یوم سیاہ… جو حادثے سے بڑھ کر سانحہ ہے!

رفیق غوری ۔۔۔
12 اکتوبر آیا اور شاید 11ویں‘ 12 اکتوبر کو بھی یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا مگر جس طرح منایا گیا کچھ اور لوگ تو یقیناً اس سے مطمئن ہو سکتے ہیں مگر میرے جیسے کافی لوگ اس طرح یومِ سیاہ منانے پر مطمئن نہیں ہیں۔ وجوہات بہت ساری ہیں۔ جن کو ایک مضمون یا کالم میں قلمبند نہیں کیا جا سکتا۔ مگر ہم اس موقع پر یہ تو سوچ سکتے تھے کہ ہماری کیا خرابی ہے ہم میں کیا کجی ہے؟ کہ ہماری آزادی سے لے کر اس 12 اکتوبر تک ایک سے زیادہ سیاہ دن آئے مگر ہم نے شاید کبھی بحیثیت قوم وہ سبق حاصل نہیں کیا جو ہمیں حاصل کر کے سیکھ کے کسی اور حادثے یا سانحے سے بچنے کا بندوبست کرنا چاہئے تھا۔ ہماری حالت کی پروفیسر عنایت علی خان کے اس شعر سے عکاسی ہو جاتی ہے؎
حادثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا..... کہ لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
کیا یہ حادثہ نہیں ہے کہ 12اکتوبر ہم نے اس طرح نہیں منایا جس سے قوم میں بیداری کا احساس ہوتا اور یہ اگلے کسی 12اکتوبر کی راہ میں رہنمائی بن جاتا۔ مگر کیا کہا جائے ہم تو ایسا کرنے والوں کیلئے اپنے عمل سے عوام کی رہنمائی کر رہے ہیں۔جنہوں نے 12 اکتوبر کو یوم سیاہ منایا ان کا جذبہ سلامت رہے کہ وہ اپنی جگہ بڑا نیک ہے مگر لاہور ہائیکورٹ میں یوم سیاہ منانے والوں میں پنجاب سے بھی جناب نصیر احمد بھٹہ ایم این اے کے علاوہ کوئی ممبر اسمبلی نظر نہیں آیا۔ مسلم لیگ لائرز ونگ کے خواجہ محمود ہائیکورٹ میں ہونے کے باوجود فنکشن میں نہیں آئے۔میں اس موقع پر سوچ رہا تھا کہ اگر نصیر احمد بھٹہ بھی اس موقع پر تشریف نہ لاتے‘ رانا عارف ایڈووکیٹ اس موقع پر موجود نہ ہوتے‘ وسیم احمد بٹ اور ان کے حامی وہاں موجود نہ ہوتے تو وہاں کون ہوتا؟ قریشی حفیظ ایڈووکیٹ بھی میری طرح جذباتی ہو رہے تھے مگر شاید یہ جوش کا نہیں ہوش میں آنے کا وقت تھا۔ ہر مسلم لیگی کو عقل کے ناخن لینا چاہئیں کہ ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد اور اپنی ہی دکان چمکانے میں مصروف ہے۔ مسلم لیگ کو ایک کرنے کیلئے نیک ہونے کی ضرورت ہے اگر 12 اکتوبر 1999ء کو بھی ایسا ہوتا تو جنرل (ر) پرویز مشرف اور ان کے حامی ایسا نہیں کر سکتے تھے مگر جب موصوف کو پتہ تھا کہ انہیں اس گھر سے کئی چراغ بلکہ دیوے اس گھر کو ہی آگ لگانے کیلئے مل جائیں گے تو انہوں نے ایسا کیا خدانخواستہ خدانخواستہ آنے والے دنوں میں ایسا ہو سکتا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا کہ مسلم لیگ متحد ہو جائے مگر کیا ایسی مسلم لیگ یا مسلم لیگی جو اپنی اپنی ضرورتوں کیلئے منتشر ہوتے رہتے ہیں کسی کے اشارے پر انتشار پیدا کرتے رہتے ہیں اگر بوجوہ پھر بظاہر متحد ہو بھی گئے تو کیا وہ واقعتا اور عملاً متحد اور اکٹھے ہوں گے اگر ایسا اتحاد ہو بھی گیا تو شاید کچھ لوگ ایسے اتحاد کو کاٹھ کی ہنڈیا سیتشبیہہدیتے رہیں گے کہ ماضی میں بھی اکثر ایسا ہوا ہے کہ نادان اس وقت سجدے میں گر جاتے ہیں جب وقت قیام ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو وقت طعام پر ہر بار پھر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ ہمارے مردِ مجاہد جناب مجید نظامی آج بھی یہ خواہش ہی نہیں بلکہ کوشش بھی کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ کے تمام دھڑے متحد ہو جائیں۔ اللہ کرے ایسا ہو مگر جو بھی اکٹھے ہوں ہماری خواہش ہے کہ صرف اقتدار کے مزے لوٹنے دانہ دنکا چگنے کیلئے اکٹھے نہ ہوں وطن عزیز پاکستان کیلئے اکٹھے ہوں اور ہمیشہ کیلئے بے لوث اور رضا اور رغبات انداز میں رہنے کا عہد کر لیں ۔