وہ ویڈیو کانفرنس!

غلام اکبر
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے 9ستمبر کو جو وڈیوکانفرنس کی وہ میرے ذہن پرچپک کر رہ گئی ہے۔ اس بے ربط کانفرنس کو ”مربوط“ ثابت کرنے کی کوشش ایم کیو ایم کے دیگر رہنماﺅں نے اگرچہ بہت کی ہے مگر خود الطاف حسین نہیں چاہتے تھے کہ انکے ”خیالات ِپریشان“ میں لوگ کوئی واضح مطلب یا مقصد تلاش کریں۔ جہاں تک ایم کیو ایم کے دیگر رہنماﺅں کا تعلق ہے وہ اپنے بارے میں ہم سے کہیں زیادہ اور بہتر معلومات رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں اپنی مرضی سے کچھ کہنے اور کچھ کرنے کی کتنی آزادی حاصل ہے۔ ان کی زندگی میں شاید ہی کوئی ” پل “ ایسا آتا ہو جب وہ اپنے آپ کو یہ یاد کرانے کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوں کہ جس طوطے میں انکی جان ہے وہ ” بھائی“ کے قبضے اور اختیار میں رہتا ہے۔ ان ”رہنماﺅں“ میں اچھے بھلے ذہین شریف النفس اور محب وطن لوگ بھی ہیں جن کے سینوں میں ” آزادی “ کی تڑپ ضرور دبی رہتی ہوگی‘ مگر زندگی کسے عزیز نہیں ؟ وہ جو ” گستاخانہ اختلاف“ کے مرتکب پائے گئے یا قرار دیئے گئے ان کا کیا انجام ہوا۔؟
مجھے یہاں نازی جرمنی کے بانی ایڈولف ہٹلر یاد آئے بغیر نہیں رہتے۔ نازی پارٹی پر جتنا مضبوط شکنجہ ایڈولف ہٹلر نے کسّا تھا اور کسّے رکھا تھا اسکی مثال اگر کوئی ملتی ہے تو سوویت یونین کی بالشویک پارٹی میں ملتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جناب الطاف حسین اتنے پڑھے لکھے ضرور ہیں کہ انہوں نے بالشوازم اور نازی ازم کا کم ازکم رسمی اورسطحی مطالعہ ضرور کیا ہوگا۔ اگر مقصد ایک طاقتور اور منظم سیاسی جماعت بنانا ہو تو سامنے کوئی ”رول ماڈل “ ضرور ہونا چاہئے۔جنہوں نے نازی جرمنی کی تاریخ پڑھی ہے وہ جانتے ہو نگے کہ اگرچہ ہملر گوئرنگ گوئبلز اور مارٹن بورمن کے نام زیادہ مشہور ہیں‘ ہٹلر کے قریب ترین ساتھی ” جنرل روئم“ تھے۔ روئم بائیں بازو کے انقلابی تھے ۔اور ” نیشنل سوشلسٹ پارٹی “ میں ”سوشلسٹ ‘ ‘ پہچان انکی بدولت ہی تھی۔ جرمنی کی طاقتور یونینوں سے انکے تعلقات بڑے اچھے تھے ۔ اور نازی پارٹی کےلئے ان یونینوں کی حمایت حاصل کرنے میں انہوں نے بڑا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
ایک رات روئم سونے کی تیاری کررہے تھے کہ گسٹاپو کے چیف ہملر کی غیر متوقع آمد نے انہیں چونکا دیا ۔ مارٹن بورمین نے اپنی بادداشتوں میں لکھا ہے:
روئم نے از راہ مذاق ہملر سے پوچھا۔
” کہیں فیوہرر )ہٹلر (نے مجھے راستے سے ہٹانے کا فیصلہ تو نہیں کرلیا۔؟‘ ‘ہملر نے جواب دیا۔ ”مجھے افسوس ہے روئم مگر بات کچھ ایسی ہی ہے۔ میں اپنے آپ میںتمہیں گولی مارنے کی ہمت پیدا نہیں کر پا رہا۔ میرا کام آسان کردو۔ یہ لو پستول ۔ اور خود اپنے آپ کو شوٹ کر لو۔۔۔“
روئم نے پستول اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا ” فیوہرر کو بتا دینا کہ میں اسی دن کا انتظار کررہا تھا۔۔۔“
تاریخ شاہد ہے کہ روئم کو بڑے اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔ اور اس کی قبر پر پھول رکھنے والوں میں ہٹلر اور ہملر دونوں تھے۔ میں اپنے اصل موضوع سے ہٹ گیا ہوں۔ مگر بات سے بات نکلا کرتی ہے۔
بات میں 9ستمبر2011ءکی اس وڈیو پریس کانفرنس کی کررہا ہوں جس میں جناب الطاف حسین بیک وقت بہت سارے سامعین کو مخاطب تھے۔
ابتداءانہوں نے لبرل‘ روشن خیال اور مغرب نواز حلقوں کو یہ خوشخبری سنا کرکی کہ وہ دل و جان سے ان لوگوں کے ساتھ ہیں جن کی پوری زندگی یہ ثابت کرنے میں گزری ہے)اور اب بھی گزررہی ہے(کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ سیکولر اور کشادہ نظر رہنما تھے اور لا الہ الا اللہ کے کلمے کے ساتھ ان کا دور دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔
جناب الطاف حسین نے فرمایا : ”آج کی نسل کو جھوٹ پر مبنی تاریخ پڑھائی جارہی ہے۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کون سا ہوگا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی عظمت اور سربلندی کےلئے حاصل کیا گیا تھا؟ “
جناب الطاف حسین نے اس ضمن میں 11اگست 1947ءکی اس تقریر کا حوالہ دیا جو قائداعظم ؒ نے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں کی تھی۔موصوف نے فرمایاکہ چونکہ پاکستان میں مذہبی امتیاز کے بغیر تمام شہریوں کو یکساں حقوق دینا قائداعظم ؒ کا واضح مقصد تھا‘ اس لئے انہیںلا الہ الا اللہ کا علمبردار کہنا نرا جھوٹ ہے !
جناب الطاف حسین قائداعظم ؒ پر کلمہ طیبہ سے بے گانگی کا الزام عائد کرتے وقت بھول گئے کہ دنیا کی پہلی اسلامی ریاست مدینہ میں پہلی بار تمام مذاہب کے پیروکاروں کو یکساں آزادیاں اورحقوق کا مستحق قرار دیا گیا تھا۔ قائداعظم ؒ کوئی نئی بات نہیں کہہ رہے تھے۔ کسی ایسی بات کو اپنا مقصود نہیں بنا رہے تھے جو آنحضرت نے شہرہ آفاق ”میثاق مدینہ “ میں شامل نہیں کی تھی۔ اور تمام مبصرین اور مورخین اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ میثاق مدینہ دنیا کا پہلا تحریر کردہ آئین تھا۔اس ضمن میں یہاں میں یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ قائداعظم ؒ کو )خدانخواستہ (کلمہ طیبہ کا آئین منظور نہیں تھا تو بھی مسلمان صرف اور صرف احکامات خداوندی اور ارشادات رسول کے پابند ہیں۔
آنحضرت نے اپنی زندگی دنیا پر خدا کی حاکمیت کا تصور واضح کرنے کےلئے گزاری تھی ‘ جناب الطاف حسین اور انکے ہمنواﺅں کے ”پسندیدہ لادینی تصورات کشادہ نظری روشن خیالی اور سیکولرزم “ کی سربلندی کےلئے نہیں۔ مذہبی آزادی کی ضمانت سب سے پہلے مدینہ میں دی گئی تھی۔ اور اگر محمد علی جناح ؒ آنحضرت کے ماننے والے اور پیروکار نہیں تھے تو پھر وہ ہمارے قائداعظم بھی نہیں تھے۔ ہمارے قائداعظم ؒ تو وہ بطل جلیل تھے جنہوں نے فرمایا تھا کہ ” ہم پاکستان کو ایک مثالی اسلامی فلاحی مملکت بنائیں گے ۔“
جناب الطاف حسین نے اپنی متذکرہ پریس کانفرنس میں کلمہ طیبہ کے بارے میں جوکچھ کہہ دیا اس کے بعد انہوں نے ضروری سمجھا کہ اپنے آپ کو قرآن حکیم کا قاری اور عالم دین بھی ثابت کریں۔ چنانچہ انہوں نے بڑے ڈرامائی انداز میں ایک عجیب طرز کی ” اسلامی پرفارمنس“ دینے کی کوشش کی۔ یہ اور بات ہے کہ اپنا ” اسلامی “ عالمانہ تشخص واضح کرنے کے چکر میں وہ خدا کی مقدس کتاب کےساتھ وہ سلوک کرگئے جو انہوں نے کیا۔ پھر انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ مغرب انکی جان کا دشمن بن گیا ہے اس لئے انکی جان کا دشمن بن گیا ہے کہ وہ پاکستان کو توڑنے کی سازشوں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں ! اس ضمن میں ثبوت کے طور پر انہوں نے ایسے اخباری اور کتابی تراشے اور نقشے بھی کیمروں کے سامنے لہرائے جو ” واقفانِ حال “ کےلئے قطعی طور پر نئے نہیں تھے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اس پرفارمنس کا مقصد ایسی ”ممکنہ صورتحال “ کی پیش بندی کرنا تھا جو ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے حوالے سے سامنے آسکتی ہے۔اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو الطاف حسین فلک شگاف آواز میں کہہ سکیں گے کہ ” میں نہ کہتا تھا کہ وہ مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں !“
جناب الطاف حسین نے فوج اور آئی ایس آئی کو بھی براہ راست مخاطب کیا۔ کہا کہ ” اگر مضبوط حکومت قائم کرنی ہے تو آﺅ میرے ساتھ مل جاﺅ۔ اگر ہم تینوں مل گئے تو کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکے گا۔۔۔!“
اور مخاطب انہوں نے سپریم کورٹ اور اسکے چیف جسٹس کو بھی کیا۔۔۔
” فیصلے سوچ سمجھ کر کرنا۔ اگر دو کروڑ مہاجرین کے خلاف کوئی فیصلہ آیا تو میں اپنے جاں نثاروں سے کہہ دوں گا کہ تم آزاد ہو۔۔۔ جو جی میں آئے کرو !“ اس سے زیادہ کھلی دھمکی وہ انصاف کرنےوالے سب سے بڑے ادارے کو کیا دے سکتے تھے؟