ملکی سلامتی کےلئے امریکہ سے دامن چھڑانا ہوگا

ریاض احمد چودھری
بقول مرزا اسلم بیگ ، امریکی لفظ وفا سے آشنا ہی نہیںہیں۔ انہوںنے آج تک کسی دوست کے ساتھ وفا نہیں کی۔لیکن دوسری طرف ہمیں ہی بے وفا اور ناقابل اعتماد دوست گردانا جا رہا ہے۔ جوبائیڈن کے مطابق پاکستان امریکہ کا ناقابل اعتماد دوست ہے۔ ہم پر ناقابل اعتماد ہونے کا الزام وہ عائد کر رہے ہیں جن کی سرشت میں بے وفائی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔
نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار دیا تو طاقت کے نشے میں اس نے صرف اپنے مفادات پر نظر رکھی اور اپنے اتحادی کے مفادات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اس کی خواہش تھی کہ پاکستان ہر ایسے گروہ کو روند ڈالے جو امریکہ کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ مشرف چونکہ امریکہ سے خوفزدہ تھے اس لئے انہوں نے امریکی جنگ میں اپنے ملک کے مفادات کو بھی داﺅ پر لگا دیا اور یوں امریکیوں کے منہ کو جیسے خون لگ گیا۔ انہوں نے پاکستان کو ایسے راستے پر ڈال دیا جس سے واپسی تقریباً ناممکن تھی تاہم جب پاکستان میں حکومت تبدیل ہوئی اور جنرل اشفاق پرویز کیانی آرمی چیف بنے تو ان کے سامنے دو بڑے چیلنج تھے۔ اول پاک فوج پر قوم کے اعتماد کی بحالی اور دوم امریکی جنگ میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ۔ ا±دھر صورتحال یہ تھی کہ نئی حکومت فوج اور آئی ایس آئی کے کردار کے حوالے سے امریکیوں کے ساتھ کچھ ایسی بات چیت کر رہی تھی جس سے پاک آرمی کے مفادات کو زک پہنچنے کا خدشہ تھا۔ پوری قوم اور سیاسی جماعتیں چونکہ اس حوالے سے فوج کے ساتھ کھڑی تھیں اس لئے حکومت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور آگے چل کر حکومت نے فوج کے ساتھ اپنے تعلقات بھی بہتر بنالیے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ فوج اور حکومت کبھی مبہم طریقے سے اور کبھی اشاروں کنایوں میں امریکہ کو باور کرا رہی ہے کہ سب کچھ ویسے ہی نہیں چلے گا جیسے چل رہا تھا بلکہ اب امریکہ کو اپنے مفادات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مفادات بھی دیکھنا ہوں گے۔ یہ صورت حال چونکہ امریکہ کے لئے نئی اور مشکل تھی اس لئے واشنگٹن نے دباﺅ اور تحریص کے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیئے۔ ادھر پاکستان کے لئے چونکہ ہر امریکی خواہش پر لبیک کہنا مشکل تھا اس لئے امریکیوں کو بتا د یا گیا کہ اب معاملات برابری کی بنیاد پر ہی چلیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ حالیہ چند برسوں سے امریکیوں کی نظریں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر لگی ہوئی ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں ہمیں ان اثاثوں سے محروم کر دینا چاہتا ہے تاکہ اس کے بعد ہم واشنگٹن ، دہلی اور کابل کے رحم و کرم پر ہوں۔ اس مقصد کے لئے اس نے پاکستان میں اپنے جاسوس داخل کیے ، ہمارے لوگ خریدے اور کوشش کرتا رہا کہ ان اثاثوں کے قریب پہنچ جائے۔ اس کی ان کوششوں کو پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی نے کلی طور پر ناکام بنا دیا اور اب جبکہ وہ اپنے عزائم کو بے نقاب کرچکا ہے تو حکومت اور آرمی دونوں کو سمجھ آگئی ہے کہ امریکیوں کو ایک خاص حد میں رکھنا ضروری ہے ورنہ یہ ہمیں اپنے تحفظ کی سب سے مضبوط ضمانت سے محروم کر دیں گے۔
امریکی عزائم کو ناکام بنانے میں چونکہ پاک آرمی نے کلیدی کردار ادا کیا اس لئے انہوں نے مختلف حوالوں سے افواج پاکستان کو اپنا ٹارگٹ بنالیا اور اس کے خلاف بے بنیاد اور مذموم پراپیگنڈے میں لگ گئے۔ ادھر سے بھی آنکھیں دکھائی گئیں تو امریکیوں کو یقین ہوگیا کہ اب وہ پاکستانی فوج کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال نہیں کرسکے گا چنانچہ مائیک مولن کے بیان کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ بالکل ٹھیک سمجھ رہے ہیں کیونکہ فوج ہی نہیں عوام بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی چاہتے ہیں اور ایسی امریکی امداد لینے سے گریزاں ہیں جس کے ساتھ امریکی مفادات اور مطالبات کی لمبی فہرست جڑی ہو۔ ہم پاک فوج کے سربراہ کو یقین دلاتے ہیں کہ اگر انہوں نے ملک اور قوم کو امریکی غلامی، قرضوں اور امدادوں کے چنگل سے نکال دیا تو قوم انہیں اپنا مسیحا سمجھے گی اور وہ پاکستانی تاریخ کے مقبول ترین جرنیل بن جائیں گے۔