شعبہ تعلیم میں خواتین کی حیرت انگیز کامیابی

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

گزشتہ نصف صدی کے دوران جہاں دنیا سکڑ کر ایک گائوں کی حیثیت اختیار کر چکی ہے کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے فاصلے مٹا دیئے ہیں اور جدید ذرائع ابلاغ کی بدولت آپ دنیا کے کسی بھی حصے کے ساتھ گفتگو یا کانفرنس اسی طرح کر سکتے ہیں جیسے آپ ایک ہی کمرہ میں بیٹھے ہوں چنانچہ حصول آزادی کے بعد اگرچہ کئی وجوہات کی بناء پر اہل پاکستان جدید علوم کے فوائد سے پوری طرح بہرہ ور ہو کر استفادہ حاصل نہیں کر سکے۔ لیکن اس کے باوجود سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں خدا تعالیٰ نے اپنے خاص کرم سے پاکستان کو پروفیسر عبد السلام اور ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی شخصیات ہم کو عطا کیں جن کی بدولت پاکستان دنیا میں واحد اسلامی ایٹمی طاقت بن کر ابھرا۔ ایک اور خاموش انقلاب معجزہ کی صورت میں نمودار ہوا کہ پاکستان کی خواتین جو تاریخی اور روایتی سماجی بندشوں کے باعث تعلیم کی روشنی سے محروم تھیں وہ ماحول کے گھٹن کے باوجود حصول تعلیم کی نورانی برکات کی طرف مقناطیس کی طرح مائل ہونا شروع ہو گئیں۔ اگرچہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی شرح خواندگی اور خصوصاً عورتوں میں یہ شرح شرمناک حد تک ہمسایہ ممالک کے مقابلہ میں بہت ہی نیچے ہے لیکن میٹرک کے بعد کالج اور یونیورسٹی سطح تک داخل ہونے والی لڑکیوں نے ایک خاموش انقلاب برپا کیا ہے۔ اس انقلاب کے دو پہلو خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ پہلا پہلو یہ ہے کہ جہاں پاس برس پہلے کالج اور یونیورسٹی سطح پر طلبہ اور طالبات کا تناسب مجموعی طور پر 90% لڑکے اور 10 فیصد لڑکیاں ہوتا تھا وہاں آج اس تناسب میں آہستہ آہستہ الٹا تناسب ہوتے ہوئے آج 2010ء میں نئے داخلہ لینے والے طلبہ 30 سے 35 فیصد اور طالبات 60 سے 65 فیصد ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں اس سال نئے داخلوں کی شرح 33 فیصد لڑکے اور 67 فیصد لڑکیاں ہیں۔ اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو بعض شعبوں میں لڑکے نایاب ہو جانے کے باعث ان کے داخلے کا کوٹہ مقرر کرنا پڑے گا۔ بعض یونیورسٹیوں نے ابھی سے اس پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب ذرا دوسرا پہلو طلبہ اور طالبات کی قابلیت اور امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے میں دیکھیں تو تقریباً ہر شعبے میں لڑکیاں لڑکوں کو کہیں پیچھے چھوڑتی جا رہی ہیں مثال کے طور پر As a case study ایم اے‘ بی ایس سی‘ اور بی اے کے چند اہم شعبوں میں 2010 کے پنجاب یونیورسٹی کے نتائج ملاحظہ فرمایئے۔
MA ایم اے انگریزی‘ پاس ہونے والی لڑکیاں 1322 شرح فیصد 19.9 پاس ہونے والے لڑکے 156 شرح فیصد 7.87۔ ایم اے ہسٹری‘ پاس ہونے والی لڑکیاں 2585‘ شرح فیصد 64.21‘ پاس ہونے والے لڑکے 1900‘ شرح فیصد 55.87‘ ایم اے اکنامکس‘ پاس ہونے والی لڑکیاں 1101‘ شرح فیصد 22.44‘ پاس ہونے والے لڑکے 205 شرح فیصد 6.6‘ ایم اے پولیٹیکل سائنس‘ پاس ہونے والی لڑکیاں 2751‘ شرح فیصد 38.67‘ پاس ہونے والے لڑکے 1834‘ شرح فیصد 26.82۔ ایم اے اسلامک سٹڈیز‘ پاس ہونے والی لڑکیاں 6602‘ شرح فیصد 46.31‘ پاس ہونے والے لڑکے 1346‘ شرح فیصد 33.08۔ ایم اے اردو‘ پاس ہونے والی لڑکیاں 4163‘ شرح فیصد 48.79‘ پاس ہونے والے لڑکے 1020‘ شرح فیصد 33.14۔
علاوہ ازیں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ان تمام مضامین میں اکثر و بیشتر 90% لڑکیوں نے اول و دوئم پوزیشن حاصل کی ہیں اور اسی طرح کسی بھی اعلیٰ ملازمت کے مقابلہ کے امتحان میں ہر طرف لڑکیاں ہی لڑکیاں کامیاب ہو کر چند سالوں کے اندر تمام بڑے عہدوں پر فائز ہوں گی جس کے نتیجے میں اگلے 20 سے 25 سال کے بعد تمام فیڈرل سیکرٹری‘ چیف سیکرٹری اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کالجوں کے پرنسپل‘ ہر طرف خواتین ہی خواتین کا راج ہو گا۔ اور صرف سیاسی سطح پر انتخاب جیتنے کے بعد مردوں کو وزراء کی نشستیں مل سکیں گی لیکن حکومت کی اصل چابی خواتین سیکرٹریوں کے ہاتھ میں ہو گی۔ چنانچہ سرکاری اداروں میں ماسوائے افواج پاکستان کے بیشتر چوٹی کی اسامیاں میرٹ پر خواتین کے قبضہ میں ہوں گی اس لئے حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ اس صورتحال کے مختلف پہلوئوں پر غور و خوض کرنے کیلئے سپیشل توجہ دی جائے تاکہ سماجی سطح پر زندگی کا توازن قائم رہ سکے۔