مچھری عذاب حکمران اور دعائیں

کالم نگار  |  توفیق بٹ

بہت عرصہ قبل ایک تقریب میں ایک حکمران نے تقریر کے لئے اصرار کیا تو ان کی خدمت میں عرض کیا تھا ”آپ حکمران انقلاب کی باتیں بہت کرتے ہیں۔ جس ملک کے عوام مجھ جیسے اور حکمران آپ جیسے ہوں وہاں انقلاب نہیں عذاب آتے ہیں۔ جو ہم پر آتے رہتے ہیں۔ کبھی ”فوجی سیاستدانوں“ کی صورت میں کبھی ”سیاسی جرنیلوں“ کی صورت میں کبھی سیلابوں اور کبھی زلزلوں کی صورت میں.... اور اب ایک عذاب ہم پر ڈینگی کی صورت میں بھی نازل ہو گیا ہے۔ اب تک کئی افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ کچھ تو باقاعدہ موت کے منہ میں چلے گئے اور جو بچ گئے ان کا خیال ہے ان کی بڑھی ہوئی تھی ورنہ حکومتی اقدامات اتنے لاغر اور مضحکمہ خیز تھے کہ ان کا بچنا بھی ناممکن تھا۔ دوسری طرف حکومت کے دعوے ہیں کہ اس ”مچھری عذاب“ سے نمٹنے کے لئے وہ ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ ہر ممکن اقدامات میں سڑکوں پر بینرز لگانا اور بورڈ وغیرہ نصب کرنا بھی شامل ہے۔ جن میں سے اکثر پر محترم ارکان اسمبلی‘ وزراءاور اس ٹائپ کے دیگر حکمرانوں نے اپنی تصویریں بھی سجائی ہوئی ہیں۔ بینروں اور بورڈوں کے اوپر مچھر کی تصویر ہے اور نیچے کسی نہ کسی رکن اسمبلی کی۔ کوئی پتہ نہیں چل رہا ڈینگی کس کے ڈسنے سے ہو سکتا ہے۔ قابل افسوس بات ہے کہ عذاب کی اس گھڑی میں بھی ذاتی تشہیر کو نظرانداز نہیں کیا گیا کیونکہ اس کے بغیر نمبرز وغیرہ نہیں بنتے اور ہمارے کچھ ارکان اسمبلی نمبرز نہ بنائیں اور مال نہ بنائیں تو انہیں سیاست کا لطف ہی نہیں آتا.... ڈینگی کے حوالے سے جناب شہباز شریف یقیناً اپنی ہمت سے بڑھ کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ کہنا یقیناً غلط نہیں ہو گا کہ وہ رات دن ایک کئے ہوئے ہیں۔ مگر سوچنے کی بات ہے یہ جو مرض اتنا زیادہ پھیل گیا اور پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے اس کے ذمہ داران کو اب تک کیا سزا ملی؟ کیا ہر کام صرف شہباز شریف کو ہی کرنا چاہئے؟ میری معلومات کے مطابق وہ تو اپنے عہدے کی تنخواہ بھی شاید نہیں لیتے یا شاید کسی خیراتی ادارے کو دے دیتے ہیں مگر جو افسران لاکھوں روپے کی تنخواہیں اور دیگر مراعات و سہولیات سرکاری خزانے سے وصول کرتے ہیں ان کا کام بس یہی ہے ائرکنڈیشنرز دفتروں میں بیٹھ کر میٹنگیں کرتے رہیں اور چائے کی پیالی میں طوفان اٹھاتے رہیں؟ نہ ان کے پاس کوئی سوچ ہے نہ پلان نہ صلاحیت اور نہ وژن‘ بس ایک ”ٹیلی وژن“ ہے جس میں اپنی ”نیکیاں“ ڈالنے کےلئے یہ رات دن کوشاں ہیں۔ اتنا وقت یہ ”مچھری عذاب“ میں مبتلا مریضوں کو نہیں دیتے جتنا ٹیلی وژن اور اخبارات کو دیتے ہیں۔ سو میرے خیال میں محترم وزیراعلیٰ پنجاب کو کم از کم لاہور کی حد تک اپنی انتظامی ٹیم کے ”اخلاص“ اور رویے پر ضرور ازسرنو غور فرما لینا چاہئے۔ یہ ٹیم اسی انداز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی رہی تو اگلے برس (اللہ نہ کرے) اس ”مچھری عذاب“ سے شاید ایک شخص بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ جناب شہباز شریف کا یہ عمل بھی قابل قدر ہے
کہ انہوں نے ڈینگی کے مریضوں کےلئے کچھ پرائیویٹ ہسپتالوں کو بھی فری علاج مہیا کرنے پر آمادہ کر لیا ہے۔ ڈینگی مچھر کی طرح مریضوں کا خون چوسنے والے کچھ پرائیویٹ ہسپتالوں کو نیکی کے کام پر آمادہ کر لینا کسی ”معجزے“ سے کم نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پرائیویٹ ہسپتال فری مریضوں کے ساتھ اس ”پھل فروش“ جیسا سلوک تو نہیں کرتے جس کے پاس ایک فقیر گیا اور اسے کہا ”اللہ دے ناں تے کجھ دیو“.... پھل فروش نے ایک گلہ سڑا آم اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ پھر اس فقیر نے اسے پچاس روپے دئیے اور کہا ایک کلو آم دے دو۔ پھل فروش نے چن چن کر اچھے اچھے آم نکالے اور شاپر بیگ میں ڈال کر اسے پکڑائے تو فقیر نے آسمانوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ”ربا ویکھ اینہے تینوں کیہ دتا ای تے مینوں کیہ دتا ای“.... اور آخر میں ہمیں اپنے محترم صدر مملکت کی اس ”پریشانی“ پر بھی بات کرنی ہے جو وہ بیرون ملک بیٹھ کر بذریعہ اشتہارات ظاہر کر رہے ہیں۔ کل اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کے ذریعے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک پر نازل ہونے والے سیلابی اور ڈینگی عذابوں سے نجات کےلئے اجتماعی دعا کریں۔ مجھے نہیں معلوم جس قسم کے حکمران عوام نے خود پر نازل کر رکھے ہیں ان کی اجتماعی دعا بھی کوئی رنگ لاتی ہے یا نہیں؟ ویسے ہو سکتا ہے صدر مملکت کی اپیل پر ”قوم“ جب سیلابی اور ڈینگی عذابوں سے چھٹکارے کیلئے ”اجتماعی دعا“ کر رہی ہو تو ایک آدھ اور ”عذاب“ سے چھٹکارے کی دعا کرنا بھی اسے یاد آجائے۔ مجھے یقین ہے ایسی صورت میں آئندہ کوئی صدر قوم سے ”اجتماعی دعا“ کی اپیل کرنے کا رسک نہیں لے گا!