”ریا کاری،قائد کی پہچان اور اللہ کا فرمان“

نوازخان میرانی
قائد اعظمؒ کے بعد آخر کیا وجہ ہے کہ عوام کسی بھی سیاسی راہ نما کو اپنا حقیقی قائد نہیں مانتے اور نہ ہی آجکل کے سیاستدانوں کی کمی ہوئی، کسی بات اور کسی بیان پہ ذرہ برابر بھی یقین کرنے کو تیار ہیں۔ قول و فعل کا تضاد صرف سیاستدانوں کیلئے ہی نہیں اس کا اطلاق انفرادی طور پر بھی ہر انسان پر ہوتا ہے۔
واصف علی واصف کے کہے ہوئے ان الفاظ میں کتنی حکمت ہے کہ غیر یقینی حالات پر تقریریں کرنے والے اتنے یقین کے ساتھ اپنے مکانوں کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ اب چونکہ آج کے دور کے صحیح سچے اور باکردار سیاست دان کی پہچان مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے تو پھر ہمیں اسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی کسوٹی پہ پرکھنا ہو گا کہ کون اس پیمانے پہ پورا اترتا ہے اور بیہودہ گوئی، تکبر، ریاکاری، مکاری، منافقت، خود پسندی، شہرت طلبی اور فخر و غرور جیسی لعنتوں سے پاک ہے اور کس نے اپنے قائد اعظمؒ کی طرح اپنے کردار عمل کو اس طرح سے ڈھالا ہے کہ زندگی میں اسے کسی سے معذرت کرنے کی نوبت نہ آئی ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اللہ تکبر کرنے والے کو اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا، رسول پاک کا فرمان ہے کہ تکبر حق بات کے انکار اور لوگوں کی تحقیر کو کہتے ہیں۔ اب ہمیں جانچنا چاہیے کہ کون سیاستدان حق بات سے انکار کرتا اور دوسروں کو حقارت سے دیکھتا اور بُرے ناموں سے پکارتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس نے شہرت طلبی کیلئے کوئی عمل کیا۔ اللہ تعالیٰ اسے رسوا کر دیں گے اور جو ریا کاری کا ارتکاب کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ راز افشا کر دیتے ہیں۔ اب اس معیار پہ تو ہم یہ جاننے کے قابل ہو گئے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کس ریا کار کے رازوں کو فاش کر دیا ہے جس پہ ابھی تک پردہ پڑا ہوا تھا۔ جب اللہ اپنی حکمت کے تحت چاہتا ہے تو ظالموں کی رسّی دراز کر دیتا ہے اور قاتلوں کی کارروائیوں کو بھی طشت ازبام نہیں کرتا اور ڈھیل دے کر رسّی دراز کر دیتا ہے مگر دست قدرت پھر کوے سے بھی قاتل کی کارروائی کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ جب راہ نما، قائد اور حاکم دنیاداری میں مگن ہو جاتے ہیں تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ بھی انہیں کچھ دیر کیلئے اُن کے حال پہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ جب انہوں نے اس نصیحت کو بھی فراموش کر دیا جو اُن کو کی گئی تھی تو ہم نے اُن پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں، خوب خوش ہو گئے تو ہم نے ان کو ناگہان (اچانک) پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔ اس سے پہلے وہ بلاشبہ اپنے اہل و عیال میں خوشی سے مست رہتے تھے۔
(الانشقاق13، اور الانعام 44)
جب ملک میں ٹارگٹ کلنک کا دور دورہ ہو، شہروں میں درجنوں افراد روزانہ قتل ہو جاتے ہوں۔ بھوک و افلاس سے لوگ اپنے بچے، بچیوں کو فروخت کر رہے ہوں۔ پورے ملک میں آفات الٰہی کا نزول ہو، ملک کے کسی کونے میں یعنی کراچی سے پشاور اور لاہور، اسلام آباد سمیت سکون و اطمینان نہ ہو، مایوسی، یاس کا دور دورہ ہو، لوگوں کے اعصاب جواب دے گئے ہوں، صبر کا دامن چھٹتا ہوا نظر آ رہا ہو، اعتماد کا فقدان ہو، تو قرآن حکیم کی صورت میں اللہ ہماری راہنمائی فرماتے ہیں۔ بلاشبہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی سب سے بڑا اور حقیقی راہنما ہے۔ ارشاد ہے کہ خدا کی رحمت سے بے ایمان لوگ ہی ناامید ہوا کرتے ہیں [یوسف 87] ۔ (حضرت عبداللہ بن مسعودؒ فرماتے ہیں کہ حدیث ہے کہ سب سے بڑا گناہ شرک ہے، اور تدبیر الٰہی سے بے خوفی اور رحمت الٰہی سے نااُمیدی بھی سب سے بڑا گناہ ہے)۔ نظام ہستی تو اللہ نے خود چلانا ہے۔ لہٰذا اُس کی حکمت پوشیدہ ضرور ہے۔ خدا ہر دور میں اور ہر گھڑی پر مسلمان کی راہنمائی فرماتا ہے، اور فرماتا رہے گا۔ وہ اٹھارہ کروڑ مسلمانوں کو کیسے بے یار و مدد گار چھوڑ دے گا؟ شرط یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھامنا، اور صدق دل سے توبہ کرنی ہو گی!!!