صوبائی اسمبلی بھی رہے ہیں انہیں این اے 82 کی بجائے پی پی 66 کا ٹکٹ دیں اور این اے 82 میں مسلم لیگ (ن) بھی صاحبزادہ حامد رضا کی اپنے متفقہ امیدوار کے طور پر حمایت کرنے کا اعلان کریں کہ آخر صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کی مسلم لیگ (ن) کے لئے بہت قربانیاں ہیں۔ شاید رانا ثناءاللہ خاں سے بھی زیادہ۔