’’قومی مجرموں اور لٹیروں کا احتساب ضروری ہے‘‘

خالد ایچ لودھی ۔۔۔
حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاست میں ہر لمحے کسی نہ کسی تبدیلی کی خبریں منظرِعام پر آتی رہتی ہیں اور مسلسل حکومت کی عدلیہ کیساتھ محاذآرائی کی پالیسی ملکی سیاست میں غیریقینی کی صورتحال کو مزید گھمبیر کرتی ہوئی نظر آرہی ہے مختلف اوقات میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اپنی حکومت کے مستقبل کے بارے میں بیانات اور پھر ملک کے تین بڑوں یعنی صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی معمول سے ہٹ کر ملاقاتیں اور اسکے علاوہ وزیراعظم کا یہ بیان کہ ہماری ملاقاتیں میڈیا کو جاری کردہ سرکاری تصاویر کے علاوہ بھی ہوتی رہتی ہیں یہ اس امر کا ثبوت ہیں کہ اب سیاسی اور جمہوری دور میں افواج پاکستان کے سربراہ کو جمہوری صدر اور وزیراعظم سے بار بار ملاقاتوں کی ضرورت صرف اس بنا پر کرنی پڑ رہی ہے کہ اب ملک کے اندر سب کچھ اچھا نہیں ہے‘ یقینا اس وقت اقتدار کے ایوانوں میں پراسرار سی سرگرمیاں پائی جارہی ہیں۔ برطانوی اور امریکی میڈیا میں جو خبریں گردش کر رہی ہیں انکے مطابق افواج پاکستان کے سینئر افسران یعنی کور کمانڈرز صاحبان کی مشاورت کے بعد اب حکومت کے دونوں بڑوں کو یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ بدعنوان، غیرمقبول اور متنازعہ شخصیات کو کاروبارِ حکومت سے الگ کر دیا جائے تاکہ حکومت کی کارکردگی بہتر ہو سکے اور حکومتی اداروں میں ٹرانسپیرنسی کا عنصر بھی واضح طور پر نظر آنا چاہئے عوام کو ریلیف دینے اور سیاسی اداروں کو مضبوط کرنے کے علاوہ حکومت کو واقعی جمہوری کردار ادا کرتے ہوئے حکومتی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے عملی اقدامات ہونے چاہئیں۔
برطانوی اور امریکی اخبارات نے اپنے تبصروں اور خصوصی رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان جو کہ ایٹمی قوت ہے اب تباہی کے دہانے پر ہے اور اسکا شیرازہ بکھرتا ہوا نظر آرہا ہے جسکی بنا پر ملک میں بدعنوان سویلین حکومت کے خاتمے اور فوجی بغاوت کی خبریں عام ہیں۔ پاکستانی عوام متواتر بحرانوں کا شکار ہیں کیونکہ موجودہ سیاسی قیادت اپنی افادیت کھو چکی ہے ملک کے مختلف شہروں میں خودکشیاں اور معصوم بچوں کی اموات عام ہیں ملک خانہ جنگی کی سی کیفیت سے دوچار ہے لیکن فوری طور پر کوئی انقلاب یا تبدیلی نہ آنا اصل مسئلہ بن چکا ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف نے یہاں برطانیہ میں اپنا سیاسی مورچہ قائم کر لیا اور اپنے مدہوش بیانات کے ذریعے اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ۔ برطانوی، امریکی اور بھارتی میڈیا کا سہارا لیکر آزادیٔ کشمیر اور ملک کے سیاستدانوں کے بارے میں جو انکشافات اور زبان استعمال کی اس سے پوری قوم کی عالمی سطح پر رسوائی ہوئی ہے‘ ان غیرمناسب بیانات اور ’’سٹیٹ سیکرٹ‘‘ کو مغربی میڈیا میں جس انداز میں پیش کیا گیا۔ اس سے انکی بوکھلاہٹ صاف ظاہر ہو رہی ہے اس بوکھلاہٹ میں وہ اپنے گناہوں اور سنگین غلطیوں کی پردہ پوشی کر رہے ہیں۔
ابھی تک موجودہ حکومت میں جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کا برابر تسلسل موجود ہے اور ایوانِ صدر مکمل طور پر انہی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور پرویز مشرف کے بااعتماد ساتھی طارق عزیز غیراعلانیہ طور پر حکومتی معاملات چلا رہے ہیں اور اسی ٹیم کے دیگر ارکان رحمن ملک اندرونی سلامتی کے محافظ ہیں اور امریکہ میں حسین حقانی جس ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں وہ اب واضح ہو چکی ہے۔ جلاوطنی کے ایام کے دوران جب میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سعودی عرب اور لندن میں قیام پذیر تھے اس دوران فون پر متعدد بار ان سے میری بات ہوتی رہی ہے میں نے میاں برادران سے گذارش کی تھی کہ وہ کسی بھی صورت میں جنرل پرویز مشرف کیساتھ کوئی ڈیل طے نہ کریں اور کسی ڈیل کا حصہ نہ بنیں اور اپنے موقف پر قائم رہیں لہٰذا یہ بات اب مکمل طور پر ریکارڈ پر موجود ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان سے باہر کسی نہ کسی معاہدے یا کسی بڑی بیرونی شخصیت کے دبائو کے تحت جلاوطن ضرور ہوئے مگر میاں برادران نے جنرل پرویز مشرف سے پاکستان واپس آنے کی غرض سے کوئی ڈیل نہیں کی تھی مگر حیران کن امر یہ ہے کہ اب میاں برادران آصف علی زرداری کیساتھ جو فرینڈلی اپوزیشن کا رویہ اختیار کئے رہے ہیں اسکی اصل وجہ کیا ہے؟ گو کہ اب خود پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پرویز مشرف کیخلاف جو چارج شیٹ جاری کی ہے اگر یہ چارج شیٹ جنرل پرویز مشرف کے پاکستان میں قیام کے دوران جاری کی جاتی تو آج جنرل پرویز مشرف ’’آل پاکستان مسلم لیگ‘‘ کے وجود کا اعلان کرنے کے قابل بھی نہ ہوتے اور اپنے انجام کو پہنچ گئے ہوتے۔
یہ حقیقت ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے قومی جرائم کوئی معمولی بات نہیں‘ آئین پاکستان کو تار تار کرنا، ملک میں بے گناہ شہریوں کا قتلِ عام اور پھر امریکہ کی خوشنودی کی خاطر سرزمین پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں جھونک دینا یہ تمام جرائم انسانیت سوز مظالم اور ملک و قوم کیساتھ غدار ی کے مترادف ہیں جن امریکی جاسوس طیاروں کو سرزمین پاکستان سے اُڑ کر خود پاکستان کے علاقوں پر بم برسانے کی اجازت دی گئی ہے یہ جنگی جرائم ہیں اگر اب بھی جنرل پرویز مشرف کو پاکستان کی سیاست میں اپنا عملی کردار ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی تو پھر واقعی پاکستان کا ’’خدا ہی حافظ‘‘ ہوگا۔
برطانیہ کیمطابق وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ لیبر پارٹی کے سربراہ کے انتخاب میں اپنے چھوٹے بھائی ایڈ ملی بینڈ سے شکست کھا گئے اور معمولی اکثریت سے ایڈ ملی بینڈ اب لیبر پارٹی کے سربراہ منتخب ہو چکے ہیں۔ ایڈملی بینڈ کو 50.65 فیصد اور ڈیوڈ ملی بینڈ کو 49.35 فیصد ووٹ ملے ڈیوڈ ملی بینڈ کو لیبر پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ کی بھرپور حمایت ہونے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا ایڈ ملی بینڈ کو اپنی پارٹی کے اندر بنیادی سرگرم کارکنوں اور مزدور تنظیموں کی حمایت کے علاوہ پارٹی کے سابق سربراہ نیل کنک اور ٹونی بین کے علاوہ پارٹی کے رجسٹرڈ ووٹر کی حمایت حاصل تھی جو کہ عام کارکن ہیں ان عام کارکنوں کے ووٹوں نے ایڈ ملی بینڈ کو پارٹی کا سربراہ منتخب کیا اسی طرح برطانیہ کی سیاسی تاریخ میں 1938ء میں آلیور برادران (OLIVER) برادران کے بعد ایک بار پھر ملی بینڈ برادرز (MILIBAND) برطانوی سیاست میں نمایاں طور پر ابھر رہے ہیں۔
پاکستانی سیاست کے دو بھائی یعنی میاں برداران اپنی جلاوطنی کی زندگی یہاں لندن میں پارک لین کے فلیٹ جسکی کھڑکیاں بالکل سامنے ہائیڈ پارک میں کھلتی ہیں طویل عرصہ تک رہائش پذیر رہے اور یقینا اب برطانوی سیاست سے روشناس ہو چکے ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ پاکستان میں سیاسی پارٹیوں میں جمہوری انداز میں انتخابات کی روایت جنم لے؟ کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی کے عام کارکنوں کے ووٹوں کے ذریعے انتخاب کروا کر پارٹی کے سربراہ بننے کی روایت قائم کریں؟اسی طرح کیا پاکستان پیپلزپارٹی میں آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، فاطمہ بھٹو یا پھر کوئی اور دوسرا رہنما پارٹی کی قیادت کیلئے انتخاب کا مرحلہ طے کر سکتا ہے؟
پاکستانی سیاست میں سیاسی پارٹیوں کے اندر جمہوری انداز اور طریقہ کار مکمل طور پر ناممکن ہے تقریباً تمام کی تمام پارٹیاں مخصوص شخصیات اور موروثی سیاست ہی کے دائرے میں رہ کر چل رہی ہیں جس کے تباہ کن اثرات اب موجودہ حالات میں حکومت کی عدلیہ کیساتھ محاذآرائی اور اقتدار کے کھیل میں بندر بانٹ اور پھر قومی سرمایہ لوٹ کر قوم کے سامنے اپنے آپکو بے گناہ ثابت کرنا ان پارٹیوں کے منشور کا حصہ بن چکا ہے‘ اب اگر پاکستان کا قومی مجرم جنرل پرویز مشرف برطانیہ میں اپنے مدہوش بیانات کے ذریعے ایک بار پھر پاکستان کی قیادت کے خواب دیکھ رہا ہے تو اس کی وجہ پاکستان کا وہ ناکام جمہوری نظام ہے جو کہ آج تک کسی بھی قومی مجرم، قومی خزانے میں خیانت کرنے والوں اور عوام کا استحصال کرنے والوں کا آج تک مثالی احتساب نہیں کر سکا۔ اب ملک میں سیاسی تبدیلی آئے یا نظام تبدیل ہو لیکن جب تک قومی مجرموں کو سزا نہیں دی جائیگی یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا اور پاکستان گھمبیر مسائل کا شکار رہے گا اب وقت آگیا ہے کہ کم از کم قومی مجرموں اور قومی لٹیروں کو قومی مجرم ہی کہا جائے اور انکا احتساب بھی ہو اس عمل کے بعد ہی حقیقی جمہوریت اور حقیقی عوامی حاکمیت کا سورج طلوع ہو سکتا ہے پاکستان کی قومی پالیسی کے تحت اب یہ حکمت علی بھی وضع ہو جانی چاہئے کہ سمندر پار کسی بھی ملک میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو سرگرمیاں جاری رکھنے اور بیرون ملک سیاسی جماعتوں کے قیام کی مکمل ممانعت ہونی چاہئے پاکستان کی سیاست پاکستان کی سرزمین پر ہونی چاہئے اب جلاوطن رہ کر لوٹی ہوئی قومی دولت کے بل بوتے پر پاکستانی سیاست کرنا اور بیرونِ ملک جائیدادیں اور اثاثے بنانے کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔