قومی ایجنڈا اور مسلم لیگوں کا اتحاد

قاضی مصطفی کامل
مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اس وقت جن معاشی، سیاسی اور امن و امان کے اندرونی مسائل اور بیرونی سازشوں میں گھرا ہوا ہے اس کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور دیگر سٹیک ہولڈرز مل بیٹھیں اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے ایک متفقہ قومی ایجنڈا تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ملک ایٹمی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے تو اپنے مسائل پر قابو پا کر معاشی ترقی کی منزل بھی حاصل کر سکتا ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ پاکستانی قوم بے پناہ صلاحیتوں کی حامل ہے۔ اسے اگر قومی سطح پر درست رہنمائی مل جائے دیانتدار اور کرپشن فری لیڈر شپ میسر آ جائے تو پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے چند برسوں میں اقتصادی پسماندگی کی دلدل سے باہر نکل سکتا ہے۔ سیاستدان اگر مل بیٹھیں تو کراچی میں امن و امان کا مسئلہ بھی دنوں میں حل ہو سکتا ہے۔ میاں نواز شریف کی متذکرہ تجویز پر ملک کے اکثر و بیشتر سیاسی رہنماﺅں نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بالخصوص پیپلز پارٹی کے مرکزی وائس چیئرمین امین فہیم نے اور مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین نے نواز شریف کی تجویز کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے بلکہ چودھری شجاعت حسین نے ایک قدم آگے بڑھ کر کہا ہے کہ وہ تو شروع دن سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ملک کے مسائل کے حل کے لئے اور اس کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے نہ صرف مسلم لیگوں کا اکٹھا ہونا ضروری ہے بلکہ تمام سیاستدانوں کو موجودہ بحران سے پاکستان کو نکالنے کے لئے دل بڑا کرکے ایک میز پر بیٹھ جانا چاہئے اور ایک مشترکہ قومی ایجنڈا تشکیل دینا چاہئے۔ مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ہم خیال، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کی طرف سے بھی نواز شریف کی تجویز پر مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ملک کو اقبال اور قائداعظم کے افکار کی روشنی میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی ذمہ داری دوسری جماعتوں سے زیادہ مسلم لیگ کی ہے کیونکہ پاکستان کی بانی جماعت نے قائداعظم کی عظیم قیادت میں یہ وطن انگریز اور ہندو کی مشترکہ قوت اور سازش کو شکست دے کر حاصل کیا تھا اور تحریک پاکستان کے وقت برصغیر کے کونے کونے سے مسلم لیگی کارکنوں کے اجلاسوں اور ریلیوں میں سب سے مقبول نعرہ ہی یہی ہوتا تھا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا۔ لاالہ الا اللہ“ اور اسی نظرئیے کی خاطر لوگوں نے قربانیاں دیں۔ گھر بار لٹائے، جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت اسی ”لا الہ الا اللہ“ کے نظرئیے کے تحت ہی عمل میں آئی اور اگر پاکستان کو قائداعظم کے فرمان کے مطابق اسلام کا قلعہ بنانا مقصود نہیں تو پھر کم و بیش ایک کروڑ مسلمانوں کی ہجرت کس کھاتے میں ڈالیں گے۔ اگر پاکستان کو ایک اسلامی مملکت نہیں اور ایک سیکولر ملک ہی بنانا مقصود تھا تو پھر سیکولر بھارت ہی ان کی منزل قرار پاتا اور اگر پاکستان ایک سیکولر ملک قرار دے کر ہندوستان سے نقل مکانی کرنے والے کو پھر مہاجر نہیں پناہ گزین کہلائیں گے۔ اس لئے خدارا ایک کروڑ مسلمانوں کی ہجرت کا مذاق نہ اڑایا جائے۔ ایسے گمراہ کن نظریات کا جواب تو مسلم لیگ ہی دے سکتی ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلم لیگوں کا اتحاد ہو۔ اب جبکہ مسلم لیگ ن کے بعد مسلم لیگ کے دوسرے بڑے گروپ کے سربراہ چودھری شجاعت نے بھی نہ صرف نواز شریف کی تجویز کی تائید کی ہے بلکہ مسلم لیگوں کے اتحاد کی ضرورت کا بھی اظہار کیا ہے۔ پیر صاحب پگاڑہ شریف جو ایک گروپ کے صدر ہیں پہلے غیر مشروط طور پر مسلم لیگ کے اتحاد کے حق میں بیان دے چکے ہیں۔ یہ بات ان کے نمائندہ نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام مسلم لیگ اتحاد کانفرنس میں ان کی طرف سے کہی تھی۔ اسی لئے نواز شریف کی طرف سے ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے قومی ایجنڈا تشکیل دینے کی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگوں کے اتحاد کی طرف بھی پیش رفت کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ نواز شریف کو خود ہی آگے بڑھنا چاہئے۔ اپنی جماعت کا دو تین رکنی وفد بنا کر دوسرے قائدین سے رابطوں کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے۔