صدر سہارتو کا انجام یاد رکھیں

مصباح کوکب سابق ایم پی اے
پاکستان میں آج معاشی، سیاسی اور اخلاقی ابتری بڑھتی جا رہی ہے اور ان سب برائیوں کا آپس میں خود انحصاری کا تعلق ہے۔ اگر معیشت کا ڈھانچہ شکست و ریخت کا شکار ہو تو اس کے اثرات قوم کے اخلاقی اور سماجی نظام کو بُری طرح متاثر کرتے ہیں۔ اسی طرح سیاسی نظام کی حقیقت ہے اگر یہ رشوت، بددیانتی اور نااہلی کا شکار ہو جائے تو پورا قومی نظام اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر حالات جوں کے توں اپنی قسمت پر چھوڑ دیئے جائیں تو قوموں کا وجود شکست دریخت کا شکار ہو جاتا ہے اور یوں وہ اپنے وجود سے محروم ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ انتہائی خود غرض اور بددیانت لیڈر شپ قوم پر مسلط ہے جسے پاکستان دشمن طاقتوں کی بھرپور مدد حاصل ہے جس میں امریکی سی۔ آئی۔ اے کا اوّلین کردار ہے۔ معیشت اور سیاست کا ڈھانچہ بکھر چکا ہے اور قوم سخت مایوسی کا شکار ہے۔ وہ اہم مقاصد جن کیلئے پاکستان کی تخلیق کی گئی تھی یعنی اسلامی نظریہ اور سماجی انصاف، وہ آنکھوں سے اوجھل ہو چکے ہیں اور کرپشن کا روگ پورے اجتماعی نظام کے رگ و ریشے میں سما چکا ہے حتیٰ کہ پچھلے حکمران جماعت کے ایک رکن قومی اسمبلی نے ملک کے چیف ایگزیکٹو کو تو سب سے بڑھ کر کرپشن میں ملوث قرار دے دیا۔ ایک اندازے کے مطابق قوم کے ہر سال 2000 ارب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے
ہیں۔ سٹیل ملز، ریلوے، واپڈا، پی آئی اے اور دیگر سرکاری اداروں کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ حکمرانوں کی بے جا سیاسی مداخلت ہے۔ کرپشن کی یہ وباءہی مہنگائی میں ناقابل برداشت اضافے کا ایک بنیادی سبب ہے۔ مختلف مافیاز، دھونس دباﺅ اور دھمکیوں کے ذریعے روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر جبری طور پر چندے کے نام پر مقررہ رقوم وصول کرتے ہیں تو یہ ادائیگیاں قیمتوں میں شامل ہو کر عام آدمی تک منتقل ہو جاتی ہیں اور یہ سب Good Governance اور چیک اینڈ بیلنس کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ پاکستان کے عام شہری بالخصوص انتہائی محدود وسائل سے زندگی کی گاڑی کھینچنے پر مجبور کروڑوں غریب ان حالات سے تنگ آ چکے ہیں اور Governance کا تو یہ حال ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ انسان روئے یا ہنسے! خبر ہے کہ ریلوے سٹیشن پر کھڑی ایک بوگی غائب ہو گئی۔ خدایا! یہ قائد اعظم کے ملک میں عوام کے اثاثوں کے ساتھ انصاف ہو رہا ہے جو ہمارے وسائل کے امین تھے اور ہیں وہ خود ہی کرپشن کی لعنت میں چوٹی سے ایڑی تک لت پت ہیں۔ حالانکہ ان کا اصل کام ملک کے وسائل کا تحفظ کرنا ہے۔ کرپٹ لیڈر شپ سے میری گزارش ہے کہ اس قوم نے کرسی کی مضبوطی کا دعویٰ کرنے والوں کا انجام بھی دیکھ لیا۔ دو تہائی اکثریت کے زعم میں مبتلا حکمرانوں کو بھی عرش سے فرش پر آتے دیکھا اور طاقت کا مظاہرہ دیکھنا ہے تومُکا لہرا کر کہا کہ کراچی میں دیکھ لیں یہ سب کسی کو نہیں بھولا بلکہ انڈونیشیا کے سابق صدر سہارتو کا انجام تو کبھی بھی نہیں بھلانا چاہیے۔ انڈونیشیا کی عدالت نے اپنے سابق صدر سہارتو کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت کو بتایا گیا کہ سہارتو تو سن نہیں سکتا۔ دیکھ نہیں سکتا۔ بول نہیں سکتا اور نہ ہی کسی کو پہچان سکتا ہے وہ تو عملاً مر چکا ہے کیونکہ اسے صرف آکسیجن کے ساتھ زندہ رکھا گیا ہے۔ سہارتو نے اربوں ڈالر کی کرپشن کی تھی جب اسے دفنانے کا وقت آیا تو اسے صرف کفن نصیب تھا مگر اس کا کوئی بیٹا، بیٹی یا کوئی اور رشتہ دار پاس موجود نہ تھا کیونکہ سب لوگ جیلوں میں ہیں۔