’’مرشد نے فیصلہ سنا دیا‘‘ … (آخری قسط)

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم قاسم

آج امریکہ بھی افغانستان میں نو سال سے برسرپیکار ہے۔ امریکہ بھی روس کی طرح وہاں سے بھاگنا چاہتا ہے۔ ہمیں کیا ملا۔ ڈرون حملے، خود کش حملے، نیٹو کے حملے، چودہ ہزار شہادتیں، معاشی بدحالی، سماجی ابتری، اور سیاسی نااتفاقی، ڈاکٹر صاحب پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا۔ قائداعظم نے کبھی نہیں کہا کہ وہ سیکولر مسلمان ہیں یا لبرل مسلمان ہیں۔ یہ کون سا ہود بھائی ہے جو قائداعظم کے پاکستان میں کہتا پھر رہا ہے کہ قائداعظم سیکولر تھے۔ میں نے امریکیوں سے باربار کہا کہ ہمیں سنٹروں (Centres) میں مت تقسیم کرو کہ فلاں مسلمان رائٹسٹ ہے۔ فلاں مسلمان لیفٹسٹ، فلاں بنیاد پرست، فلاں سنٹر آف لیفٹ اور فلاں سنٹر آف رائٹ ہے۔ جس طرح ایک شخص ہندو ہے یا عیسائی ہے یا یہودی اسی طرح ایک شخص مسلمان ہے کیونکہ ہمیں قائداعظم نے ہمیشہ کہا کہ ہمیں پاکستان اس لئے چاہئے کہ ہم مسلمان ہیں۔ میں نے پوچھا کسے کہا تھا؟ بولے ایلیٹ گروپ کو تو نہیں کہا تھا مگر میں نے عرض کیا وہ تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں اور لہو لگا کر شہیدوں کی صف میں کھڑے ہو رہے ہیں۔ وہ سب آپکے ہم عصر ہیں۔ وضع داری اور مصلحت چھوڑیں مگر انکل کی اخلاقیات کہاں کسی کو سرعام بے نقاب کرتی ہیں۔ مال روڈ پر ’’لیکر رہیں گے آزادی‘‘ ’’لیکر رہیں گے آزادی‘‘ ’’یونینسٹوں کا راج نامنظور‘‘ کے نعرے لگانے والوں، گولیوں کی یلغار میں مال روڈ پر نماز پڑھنے والوں جیلوں اور قبروں میں اترنے والوں کو ہی قائداعظم نے بتایا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا ’’لاالٰہ الااللہ‘‘ مگر یہ تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کی آزادی کی تحریک کا مرکز لاہور تھا۔ سب سے زیادہ قربانیاں اسلامیہ کالج کے نوجوانوں نے دیں۔ گورنمنٹ کالج کے ایلیٹ گروپ کے لوگ یقیناً نعرے لگاتے ہوں گے مگر مال روڈ پر ماریں کھانے والوں میں ایلیٹ گروپ شامل نہیں تھا ’’منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے‘‘
انکل ماضی کی یادوں میں محو ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب کو بتانے لگے ہم چند طالب علم قائداعظم کو ملے لاہور سے بمبئی پہنچے۔ خورشید مرحوم قائداعظم کے سیکرٹری تھے۔ پوچھا کیسے آئے ہو۔ عرض کیا قائداعظم سے ملنا ہے۔ بولے ممکن نہیں ہے۔ مگر چند لمحوں کے اندر کمرے میں گئے تو کہنے لگے ایک نوجوان پانچ منٹ کیلئے مل سکتا ہے۔ دوستوں نے کہا نسیم تم جائو۔ میں نے کہا میں کیوں جائوں۔ بولے انگلش میں بات کرنا ہو گی۔ کمرے کے اندر قدم رکھا تو قائد کی گرجدار آواز آئی:
How is your edcuation?
What brought you here?
میں سخت گھبرا گیا۔ عرض کیا
We want weapons for our safety to face Hindus
وہ چلا اٹھے
\\\"No! Mr. Gentleman, Edcuation is your weapon\\\"
انکل کا چہرہ فرط جذبات سے سرخ ہو رہا تھا۔ چند لمحے گہری خاموشی چھا گئی۔ ڈاکٹر اقبال نے سکوت توڑتے ہوئے کہا ہمارے پبلک سیکٹر اداروں میں جہاں غریبوں کے بچوں کی اکثریت تعلیم حاصل کرتی ہے وہ دن بدن تنزلی کا شکار ہیں‘ اگر ہم نے ان کا تعلیمی معیار بہتر نہ بنایا تو معاشرے میں گورنمنٹ اداروں سے پڑھنے والے بچے پرائیویٹ اداروں میں پڑھنے والے بچوں کیساتھ مقابلہ نہیں کر پائینگے تو معاشرے میں غربت اور بیروزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہو جائیگا اور سماجی تفاوت میں اضافے سے معاشرہ توڑ پھوڑ کا شکار ہو جائیگا۔ ہماری متوسط کلاس بھی غربت کی لکیر کے قریب زندگی بسرکر رہی ہے۔ سماجی ماہرین کیمطابق وہ معاشرہ کبھی بھی قائم نہیں رہتا۔ جہاں مڈل کلاس ختم ہو جائے کیونکہ مڈل کلاس ہی مذہبی اور اخلاقی اقدار کا تحفظ کرتی ہے اور معاشرے کی اجتماعیت کا چہرہ ہوتی ہے۔ اگر ہم نے پاکستان میں اسلامی کی نظریاتی اساس کو برقرار رکھنا ہے تو پھر ہمیں غریبوں کے بچوں کیلئے بھی ایسی تعلیم کا بندوبست کرنا ہے جو انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنائے۔
مرشد نے پورے انہماک سے ڈاکٹر صاحب کی بات سنی اور تائید میں سر ہلایا مگر ساتھ ہی بولے کون سی تعلیم ڈاکٹر صاحب۔ مغربی تعلیم کے پروردہ کہتے ہیں نہ فزکس پڑھو، کیمسٹری پڑھو، اکنامکس پڑھو مگر اس کے ساتھ قرآن کی تعلیم بھی حاصل کرو جب تک ہم قرآن کی قدروں کی بنیاد پر معاشرے میں خاندان کی اکائی کو برقرار رکھنے کی کوشش نہیں کریں گے تو تمام تعلیم کے باوجود معاشرے بکھر جائے گا۔ ہمیں این جی اوز والے کہتے ہیں کہ عورت کو آزادی کی تعلیم دو۔ وہ عورت کی آزادی کی بات کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ ہمیں ایسی تعلیم نہیں چاہئے جو ایک کنبے میں انتشار کا باعث بنے۔ عورت کی پہچان ماں، بہن، بیٹی اور پھوپھی کے روپ میں تقدس رکھتی ہے۔ ہماری تعلیم کی بنیاد ہماری اپنی اخلاقی اور سماجی قدریں ہیں۔ امریکہ اور یورپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکا اور یورپ کے لوگ جو بڑے تعلیم یافتہ ہیں مجھے بتائیں کہ دہشت گردی کی اصطلاح کیا ہے۔ ہمیں بتائیں کہ ہمارا جرم کیا ہے۔ جواباً ہم تمیں تمہارا جرم بتائیں۔ دہشت گردی، دہشت گردی، ڈرون حملوں پر کوئی معافی نہیں۔ نیٹو حملوں پر معافی، نہ کوئی مدعی نہ کوئی منصف نہ کوئی مجرم، بس دہشت گردی کے نام پر ہماری عزت، جان اور آبرو پر حملے کرتے رہو گے تو کب تک ہم خاموش رہیں گے۔ تعلیم یافتہ تو خاموش رہ سکتے ہیں مگر وہ دیہاتی اور ان پڑھ جو غیرت کا مطلب جانتا ہے وہ کہتا ہے چھوڑو بابا یہ ڈرامہ بس خون کا بدلہ خون ہو گا۔ وقت بھی بہے گا جو بہتے وقت کے کسی لمحے کو اپنی گرفت میں لے لے گا۔ وہ بچ جائیگا۔ 1947ء میں خون بہا تو پاکستان بن گیا۔ کشمیریوں کی تین نسلیں ختم ہو گئی ہیں۔ 70ہزار شہیدوں کے صدقے کشمیر نے آزاد ہونا ہے مگر تمہیں شرم آنی چاہئے کہ ہندوستان کی مرعوبیت میں Occupied Terriroty کو Disputed Territoryکہتے ہو۔
امریکا کی دہلیز پر سجدے کرنے والو ہمیں بھی پاکستان سے عزت، مرتبہ اور مقام ملا مگر ہم نے کبھی امریکی سفیر، ہالبروک اور رچرڈ بائوچر کو اپنا آقا تسلیم نہیں کیا۔
میرے سامنے ایک خط پڑا تھا جس پر لکھا تھا ’’مسٹر نسیم پاکستان آکر تم سے ملنے کا اشتیاق تھا مگر تم پاکستان میں نہیں تھے۔ امریکہ آئو تو ضرور ملنا۔ تمہاری خیر خواہ مسز جانسن فرسٹ لیڈی USA۔ مگر مرد قلندر کوئی مشرف، نواز شریف یا آصف زرداری تھا جو امریکی صدر کی اہلیہ کی خوشنودی کیلئے انکے دربار میں جا کر کورنش بجا لاتا …؎
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
توٹے کوئی تارہ تو زمیں پر نہیں گرتا
مجھے شرم آ رہی ہے۔ مشاہد، شجاعت اور پرویز الٰہی کی ہاتھ باندھے امریکی سفیر کے ساتھ تصویر پر اور محترمہ فرما رہی ہیں کہ شجاعت کا این آر اوکے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ہیں مسلم لیگ اور قائداعظم کے نام لیوا جن کا قبلہ و کعبہ محض امریکی عہدیداروں کی چاپلوسی اور خوشامد ہے۔ کسے پتہ نہیں کہ آپ مشرف کے کس قدر دلدادہ تھے۔ مگر جو شخص غلامی رسولؐ کا طوق اپنے گلے میں ڈال رکھے وہ دنیاوی خدائوں کے سامنے کیسے حاضری دے سکتا ہے۔ وہ تو امریکی صدر کی بیوی تھی جس کو بیگ صاحب نے درخور اعتنا سمجھا۔ یہاں تو پیٹرسن، رچرڈ، پائوچر اور ہالبروک کے دربار میں حاضری مکہ و مدینہ سے زیادہ باسعادت سمجھی جاتی ہے۔
میری قامت سے ڈر نہ جائیں لوگ
میں ہوں سورج مجھے دیا لکھنا
میرا مرشد جمیل نشتر مرحوم اور صاحبزادہ یعقوب سے اس بات پر الجھ پڑا کہ طورخم کے راستے سے آنے والے کمیونزم کوروکنے کے لئے ہندوستان اور پاکستان کو ایک ہو جانا چاہئے۔ مرشد نے کا یعقوب صاحب آپ مال روڈ کے راہی اور ہم پگڈنڈی پر چلنے والے معمولی لوگ۔ مگر یہ تو بتائیں کہ ہندوستان اور روس کے فوجی معاہدے کے بعد اگر روس پاکستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے تو ہندوستان ہمارا ساتھ دے گا۔ ہوش کے ناخن لیں جو کام ہندوستان خود نہیں کر سکا اب آپ اس کا یہ کام روس کے ذریعے کروانا چاہتے ہیں۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہو گا۔ کیسے ہو سکتا تھا۔ ضیاالحق بھی مرشد کی بات بڑے دھیان اور توجہ سے سنتا تھا۔
آج انکی زبان بڑے بڑے راز افشاں کر رہی تھی۔ کہنے لگے کہ مہربان کہتے ہیں کہ آنکل آپ بڑے بدنام ہیں۔ حمید گل صاحب کو امریکہ دہشت گرد ڈیکلیئر کرانے کے جتن کر رہا ہے۔ کہنے لگے ایک ہی جنرل عظمت والا ہے جس کے لئے سکیورٹی کونسل میں امریکہ قرارداد پیش کرتا ہے مگر چین ویٹو کر دیتا ہے۔ میرے لئے پاکستان اور اسلام کے لئے بدنام ہونا ہی تو اعزاز اور مرتبہ ہے۔ پھر ڈاکٹر اقبال صاحب سے کہا کہ آپ دعا کریں کہ میری بدنامی میری مغفرت کا سبب بنے۔ دوست، دشمن سب کو یہ معلوم ہونا چاہئے۔
Pakistan is created because we are Muslims, Muslims, Muslims.