ایک سالا مچھر انسان کو ہیجڑا بنا دیتا ہے

کالم نگار  |  مطلوب احمد وڑائچ

پاکستان اپنے جغرافیائی عوامل کی وجہ سے دیگر ان ممالک جیسے جاپان ،میکسیکو اور نارتھ امریکہ سے بہت بہتر پوزیشن میں ہے، جہاں زلزلے ،سونامی اور دیگر قدرتی آفات اکثر تواتر سے آتی رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں قیام پاکستان سے چند سال قبل کوئٹہ میں ایک بڑا زلزلہ آیاجس میں ہزاروں جانیں لقمہ اجل بنیں اور پھر وقتاً فوقتاً آمریت اور آفات اس خطے میں مسلسل آتے رہے۔ یہ سب عذاب الٰہی ہی ہے کہ ہماری قوم نے ہمارے حکمرانوں نے ان اشاراتِ الٰہی کو نہ سمجھا۔ 2005ءکے زلزلے نے لاکھوں جانیں لیں مگر ہمارے بے حس آمر حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ سانحہ لال مسجد کے بعد سے ہماری قوم ، ہمارے وطن کو جن حالات کا سامنا ہے، ہزاروں سویلین و عسکری جوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہزاروں ،لاکھوں گھروں میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہیں مگر ہمارے عاقبت نااندیش حکمران اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دے کر حقیقت سے پہلوتہی برتنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آج وطن عزیز کے ہر کونے پر لگی بدامنی، دہشت گردی،لوٹ کھسوٹ ،چوری، ڈاکے، قتل وغارت گری اور چادر اور چاردیوار کے ماتھے پرلگا یہ بدنما داغ ہمیں سوچنے پر مجبور کیوں نہیں کرتا کہ کوئی وجہ تو ہے کہ یہ ساری آفات اور پھر آٹے، چینی، چاول، دال، سبزیوں اور کھاد، پانی ،گیس اور بجلی کے بحران کہیں ہماری اپنی بے عملیوں ،بداعمالیوں اور ہدایت کے راستے سے ہٹ جانے کی وجہ سے تو نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قائداعظمؒ ،حضرت علامہ اقبالؒ ، لیاقت علی خان شہید، ذوالفقار علی بھٹو شہید، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی صورت راہ دکھانے کے لیے راہنما دیئے اور ہم نے کیا کیا ان کے ساتھ؟ کسی کو ایمبولینس کے انتظار میں سڑک پر مرتے چھوڑ دیا، کسی کو بیچ سڑک بم سے اڑا دیا، کسی کو تختہ دار پر لٹکا دیا، کسی کو بے رحم گولی سے بھون دیا؟ اور پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اچھے حکمران ،راہبر نصیب نہیں کرتا؟موجودہ حکومت کے ساڑھے تین سال مکمل ہونے کو ہیں اس درمیان ڈھیروں پانی پلوں کے نیچے سے گزر گیا۔ ہماری قوم بحرانوں، سازشوں اور سیاست دانوں کی آپس کی عداوتوں اور انتقامی سیاست کا شکار ہو کر ایک نفسیاتی مریض کی سی مانند ہے۔ ہم انقلاب اور خونیں انقلاب کی باتیں کرتے ہیں مگر پانچ روپے کلو مہنگی چینی اور ٹماٹر،پیاز دو روپے کلو مہنگے ہو جانے پر تو شور مچاتے ہیں مگر ملکی معاملات پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ ہماری مرضی کے خلاف بنائی جانے والی خارجہ پالیسی پر کان بند کر لیتے ہیں۔ حکمرانوں کی لوٹ مار پر اپنا ضمیر بند کر لیتے ہیں اور پھر توقع کرتے ہیں کہ بغیر ڈرائیور کے گاڑی چلے، بغیر پٹرول کے گاڑی چلے اور بغیر آیت اللہ خمینی کے انقلاب برپا ہو جائے؟
پچھلے سال آدھا سندھ ڈوبا تھا۔ 40فیصد پنجاب اور 70فیصد خیبر پی کے ڈوبا تھا۔ سال بھر میں ہم نے کیا کیا ، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ آج پھر سیلاب آیا ہے پھر باقی بچا پاکستان ڈوب گیا ہے اور ہم اپنی بداعمالیوں کو چھپانے کے لیے پرآسائش ہوٹلوں میں بیٹھے ملک سے دور عوام سے دعائیں مانگنے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ عوام کی دعائیں سن لے اور ہمارے ان حکمرانوں کے لوٹ کھسوٹ کے دن مزید بڑھ جائیں؟
ہمارے سندھی و پختون بھائی اگر اللہ رب العزت کے اشارے سمجھ جاتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے اور ڈیم بنا لیتے ،کالا باغ جیسے درجنوں ڈیم بنا کر ہم ایسے کئی سیلابوں کو اپنے اندر جذب کر لینے کی ہمت رکھتے ہیں مگر ہم نہ کبھی خود بچیں گے نہ دوسروں کے لیے بچنے کا سبب بنیں گے۔ ارے پاکستان کے لیے نہیں پنجابی، بلوچی، پٹھان، سندھی کے لیے نہیں خود کو ہی بچانے کے لیے ڈیم بنالیں۔
جو حکمران قوم کو اصلی خوراک دینے میں ناکام رہیں ہر ضروریات زندگی کی چیز میں ملاوٹ ہے۔ حتیٰ کہ ادویات وہ چاہے انسانی ہوں یا حشرات الارض سے بچنے کی سب کی سب جعلی ہیں۔ حتیٰ کہ خودکشی کے لیے اصلی زہر تک نہیں ملتا اگر آپ کے تعلقات صاحب اقتدار سے نہ ہوں۔ جو قوم کیڑے مار ،مچھر مار دوائیاں اور سپرے جعلی استعمال کرنے پر مجبور ہو وہ قوم کبھی بھی مچھر نہیں مار سکتی۔ خادم اعلیٰ پنجاب ڈینگی مار سپرے یا دوائی بھی بھارت ایسے ازلی دشمن سے امپورٹ کرنے پر مجبور ہیں بشرطیکہ وہ ایکسپورٹ کرنے پر راضی ہو۔ کیونکہ وہ خود بھی سیلابوں کی زد میں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک فلم میں اداکار کہتا ہے کہ ”ایک سالا مچھر انسان کو ہیجڑا بنا دیتا ہے“ انہی مچھروں کے ہاتھوں خدائی دعویٰ کرنے والا نمرود جوتے کھا کھا کر مرا یہی حال سکندر اعظم کا ہوا اور شاید انہی مچھروں کے ہاتھوں ہمارے موجودہ حکمران بھی اپنے انجام کو پہنچ پائیں گے؟ نہ کل کوئی نمرود اللہ رب العزت کے احکام کو جھٹلا سکا نہ آج کا کوئی نمرود اللہ تعالیٰ کے احکامات کی حکم عدولی کر سکتا ہے۔ بس سوئی ہوئی قوم جاگ جائے تو یہ سیلاب اپنا رخ موڑ لیں گے یہ مچھر اپنی راہیں بدل لیں گے۔