اپیل برائے وزیر اعلیٰ پنجاب

مکرمی! میاں شہباز شریف نے خادم اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے غیر ملکی امداد نہ لینے کا جو نعرہ لگایا ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے، وہ کم ہے۔ جناب عالی! جب تک آپ اپنے صوبے سے کرپشن کو ختم نہیں کریں گے، اس وقت تک آپ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ جس کی مثال آپ صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی ہی لے لیں۔ لاہور شہر کے جتنے ٹاﺅن انتظامیہ کے دفاتر ہیں، ان میں اربوں روپے کی کرپشن کروائی جا رہی ہے۔ جناب عالی! یہاں جس کرپشن کی نشاندہی کی جاتی ہے اس کرپشن کو نیچے سے لے کر اوپر تک کے آفیسران اس کرپشن کو ختم کرنے کی بجائے اس کرپشن میں باقائدہ حصہ دار بن جاتے ہیں۔ آپ سے التماس ہے کہ ٹاﺅنز میں ایماندار آفیسران کو تعینات کیا جائے۔ (ملک اکبر علی، 350-5-DI گرین ٹاﺅن لاہور۔فون:0322-4661942)
N.T.S عدلیہ نوٹس لے!
مکرمی! نوائے وقت میں 10ستمبر2011کے پرچے میں جمشید چشتی صاحب کا کالم ”N.T.S لوٹ مار پروگرام، عدلیہ نوٹس لے!“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وفاقی حکومت تعلیم کے نام پر N.T.S (نیشنل ٹیسٹنگ سروس) کے ذریعے ہر ماہ سینکڑوں نہیں بلکہ اب ہزاروں امیدواروں کے ذریعے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کما رہی ہے۔ میں خود چار مرتبہ یہ امتحان پوری تیاری کے ساتھ دے چکی ہوں لیکن ابھی تک مطلوبہ نمبر یعنی ”پاسنگ مارکس“ حاصل نہیں کر سکی۔ یہ ایسا امتحان ہے جس سے ایم اے کے طالب علم کے علم یا ذہانت یا معلومات میں ذرہ برابر بھی اضافہ نہیں ہوتا۔ ماسوائے وقت اور پیسے کے ضیاع کے امیدوار کو کچھ نہیں ملتا۔ میں جمشید چشتی صاحب کی آواز میں اپنی کمزور سی آواز شامل کر رہی ہوں۔ امید ہے چیف جسٹس آف پاکستان اس ظالمانہ امتحان کا ضرور نوٹس لیں گے۔(عائشہ عدنان، نیو سپر ٹاﺅن لاہور)