پاکستان کی تہذیب اور کلچر کی اساس

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم قاسم

پروفیسر نعیم قاسم
پاکستان میں سیکولرازم کے حامی دانشوروں کے سابق ریاست سوسائٹی کے معاشرتی ارتقا کی ایک خاص منزل پر نمودار ہوتی ہے۔ یہ انسانوں ہی کا بنایا ہوا سماجی ادارہ ہے لہٰذا یہاں کی تہذیب، کلچر تمدن اور رواج کےمطابق ہی حاکمیت کا تصور مختلف ادوار میں ظہور ہوتا رہا ہے اور اگر کسی ریاست میں مذہبی احکامات کی بنیاد پر سماجی اور سیاسی معاملات کو کنٹرول کیا جائےگا تو یہ ملوکیت اور تھیوکریسی کی ایک استحصالی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ لہٰذا ریاست کے معاملات سیکولر ہوتے ہیں اور ان کا ارتقاءبھی سائنسی اصولوں پر ہوتا ہے۔ سیکولر خیالات بہت قدیم ہیں اور یہ چرچ کی مذہبی پیشوائیت کے ردعمل کے نتیجے میں سامنے آئے۔ 1840ءمیں ایک آزادخیال انگریز جارج جیک ہولی اوک (George J. Holyoake) نے اس اصطلاح کو متعارف کرایا اور اس کا موقف تھا 1۔ انسان کی سچی رہنما سائنس ہے۔ 2۔ اخلاق مذہب سے جدا اور پرانی حقیقت ہے۔ 3۔ علم و ادراک کی واحد کسوٹی اور سند عقل ہے 4۔ ہر شخص کو فکر اور تقریر کی آزادی ملنی چاہئے۔ 5۔ مذہب اور عقیدہ انسان کا پرائیویٹ معاملہ ہے۔
آج پاکستان میں آزاد خیال ملحد، کمیونسٹ، دہریے زندگی کے ہر معاملے کو عقل اور شعور کے محدود پیمانوں پر پرکھنے کی کوشش میں بے راہروی پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس پاکستان میں سرعام ٹی وی چینلز پر ایک خاتون ہم جنس پرستی اور بغیر شادی بیاہ کے جنسی تعلقات کی حمایت میں تقریریں کر رہی ہے اور نظریہ پاکستان کے متعلق کہہ رہی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد اس کو دفن کر دینا چاہئے۔ یہاں سے اختلاف جنم لیتا ہے کہ اگر آپ نے کلچر، ثقافت اور تہذیب اور تمدن کی بنیاد پر مادر پدر آزاد زندگی اور سرعام شراب نوشی، عیاشی اور مشترکہ خاوندوں اور بیویوں کے سوشلسٹ انجام کی حمایت میں شور غوغا کرنا ہے تو پھر یہ مت بھولیں کہ پاکستان میں آپ کو ہندوستان کی مدد سے یہ کھیل نہیں کھیلنے دیا جائےگا۔ پہلے روس کی مدد سے آپ نے پاکستان کی اسلامی اساس کو ختم کرنے کےلئے ہر قسم کے حربے اختیار کئے مگر انشااللہ تعالیٰ آپ کو اپنی اولادیں ہی آپ کو جنسی بے راہروی پر سنگ سار کریں گی مگر افسوس ہوتا ہے کہ ٹی وی چینلوں پر ایسی آبروباختہ خواتین کو ماڈرن ازم کے نام پر قوم کے نونہالوں کو بے حیائی کی ترغیب دینے کےلئے مدعو کیا جاتا ہے مگر پاکستان ایک ایسی نظریاتی ریاست ہے جہاں اسلام کو ایک ضابطہ حیات کے طور پر اختیار کیا جانا چاہئے۔ ڈاکٹر مجاہد منصوری کا کہنا ہے پاکستان ایک نیشن اسٹیٹ ہے۔ ایک مخصوص قوم (پاکستانی) اس کا لازمی جزو ہے۔ قوم کے بغیر جدید ریاست تشکیل نہیں پاتی ہے۔ ہندوستان میں مسلم قوم پہلے سے موجود تھی۔ یہ یک مذہب تھے اور انکی بھاری اکثریت کے طرز زندگی، سیاسی خیالات اور اقتصادی حالات میں گہرا اشتراک تھا۔ اگرچہ مختلف علاقوں میں ایک ساتھ رہنے والے ہندوﺅں اور مسلمانوں میں ذیلی ثقافت کے حوالے سے اشراک تھا (جیسا نواز شریف کا خیال ہے) لیکن ہندوستان کے جدید سیاسی عمل میں ہندو مسلم علاقائی ثقافت کے اشتراک پر مختلف علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کا مشترکہ مذہب معاشرتی اقدار، رسوم و رواج اور مسلم عوام الناس کی یکساں اقتصادی حالت کی یکسانیت غالب ہوتی گئی جس نے انہیں نئے ملک کےلئے ایک قوم کے طور پر تباہ کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑی زبردست بات کی ہے اور اسی وجہ سے برصغیر میں بسنے والے کروڑوں مسلمان جو مختلف علاقائی کلچر رکھتے تھے‘ نے پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الااللہ کا نعرہ بلند کیا اور علیحدہ وطن کا حصول ممکن بنایا۔ کاش اس تاریخی حقیقت کا ادراک جناب الطاف حسین صاحب کو ہو جائے۔ انگریزوں کی عملداری میں مختلف صوبوں میں بسنے والوں نے ہندوستان میں کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ الگ قومیں ہیں۔ 1902ءتک موجودہ پی کے پختونخواہ صوبہ پنجاب کا حصہ تھا۔ 1935ءتک سندھ صوبہ بمبئی کا حصہ تھا لیکن آج پاکستان میں نام نہاد دانشور (Pseudo Intellectuals) چاروں صوبوں کی بنیاد پر چار الگ الگ قوموں کا تصور پیش کر کے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں پر حملے کی آڑ میں پاکستان توڑنے کی بین الاقوامی سازشوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ قومیت کی اصطلاح محض فریب دہی ہے۔
عصر حاصر میں پاکستان نے ایک قوم کی حیثیت سے الگ مملکت کا دعویٰ منوایا اور اسی بنیاد پر ہم ایک الگ قوم ہیں یعنی پاکستانی مسلمان لہٰذا پاکستان کی مملکت کو برقرار رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ اس میں چار قومیتوں کا تصور ختم کیا جائے۔ ایک قوم کے اندر چار قومیتیں اور ایک مملکت کے اند خود مختار وحدتیں، متضاد عناصر ہمیشہ یک جا نہیں رہ سکتے ہیں۔ اور عملاً ایک دن ریاست سے خود مختاری کی بنیاد پر الگ ہو جاتے ہیں۔ انتظامی معاملات پر صوبوں کی تشکیل کرنے کی بجائے مختلف علاقوں میں ضلعی حکومتیں یا کمشنریٹ قائم کرنے سے قوم میں وحدت اور اتحاد برقرار رہتا ہے۔ الگ الگ قومیتوں کی بنیاد اس دعوے پر استوار ہے کہ یہاں مختلف کلچر کی حامل قومیں آباد ہیں۔ سیکولر حضرات پاکستان میں مختلف قومیتوں کا مختلف کلچر بناتے ہیں۔ کلچر کا یہ تصور اسلام قطعاً پیش نہیں کرتا ہے۔ اسلام زندگی کی مختلف اقدار اور غیرمتبدل اصول دیتا ہے۔ اور انکی پابندی کو اسلامی نہج زندگی قرار دیتا ہے۔ ان اقدار اور اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے ہر ملک کے باشندوں کو آزادی حاصل ہوتی ہے کہ جس قسم کا رہن سہن جی چاہے اختیار کریں لہٰذا اسلام بطور دین اس بات کو قطعاً درست نہیں سمجھتا ہے کہ مختلف علاقوں میں رہنے والوں کے انداز بودوباش کو کلچر قرار دےکر انہیں مختلف قومیتوں میں تقسیم کر دیا جائے اور آج ہر قومیت کا الگ الگ وجود تسلیم کرانا ہی پاکستان میں انتشار اور اختلاف اور فساد برپا کرنے کا موجب بن رہا ہے۔ اسلام‘ طرز بودوباش تو ایک طرف رنگ، نسل، زبان اور وطن کے اختلافات کی بنا پر بھی امت یا نیشن میں کسی قسم کی تعریف کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ قرآن کریم نے خاندانوں اور قبیلوں کو وجہ سے تعارف قرار دیا ہے۔ مسلمانوں کا کلچر تو صبغتہ اللہ (اللہ کا رنگ) ہے یعنی انفرادی طور پر اپنی ذات میں اور اجتماعی طور پر معاشرہ میں صفات خداوندی کی نمود مسلمانوں کا کلچر ہوتا ہے۔ اسلام مسلمانوں کی قومیت اور تمام روئے زمین ان کا وطن ہوتا ہے۔