اتحاد بین المسلمین

بریگیڈیئر (ر) محمود الحسن سید
اتحاد اور یک جہتی کسی بھی معاشرے یا قوم کی بقا اور ترقی کے لئے ناگزیر ہیں۔ اسی لئے اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ ”آپس میں نفاق نہ ڈالو ورنہ دشمنوں پر تمہاری دھاک ختم ہوجائے گی“ آج پوری دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب کے قریب ہے اور مجموعی طور پر مسلم ممالک کو قدرت نے بے پناہ معدنی اور افرادی دولت سے نواز رکھا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی ان تمام نوازشات کے باوجود بطور امت ہم پستیوں میں گرے ہوئے ہیں اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔
کبھی ہم نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے کہ تمام دنیا میں سب سے زیادہ افلاس مسلم ممالک میں ہے۔ تعلیم کی کمی، علاج معالجے کی سہولیات کا فقدان انصاف کی غیر فراہمی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہماری پہچان بن چکی ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں مگر ان میں سب سکے اہم مسلم امہ میں اتحاد کا فقدان ہے۔ اتحاد کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ قائداعظم جیسے عظیم رہنما نے جو تین سنہری اصول ہمیں دیئے ان میں سے اتحاد ایک ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں میں اتحاد تقریباً ناپید ہے۔ جس کا فائدہ اٹھا کر مغربی طاقتیں ہمیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر کے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل میں مصروف ہیں اس سلسلے میں چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
-1ایران، عراق جنگ
-2عراق کی کویت پر لشکر کشی
-3سعودی عرب کے ایران سے کشیدہ تعلقات
-4پاکستان کے خلاف بھارت افغان گٹھ جوڑ
اور اب اس سلسلے میں تازہ ترین دشمنی کا ثبوت بنگلہ دیش نے دیا ہے کہ اس نے بھارت کے ساتھ مل کر ہماری تجارتی منڈیوں تک رسائی کے فیصلے کو موخر کروا دیا ہے۔
بدقسمتی سے ملکی سطح پر بھی اتحاد اور یک جہتی کا فقدان ہے جو ہماری بہت ہی بڑی کمزوری ہے جس کا ہمارا دشمن بالخصوص بھارت مکمل فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ہمارے یہاں مذہبی منافرت اور دھڑے بندی ہمیں گھن کی طرح کھا رہے ہیں۔ آئے دن عدم برداشت کیو جہ سے ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن میں متعدد بے گناہ لوگ پانی جانیں گنوا بیٹھے ہیں حالانکہ مذہب اسلام ہمیں پیار، محبت اور اخوب کا سبق دیتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی اور ملکی سطح پر تمام مسلم ممالک اپنے اختلافات کو ختم کر کے ایک جسد واحد کی طرح یکجا ہو جائیں اور ایک اسلامی بلاک بنا کر یہود اور نصاریٰ کی اپنے خلاف سازشوں کا توڑ کریں۔ ”OIC“ جو کہ اس وقت ایک بے جان اور غیر موثر تنظیم ہے اس کو فعال بنایا جائے اور اس ادارے کے ذریعے تمام مسلم ممالک کی ترقی اور فلاح کو یقینی بنانے کےلئے عملی اقدامات کئے جائیں اور اگر پوری دنیا کے مسلمان یکجا ہو جائیں تو پھر ترقی ان کا مقدر بن سکتی ہے کیونکہ United we stand divided we fall یعنی اتفاق میں برکت ہے۔