جواب حاضر ہے ...! (دوسری اور آخری قسط)

ڈاکٹر صفدر محمود
شاید ہی کسی کو قومی ریاست کے قیام کا شرف حاصل ہوا“۔ ”قائداعظمؒ عالمی تاریخ میں واحد شخص ہیں جنہوں نے بیک وقت یہ تینوں کارنامے سرانجام دیئے“۔ کہ لمحاتی فیصلے کرنے والا گوشت پوست کا انسان تاریخ میں یہ مقام حاصل کرسکتا ہے؟ اسی انداز میں شامی صاحب نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ مشرقی بنگال جاتے ہوئے بھارت کی فضا میں قدم رکھنا پڑے گا تو پھر زمین پر قدم رکھنا کس طرح ناقابل برداشت ہوسکتا ہے۔ گویا شامی صاحب کے نزدیک فضا سے گزرنا زمین پر قدم رکھنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح اب وہ منیر احمد منیر کی کتاب سے قائداعظمؒ کے سکیورٹی افسر ہنوئیا کے انٹرویو کو ڈھونڈ کر لائے ہیں جس سے اس حقیقت کی تو تصدیق ہوتی ہے کہ قائداعظمؒ ہندوستان رکے بغیر ڈھاکہ گئے لیکن ان کے سٹاف کے طیارے کو ری فیول کےلئے وہیں رکنا پڑا۔ اس پر قائداعظمؒ نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ جذبات سے ہٹ کر سوچئے کہ کیا گورنر جنرل کا دہلی میں رکنا اور ان کے سٹاف کا رکنا ایک ہی بات ہے؟ ریاستوں کے درمیان تعلقات کا تعین حکمران کرتے ہیں یا حکمرانوں کا ذاتی سٹاف؟۔ اس دور میں ہزاروں پاکستانی ہندوستان آ جا رہے تھے۔ اورینٹ کمپنی کی ڈھاکہ کے لئے ہر پرواز دہلی میں ایندھن کے لئے رکتی تھی جس میں پاکستانی افسران بھی ہوتے تھے۔ اس لئے اس آمدورفت کا موازنہ گورنر جنرل کے دورے سے نہیں کیا جاسکتا۔
شامی صاحب نے ہندوستانی سفیر کے 30 جولائی والے جس خط کا ترجمہ پیش کیا تھا وہ میرے سامنے رکھا ہے۔ اس خط سے برادرم عطاء الحق قاسمی کے ہر اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ قائداعظمؒ کی ”تو خواہش تھی کہ وہ سال میں چند ہفتے ممبئی میں گزارا کریں“۔ یہ بات مجھے انہونی لگی اور یہیں سے اس بحث کا آغاز ہوا تھا۔ اس خط میں لکھا ہے۔
How Much you loved Bombay and hoped, when things were settled, to go back there some day
مطلب یہ کہ انہیں بمبئی سے پیار ہے اور جب کبھی حالات ٹھیک ہوئے تو وہ کسی دن ممبئی جانا چاہیں گے۔ ان الفاظ کو غور سے پڑھئے تو مفہوم واضح ہوتا چلا جائے گا۔ قائداعظمؒ جانتے تھے کہ ہندوستان پاکستان کا گلا گھونٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور ہندوستان نے پاکستان کے حصے کا کیش بھی اس وقت دیا جب انہیں پتہ چلا کہ پاکستان کو مالیاتی موت سے بچانے کے لئے حیدر آباد ریاست نے بیس کروڑ روپے دے دیئے ہیں اور یہ کہ گاندھی کا مرن برت ڈرامہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہا کہ اگر کبھی حالات ٹھیک ہوگئے تو وہ کسی دن بمبئی جانا چاہیں گے۔ بہرحال یہ ایک مشروط اور مبہم خواہش کا اظہار تھا اور اس خط کے چالیس دنوں بعد ان کا انتقال ہوگیا۔ اسی حوالے سے شامی صاحب نے میری شدید غلطی کی نشاندہی کی ہے کہ میں نے پاکستان کے حصے میں آنے والی رقم 750 کروڑ روپے لکھی جبکہ یہ رقم 75 کروڑ تھی۔ شامی صاحب حساب کتاب کے ماہر ہیں لیکن یہاں وہ بھی غلطی کرگئے ہیں۔ 75 کروڑ میں سے 20 کروڑ کی ادائیگی کے بعد 55 کروڑ بچتے ہیں جبکہ انہوں نے 65 کروڑ لکھ دیا۔ یہ غلطی کمپوزنگ کی ہوگی، شامی صاحب کی نہیں ہوسکتی۔ ایس ایم برک انڈین فارن سروس کے رکن تھے۔ بعد ازاں پاکستان کی فارن سروس میں رہے اور گیارہ ممالک میں ہائی کمشنر، سفیر و وزیر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ امریکی
یو نیورسٹی منی سوٹا میں پروفیسر رہے۔ انہوں نے انگریزی میں کتاب لکھی ہے جس کا نام پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے۔ اس اعلیٰ درجے کی تحقیقی کتاب کو آکسفورڈ یونیورسٹی نے چھاپا ہے۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 13 پر برک نے پاکستان کا حصہ 750 کروڑ روپے لکھا ہے۔ میں نے اعدادوشمار اس کتاب سے لئے ہیں لیکن چودھری محمد علی کے بیان کے بعد میں اس ہندسے کے بارے میں مشکوک ہوگیا ہوں۔ گزشتہ کالم میں برادرم شامی صاحب نے ہندوستانی سفیر کے خط کے حوالے سے لکھا تھا کہ ”کشت و خون نے قائد پر جو بھی گہرے اثرات مرتب کئے ہوں ان کے وژن کو بہرحال متاثر نہیں کیا تھا“۔ اس حوالہ سے جاتے جاتے یہ واقعہ پڑھ جایئے۔ امید ہے کہ شامی صاحب نے شریف المجاہد کی ہیکٹر بولتھو کے نوٹس پر مشتمل کتاب ”IN THE QUEST OF JINNAH“ پڑ ھی ہوگی۔ بولتھو قائداعظمؒ کے سرکاری سوانح نگار تھے۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 207 پر یہ واقعہ درج ہے۔ ”قیام پاکستان کے چند ماہ بعد گاندھی نے حکومت پاکستان کو خط لکھ کر پاکستان کے دورے کی اجازت چاہی۔ حکومت (کابینہ) کے کئی اراکین اس کے حق میں تھے جب یہ معاملہ قائداعظم کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ کابینہ کے فیصلے کو ”ویٹو“ یعنی مسترد کردیں گے“۔ اس دور میں گورنر جنرل کے پاس کابینہ کے فیصلوں کو مسترد کرنے کا اختیار تھا۔ اگرچہ 1952ءتک کسی گورنر جنرل نے کابینہ کے کسی فیصلے سے اختلاف نہ کیا۔ چنانچہ گاندھی پاکستان نہ آسکے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہندوستان کے حوالے سے قائداعظم کا وژن یہ تھا نہ کہ وہ جسے میرے دوست شامی صاحب پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں نے اس حوالے سے جو کہنا تھا، کہہ دیا۔ میں اس بحث کو طول نہیں دینا چاہتا۔ سمجھنے والے سمجھ جائیں جن کو نہیں سمجھنا ان کا علاج ندارد…!!