قرآن ”کو“ ہی نہیں‘ قرآن ”کی“ بھی مانو

ڈاکٹر راشدہ قریشی
ابھی چند روز قبل کوئٹہ میں ڈی آئی جی فرنٹیئر کور بلوچستان کی رہائش گاہ پر یکے بعد دیگرے 2 خودکش حملوں میں 26 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہو گئے۔ 9-11-2001 کے بعد پاکستان میں اب تک خودکش حملوں و بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 35 ہزار سے زائد ہے جوکہ نہایت قابل افسوس ہے تاہم اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج ملک کے طول و عرض پر ہونے والے بم دھماکوں کے ان واقعات کو ایک دہائی کا عرصہ ہو گیا لیکن ہماری انتظامی فورسز حالات میں بہتری لانے میں ناکام چلی آرہی ہیں۔ دوسری جانب وطن عزیز کا بین الاقوامی تجارتی مرکز شہر کراچی گذشتہ تین دہائیوں سے شرپسندوں کی لگائی آگ کی شدید لپیٹ میں ہے۔ آئے روز کی بوری بند لاشوں کے ملنے اور بھتہ خوروں کی لوٹ مار سے پریشان شہر کراچی کے باشندے محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ کراچی میں بے رحمی سے قتل کی گئی سربریدہ بوری بند لاشوں کے ملنے کا سلسلہ رمضان کے ایسے مہینے میں بھی جاری رہا جب ہر چند نیکی کرنے کی رغبت بڑھ جاتی ہے اور دوسروں کی جان مال و عزت کی حفاظت احترام رمضان کا تقاضا ہوتا ہے لیکن شہر کراچی کا امن و امان تباہ کرنے والوں نے ماہ رمضان کے تقدس کو بھی بالائے طاق ہی رکھا۔ ٹارگٹ کلنگ کے بے رحمانہ واقعات ہوں یا بم دھماکوں و خودکش حملوں میں معصوم جانوں کی تلفی.... غور طلب امر یہ ہے کہ دھائیاں گزر جاتی ہیں اور ہم ملک پاک میں کسی بھی طرز کے سنگین حالات کو قابو کرنے میں ناکام کیوں رہتے ہیں؟ ہم اپنے ہم وطنوں کی جان مال و عزت کے تحفظ کا ساماں کیونکر نہیں کر پاتے؟ جیساکہ اگر 80ءکی دہائی میں کراچی جیسے شہر کے حالات خراب ہوتے ہیں تو ان حالات میں بہتری لانے کے لئے آج 2011ءتک قائم ہونے والی ہر حکومت بشمول موجودہ حکومت کوئی بھی عملی مظاہرہ نہ کر سکی۔ کراچی کے حالات کے پس پشت کیا محرکات ہیں؟ کونسے اندرونی و بیرونی ہاتھ ہیں؟ کیا ہم اب بھی انہیں سوالات کا کھوج لگانے اور کمیشن قائم کرنے تک محدود رہیں گے؟ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے مشہور و معروف بیانات کو جنہیں عدالتی و قانونی پیرائے میں ڈھالا جا سکتا ہے‘ کو کوئی خواہ کتنا ہی شک کی نگاہ سے دیکھے تاہم ان کا سر پہ قرآن رکھ کر بیان جاری کرنے کے عمل نے ملک کے ہر فرد کو ہلا دیا ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے قرآن اٹھا کر شاید اس لئے بات کی کہ اب ہم نے ایک دوسرے کی زبان پہ اعتبار کرنا چھوڑ دیا ہے یا شاید اس لئے کہ ان کی بات کے بعد کسی دوسرے کی بات ہی نہ رہے۔ وطن عزیز کے حالات کی سنگینی سے نالاں باشعور و صاحب ایماںافراد کی پریشانی یہ ہے کہ آج ہماری مقدس کتاب الٰہی کی حیثیت کیا صرف قسم کھانے کیلئے اٹھانے تک محدود ہوکر رہ گئی ہے؟ آخر قرآن کیا کہتا ہے؟ ہم اس طرف کیوں نہیں آتے۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ زرداری، گیلانی، ملک، مرزا و بھائی الطاف بالآخر ہم سب ہی تو کلمہ گو ہیں۔ کیا ہم جانتے نہیں کہ جس نے قرآن حکیم کو نازل کیا اور جس
پر نازل کیا‘ وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی چاہت و منشاءسے بے راہ رہنا بس یہی ایک اصل ہے ہمارے پیارے پاکستان میں موجود فتنوں و فسادات کی۔ ہماری ریاست کے حاکم دیگر حاکموں کے خلاف بولتے اور لڑتے ہیں اور یہی حاکم، حاکموں سے اپنی حکومتوں کیلئے مفاہمتوں کی حکمتیں لیکر دور حکومت نبھا جاتے ہیں جبکہ مسلمان ریاست کے حاکم کا تصور مضبوط ایمان‘ انصاف‘ خوف خدا اور تقویٰ کے ساتھ وابستہ ہے۔ بے ایمان و خوف خدا سے عاری دل اگر آج کہیں شاہی ایوانوں میں بیٹھے ہیں اورکچھ اس طرح بیٹھے ہیں کہ وہ مخلوق خدا پہ ظلم وجور کر سکیں.... کچھ اسطرح کہ محض اپنی قائم حکومت کی ”جے“ قائم کر سکیں.... کچھ اسطرح کہ اقتدار و قوت کی اوٹ خود کے جرائم کو تحفظ دے سکیں تو ایسے شاہی ایوانوں کو فوراً ٹوٹ جانا چاہئے.... محض ذوالفقار مرزا کے استعفے و رحمان ملک کی رخصتی کے مطالبے سے حالات درست نہیں ہوں گے وگرنہ اللہ تو صاحب قدرت ہے وہ ایک بے عمل قوم کی جگہ دوسری قوم لے آتا ہے جو پہلے سے بہتر ہوتی ہے وہ بہترین حکمت والا ہے۔ یہ قرآن ہے جو مسلمان تو کیا تمام بنی نوع انسان کیلئے رہتی دنیا تک سرچشمہ ہدایت ہے تو خدا کو حاضر ناظر جان کر قانونِ وطن کہ جس کی بنیاد شریعت کی بالادستی پہ ہے، کے مطابق حکومت چلانے کا عہد کرنے والو‘ اپنی تقریروں میں قرآن پڑھ کر سنانے والو اور قرآن سر پہ اٹھا کر قسمیں کھانے والو.... قرآن ”کو“ ہی نہیں، قرآن ”کی “بھی مانو، قرآن کے بتائے راستے پہ چل کر دیکھو تمام سنگینیاں نابود ہو جائیںگی۔