کیا نہرو نے راگھو یادیو کے لئے ابھی ابھی کوئی تار بھیجا ہے؟

سید سردار احمد پیرزادہ
ڈیوڈنے یہاں گھومنے پھرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا کہ \\\"انڈیا اور پاکستان کشمیر کے مسئلے پرجنگ کے دہانے پر ہیں۔ جب تک اس معاملے پر انتہائی کشیدگی برقرار ہے اس وقت تک دونوں ملکوں میں مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ کشیدگی کم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُن پہلوئوں پر غور کیا جائے جہاں دونوں ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ تعاون کرسکتے ہیں۔ ان areas میں کامیابی کے بعد دونوں قوموں کے درمیان sense of community بڑھے گی ،جو ہو سکتا ہے انہیں کشمیر کے حل کی طرف لے جائے۔ لہٰذا میں تجویز کرتا ہوں کہ انڈیا اور پاکستان ایک ایسا پروگرام مرتب کریں جس کے تحت دونوں Indus Basin River System کو مل کر چلائیں اور مل کر developکریں ۔ اس سلسلے میں ورلڈ بینک دونوں ملکوں کو کسی معاہدے پر لانے اور مالی مدد فراہم کرنے کیلئے اپنے تعلقات استعمال کرسکتا ہے\\\"۔ امریکہ سے ڈیوڈ کی اس مشن پر روانگی سے قبل جب پاکستانی پریس بھارتی آبی جارحیت پر شور مچا رہا تھا اور دنیا کوبھارتی عزائم سے آگاہ کررہا تھا تو عین اس وقت بھارت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی یہی کہا تھا کہ\\\" انڈیا اور پاکستان کشمیر پر ہر وقت چیختے چلاتے رہیں گے لیکن برصغیر میںامن کیلئے دریائے سندھ کے پانیوں کے مسئلے کا فوری حل بہت ضروری ہے\\\"۔مندرجہ بالا بحث میں اہم ترین بات یہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے معاہدے پر دستخط کے بعد واپس جاکر جو رپورٹ لکھی اس میں یہ جملہ صاف صاف تحریر کیا کہ \\\"پاکستانی صدر جنرل محمد ایوب خان میرے سامنے کشمیر کا مسئلہ بار بار اٹھاتے رہے اور میں انہیں مسلسل ٹالتا رہا،اس طرح کشمیر پرکوئی فیصلہ نہیں ہوسکا\\\"۔ یہ دستاویزابھی بھی وزیراعظم سیکرٹریٹ ، نئی دہلی میں دیکھی جاسکتی ہے۔ راگھو یادیو کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ہم بھی انہیں ایک کتاب پھر پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں جو ہندومت کی اخلاقی و مذہبی کتاب ہے جسے سب \\\"مہابھارت \\\"کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کتاب میں دشمن کو نفسیاتی حربوں اور دھوکے سے مارنے کی ترغیب کیسے دی گئی ہے، ملاحظہ ہو۔\\\"مہا بھارت\\\" میں ہندوستان میں ہونیوالی ہزاروں سال قبل ایک لڑائی کا ذکر ہے جو دو چچا زاد خاندانوں، \\\"کوروئوں\\\" اور \\\"پانڈوئوں\\\" میں ہوئی۔ یہ جنگ اٹھارہ دن تک جاری رہی اور اس میں پانڈوئوں کی طرف سے28لاکھ 34ہزار ایک سو 60 سپاہی اور 3لاکھ 6ہزار ایک سو 80ہاتھی گھوڑے شریک ہوئے جبکہ کوروئوں کی طرف سے 44لاکھ 53ہزار چھ سو 80 سپاہی اور 4لاکھ 81ہزار ایک سو 40ہاتھی گھوڑے میدانِ جنگ میں گئے۔ جنگ کے آخری ایام تھے، پانڈو شکست کھا رہے تھے، کیونکہ کوروئوں کا سپہ سالار \\\"درونہ چارج \\\"جو کہ مانا ہوا جنگجو اور دشمن پانڈوئوں کا استاد بھی تھا، پانڈوئوں کو خون میں نہلاتا جارہا تھا۔ اس کو روکنا مشکل تھا کہ اچانک پانڈوئوں کے ایک ہمدرد گورو کرشن نے پانڈوئوں کے سربراہان کو مشورہ دیا کہ وہ اس تباہ کن سپہ سالار کو صرف دھوکے سے ہی روک سکتے ہیں۔ اور وہ ایسے کہ افواہ پھیلادی جائے کہ سپہ سالار درونہ چارج کا بیٹا لڑائی میں ماراگیا ہے، جس کے غم سے وہ ڈھیلا پڑ جائے گا اور پانڈو اُن پر غلبہ حاصل کر لینگے۔ سپہ سالار درونہ چارج جب پانڈوئوں کے سربراہان پر آخری حملے کے لئے آ پہنچا اور اپنی تلوار سے ان کے سر قلم کرنے لگا تو پانڈوئوں کے ایک سربراہ نے چیخ کر کہا کہ جائو پہلے اپنے بیٹے کی لاش دیکھ آئو۔ باپ صدیوں پرانا ہو یا موجودہ دور کا، بیٹے کا غم برداشت نہیں کرسکتا۔درونہ چارج نے جونہی یہ سنا اس پر سکتہ طاری ہوگیا اور عین اسی وقت پانڈوئوں نے اپنی تلواروں سے اس کا خاتمہ کردیا۔ راگھو یادیو کاکشمیر کے حوالے سے مذکورہ انکشاف اگر ان کی یاوہ گوئی نہیں تو جنرل ایوب خان کی نہرو کو زبانی یقین دہانی کا کوئی ثبوت یا گواہ ورلڈ بینک ، میڈیا اور پاکستان میں کیوں نہیں ہے کیونکہ یہ معاہدہ 1960ء میںکراچی میں ہوا تھا اور اس وقت بھی سب لوگ un-written باتوں کو سننے اور دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں ایسی کوئی بات اب تک سامنے نہیں آئی تو راگھو کو اپنی کم عمری میں ہونیوالے واقعات بتانے کا خیال کیسے آگیا یا نہرو نے راگھو یادیو کے لئے ابھی ابھی کوئی تار بھیجا ہے؟