امید نہ ٹوٹے

فرخ بصیر
مشہور چینی فلسفی کنفیوشس کاقول ہے کہ اگر آپ کو بندوق، روٹی اور امید میں سے کسی ایک کو چھوڑنا پڑے تو پہلے بندوق چھوڑ دیں، پھر دو میں سے کسی ایک چیز کو چھوڑنا پڑے تو روٹی چھوڑ دیں مگر امید کسی صورت نہ چھوڑیںلیکن ڈینگی کے حوالے سے جس طرح آجکل سیاست و صحافت کا بازار گرم ہے اور جس طرح اسے ایک دہشت کی علامت کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے اگر ہم اس کا تدارک کرنے کی بجائے محض تنقید کے ڈونگرے برساتے رہے تو اس سے پھیلنے والی مایوسی پوری قوم کو اس موذی مرض کی طرح اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے.ڈینگی نے ان دنوں لاہور میں ایسی سراسیمگی پھیلا رکھی ہے کہ شہری خود کُش دھماکوں کے خوف کو ہی بھول گئے ہیں۔ اخبارات اور چینلز نے سیاست دانوں کی در گت بنانے کا سلسلہ روک کر اپنی تمام تر توانیاں ڈینگی پر لگا کر اسے ایک ایسا توانا دشمن ثابت کر دیا ہے جو نا قابل تسخیر ہے۔ بلا شبہ ڈینگی کے بخار نے کئی افراد کو لقمہ اجل بھی بنایا ہے اور لاہور کے تقریباً تمام ہسپتالوں میں روزانہ ہی ڈینگی کے کتنے مریض داخل ہو رہے ہیں ۔بات تشویش ناک تو ہے لیکن ایسی خطر ناک نہیں کہ ادھر میڈیا نے خوف بانٹنا شروع کر دیا تو ادھر سیاست دانوں نے ایک دوسرے کے خلاف ڈینگی کے مسئلہ پر زہر فشانی کاسلسلہ شروع کر دیا ۔ جس کے ساتھ ساتھ دوا ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات کی فروخت میں سر گرم ہو گئی ہیں۔ یوںاس وبا میں بھی ہر کوئی اپنا مفاد حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔مفاد پرستی ویسے بھی ہمارا طرہ امتیاز ہے ۔ کہ ہم تو لاشوں کی سیاست کرتے نہیں چو کتے پھر یہ تو ڈینگی ہے ۔ مگر اب پنجاب حکومت کی مشنری حرکت میں دکھائی دے
رہی ہے ۔ ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کے لئے وارڈز اور ادویات کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ سری لنکا سے ماہرین کی ایک ٹیم بلا لی گئی ہے ۔ شہر میں صفائی کے انتظامات کی بہتری کے لئے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ تازہ اطلاع ہے کہ محکمہ صحت کی طرف سے دو دوزہ ڈینگی کانفرنس بھی بلائی جا رہی ہے ۔ پنجاب کی سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں بھی اس وبا ءسے نپٹنے اور نمبر سکورننگ کے لئے میدان میں کوُد پڑی ہیں کہ حکومت کو نا اہل ثابت کرنے کا اس سے اچھا موقع شاید پھر نہ ملے ۔گزشتہ برس بھی ڈینگی کا وائرس پھیلا تھا لیکن اس شدت سے نہیں جس شدت سے اس نے اس بارلاہور کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔اس کی ایک بڑی وجہ وہی ہے جو ہمارے ملک میںہر کام کا بنیادی عوامل ہے یعنی غفلت اور بد انتظامی۔ ہماری انتظامیہ کو شاید
عادت ہو گئی ہے کہ مصیبت سر پر پڑنے کے منتظر رہتے ہیں۔ جس کے بعد اُن کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ بھی ہو جاتا ہے لیکن ہم ٹھہرے خطروں کے کھلاڑی۔ جب کہ قبل از وقت مناسب انتظامات سے ہم نہ صرف مسئلے کو گھمبیر ہونے سے بچا سکتے ہیں بلکہ اپنے بہت سے وسائل اور توانیائیوں کو بھی محفوظ کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرے کون؟ ہمیں یہ بات پیش نظر رکھنا ہو گی کہ بڑے شہروں کی طرف آبادیوں کی نقل مکانی جس سے رہائش خوراک اور صحت و صفائی کے مسائل بڑھنے لگتے ہیں نتیجتاًوبائی امراض کے پھوٹ جانے کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں ۔لہذا لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہر زیادہ انتظامی بندو بست اور وسائل کے مت±قاضی ہیں۔ مثلاً صحت و صفائی کا بہتر بندوبست، ہسپتالوں کی تعداد میں اضافہ،وبائی امراض کے پھیلنے کے موسموں میں ہنگامی بنیادوں پر کام اور انتظام۔ جیسے کہ برسات کے دنوں میں شہر بھر کی زیادہ صفائی اور تواتر سے گلی محلوں میں سپرے ڈینگی جیسی وبا میں اتنی کمی تو لا سکتا تھا کہ ہمارے ہاتھ پاﺅں نہ پھولتے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب انتظامیہ اس بلا کے سد باب کے لئے کیا اقدامات کر پاتی ہے اور اس پر کس حد تک قابو پا سکتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہو گا کہ آنے والے برسوں میں ڈینگی اور ایسی وباﺅں سے بچنے کے لئے حکومت مستقل بنیادوں پر ٹھوس حکمت عمل وضع کرے۔جس کے لئے انتطامیہ کو \\\" جب مصیبت آئے گی تو دیکھیں گے\\\" کی اپنی روایتی روش کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر باد کہنا ہو گا ۔