شاید کہ کسی دل میں اتر جائے مری بات

کالم نگار  |  ڈاکٹر اختر شمار

میرے خیال میں اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بقائے حیات ِ انسانی ہے ۔ سائنسی ترقی نے انسان کو تعیش اور سہل پسندی کی ان گنت سہولیات عطا کر دی ہیں مگر اس سے کرّہ ارض پر مختلف قسم کی آلودگیوں نے انسانی زندگی کو کئی خطرات سے دوچار کر دیا ہے ۔ دنیا کی تمام نعمتیں ظاہر ہو چکی ہیں ، میرے خیال میں ان سے استفادہ کرنے کے احسن طریقے نہیں اپنائے گئے ، اور ساتھ ہی بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے زیادہ کوششیں نہیں کی گئیں ۔۔۔انسان نے محض تن پروری ، تن آ سانی اور عیش و آرام ہی کو بہترین زندگی قرار دے رکھا ہے مگر ہم بھول گئے ہیں کہ
انسان آسائش و آرام کے حصول میں اپنے آپ ہی سے نہیں ،اپنے بھائی بندوں سے بھی دور ہو کر اندر سے تنہا اور کھوکھلا ہو چکا ہے ۔ سو اس بھاگ دوڑ میں اس کے پاس سوچنے کے لیے وقت ہی نہیں ۔ وہ آسائش و آرا م کی زندگی کے لیے اپنی زندگی کا قیمتی وقت محض آرام کی زندگی کے حصول کے لیے صرف کر دیتا ہے اور جب وہ یہ سب کچھ کسی نہ کسی شکل میں حاصل کر لیتا ہے تو اس وقت اُس کے پاس ان آسائشوں کو برتنے اور ان سے مستفید ہو نے کا وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ اپنے تئیں اعلیٰ زندگی کے لیے بھاگ دوڑ میں اس نے اپنے آپ پر توجہ ہی نہیں دی ۔ اپنے روز مرّہ کے معمولات میں اپنے جسم و جاں کو فراموش کیے رکھا ۔ اپنی خوراک ،اپنی صحت و صفائی اور اپنے اخلاقیات کو سنوارنے کے لیے اس میں سوچ ہی پیدا نہ ہوئی اور پھر بے خبر ی اور غفلت کی زندگی میں بغیر تحقیق ، بغیر سوچے سمجھے ، ہر چیز کو خوراک کا حصہ بنانے کے سبب، وہ بہت سی بیماریوں میں گرفتار ہو گیا اور پھر اسی غفلت میں وقت سے قبل ہلاک ہو گیا ۔۔۔ مہاتما بدھ نے دنیا کو دکھوں کا گھر قرار دیا ۔۔۔ اور دنیا بھر کے لکھنے والوں نے انسان کو دکھوں اور غموں سے نجات دلانے کے لیے سینکڑوں اور ہزاروں تجاویزیں دے ڈالیں ۔ بعض نے
؎ موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
کا فلسفہ بھی پیش کیا ۔ ساتھ ہی انسان کو مایوس نہ ہونے ، غم نہ کرنے اور پر امید رہنے کی تلقین بھی کی جاتی رہی ہے ۔۔۔ یہ بات تو دل کو لگتی ہے ۔۔۔ کہ انسان کو پر امید ہونا چاہیے ۔ معمولی اور غیر معمولی باتوں اور واقعات کو دل پر نہیں لینا چاہیے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسی تما م اچھی اچھی باتیں دنیا کے بیشتر لوگ جانتے اور مانتے بھی ہیں مگر ان باتوں پر عمل کوئی نہیں کرتا ، حالات واقعات سے متاثر ہوئے بغیر کوئی نہیں رہتا ۔۔ ۔۔۔دنیا بھر کی اخلاقیات عمل کے بغیر کچھ نہیں ۔ میں کہتا ہوں انسان کو تبدیل کرنے اور اس کے اندر عزم و عمل کا تدّبر اور سوچ پیدا کرنے کی ایک خاص عمر ہوتی ہے ۔۔۔ عمر رسیدہ حضرات اپنے عمر بھر کے تجربات و مشاہدات کے بعد ذہنی طور پر پختگی کے اُس مقام پر ہوتے ہیں کہ وہ ان نصیحت آموز اور اچھی اچھی باتوں کو اپنی عمر اور تجربے کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ آپ کی ان باتوں سے قائل بھی ہو جائیں ۔۔۔ قائل وہی ہو گا جس کے حواس اعلیٰ درجے کے ہوں گے یعنی آپ کی باتوں سے متاثر وہی ہو گا جس کے پاس سمجھنے ، پرکھنے اور ماننے کے آلات ( بہترین حواس ) ہو ں گے ۔ اصل میں عمر کے ساتھ ساتھ ہمارے حواس و ادراک کمزور ہو جاتے ہیں ، البتہ نوجوان لوگ تروتازہ ذہین اور حواس کا بہترین خزانہ لیے ہو تے ہیں سو انہیں قائل کیا جا سکتا ہے وہ اپنے حواس کے اعلیٰ معیا ر کے سبب آپ کی باتوں کے قائل ہو سکتے ہیں اور جب ایسے لوگ علم و عقل کی باتوں پر یقین کر کے انہیں پلّے باندھ لیتے ہیں تو ان سے مستفیض بھی ہو سکتے ہیں ۔۔۔ علم پر عمل کرنے سے یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے گویا ایسے نوجوانوں میں زندہ دلی کی روح پھونکنے، انہیں جگانے اور ہوش دلانے کا درس کار گر ثابت ہو سکتا ہے ۔ (جاری ہے)