زمین ِپاک کو وہ آسماںسمجھتا تھا

نعیم احمد ۔۔۔
’’اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے‘‘ وقت ِ شہادت یہ الفاظ شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خانؒ کے لبوں کی زینت بنے۔ اپنی شہادت سے دو ماہ دو دن قبل یعنی14اگست1951ء کو یوم آزادی کے موقع پر کراچی کے جہانگیر پارک میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا تھا: ’’میرے پاس کوئی جائیداد نہیں ہے کہ یہ چیز ایمان میں خلل ڈالتی ہے۔ میرے پاس ایک جان ہے ‘وقت آنے پر وہ بھی پاکستان پر قربان کر دوں گا ‘‘ اور انہوں نے ایسا کر دکھایا۔ اتنے بڑے نواب ہونے کے باوجود ان کی زندگی فقر و قناعت سے عبارت تھی۔ فقر و ایثار کے پیکر ، تحریک پاکستان کے اس عظیم رہنما کے 59ویں یوم شہادت پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں ایک نشست کا اہتمام کیا۔ تحریک پاکستان کے کارکن سید احمد سعید کرمانی نے صدارت کی۔ جناب مجید نظامی نے اپنے خطاب میں کہا نوابزادہ لیاقت علی خان ہمارے قائد ملت تھے جنہیں بھر ے جلسے میں شہید کر دیا گیا تھا۔ ان کے قاتل کو بھی موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا تاکہ اس سازش سے پردہ نہ اُٹھ سکے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت سے شروع ہونے والا سیاسی رہنمائوں کے قتل کا سلسلہ بے نظیر کی شہادت تک پہنچا مگر دونوں کے قتل کے پس پردہ محرکات سامنے نہیں آ سکے۔ قائداعظمؒنے ہمیں پاکستان کا تحفہ دیا مگر اس کے بعد تقریبا ایک سال زندہ رہے اور پھر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اس کے بعد قائد ملت نے چار سال تک وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ میں نے تحریک پاکستان میں کام کیا تھا، چنانچہ اس کے اعتراف میں میں نے قائدملت سے مجاہد پاکستان کا سرٹیفکیٹ اور ایک اعزازی تلوار وصول کی۔ اسی لئے میں اپنے آپ کو جہادی کہتا ہوں۔ میں نے روز اول سے ہی جہاد کشمیر میں حصہ لیا ہے اور وہ اس طرح کہ جب قبائلیوں نے کشمیر میں جہاد کا آغاز کیا تو لاہور کے قلعہ گجر سنگھ کے چودھری عبدالکریم صاحب صدر سول لائنز مسلم لیگ گھوڑے پر سامان خورد و نوش لے جایا جاتے تھے۔ میں اور ان صاحبزادے میرے کلاس فیلو حفیظ الرحمن اور دوسرے نوجوان دوست بھی تھیلے تیار کیا کرتے تھے۔ گھوڑے پر سامان لاد کر مجاہدین تک پہنچاتے تھے۔ میں اور دیگر ساتھی وہ سامان خوردو نوش تھیلوں میں پیک کیا کرتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جہاد کے بغیر ہم کشمیر حاصل نہیں کر سکتے۔موجودہ حکومت جہاد کو فساد کہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے فسادیوں سے نجات دلائے۔نشست کے صدر سید احمد سعید کرمانی نے کہا کہ اب نوابزادہ لیاقت علی خان جیسے لوگ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے۔ وہ قوم کے لئے زندہ رہے اور اسی کے لئے جان قربان کر دی۔پاکستان کیلئے ان کا ایثار اس قدر زیادہ تھا کہ یوپی اور بھارتی پنجاب میں واقع اپنی زمینوں اور جائیداد کے کلیم داخل کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، قائد ملت میموریل سوسائٹی کراچی کے جنرل سیکرٹری محفوظ النبی ‘معروف دانشور ڈاکٹر ایم اے صوفی اور پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے بھی شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی۔شہید ملت اعلیٰ کردار‘ بے داغ ماضی اور ایک ایثار پیشہ رہنما تھے۔ وطن عزیز آج کل جس بحرانی کیفیت کا شکار ہے ‘اس میں شہید ملت جیسی نابغۂ روزگار شخصیت کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ پاکستانی قوم کی دعائوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور اُسے شہید ملت جسیا راہنما عطا فرمائے جو اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو دنیا میں ایک عظیم اور باوقار ملک بنانے کیلئے بھر پور جدوجہد کرے اور وقت آنے پر پاک سرزمین کیلئے اپنی جان قربان کر نے سے بھی دریغ نہ کرے ۔