حکومت اس طرح کب تک بچتی رہے گی

محمد اسلم لودھی ۔۔۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کو برسراقتدار آئے ہوئے اڑھائی سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ حکومت کب تک رہے گی اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اتنی سازشیں حکومت کے خلاف نہیں کی جاتیں جتنی حکومت میں شامل افراد خود اپنے خلاف کر لیتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ موجودہ حکومت نے بجلی گیس پٹرول سمیت تمام اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں تین سو فیصد اضافہ کرکے اپنے ہی ووٹروں کا جینا حرام کر رکھا ہے پے در پے ظالمانہ اقدامات کے باوجود حکمران پاکستانی عوام سے تو خوفزدہ نہیں ہیں لیکن کبھی انہیں فوجی بوٹوں کی آوازیں رات کو سونے نہیں دیتیں تو کبھی عدلیہ کی جانب سے وہ خطرات محسوس کرتے ہیں۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ وہ عوامل جن سے پیپلز پارٹی کی حکومت کو خطرہ ہو سکتا ہے انہیں درست کرنے کی بجائے لیت و لعل سے کام لیتے ہوئے تاخیری حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ این آر او کیس کو ہی لیجئے سپریم کورٹ نے 7 دسمبر 2009 کو این آر او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فائدہ اٹھانے والے تمام افراد کے خلاف نہ صرف مقدمات بحال کر دیئے تھے بلکہ بیرون ملک عدالتوں میں موجود مقدمات کو کھولنے کا حکم بھی دیا تھا۔ اس فیصلے کو 315 روز گزر چکے ہیں لیکن حکومت نے نہ تو اندرون ملک این آر او سے مستفید ہونے والوں کے خلاف مقدمات کو بحال کیا او رنہ ہی بیرون ملک مقدمات کے حوالے سے کوئی پیش رفت کی۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے بار بار تنبیہ کے باوجود حکومت ممکن حد تک تاخیری حربے آزمانے میں مصروف ہے۔ وزیراعظم فرماتے ہیں کہ جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ حکومت 13 اکتوبر کو ختم ہو جائے گی وہ اب نئی تاریخ دیں لیکن حیلے بہانوں اور جھوٹ کا سہارا لے کر حکومت اپنے اقتدار کو ہفتہ دو ہفتے کے لئے وسعت دیتی چلی آرہی ہے آخر و ہ کب تک اسی طرح بچتی رہے گی۔ غیر ملکی میڈیا اس جانب اشارہ کرچکا ہے کہ فوج کی جانب سے حکومتی اخراجات میں کمی اور کرپشن کے خاتمے کے لئے دبائو بڑھتا جا رہا ہے جبکہ سپریم کورٹ کا تقاضا بھی یہی ہے لیکن حکمران فوج کے مفید مشوروں اور عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد کرنے کی بجائے ہر کیس اور معاملے کو غیر معمولی طول د ے کر مزید الجھا تے چلے جا رہے ہیں۔ صوابدیدی اختیار کے بہانے چیئرمین نیب کے عہدے پر ایسے شخص کی تقرری کر دی گئی جو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر دو مرتبہ ایم پی اے منتخب ہو چکے تھے جبکہ یہ عہدہ انتہائی غیر جانبدار ی کا تقاضا کرتا ہے اس سے پہلے بے نظیر بھٹو بھی اپنے دور میں جیالے جہانگیر بدر کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس لگانے کا عندیہ دے چکی تھی لیکن شدید ترین مخالفت کی وجہ سے ایسا نہ کر سکی۔ میں سمجھتا ہوں اگر موجودہ حکومت کا بس چلے تو ڈاکٹر بابر اعوان کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس لگانے سے بھی گریز نہ کرے۔ صدر آصف علی زرداری اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ انہیں جیل کے مچھر کچھ نہیں کہتے۔ عوام نے تو انہیں ووٹ دے کر حکومتی ایوانوں میں پہنچایا تھا اگر حکمران اپنے سیاہ کارناموں او ر کرپشن کی وجہ سے ایک بار پھر جیلوں میں بند ہونا چاہتے ہیں تو عوا م کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ باقی رہ گئی احتساب کی بات۔ اگر حضرت عمرؓ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود طلبی پر عدالت میں حاضر ہو سکتے ہیں تو زرداری صاحب اور دیگر احباب کیوں ایسا نہیں کر سکتے بلکہ انہیں خود پیشکش کرنی چاہیئے تاکہ ان کے دامن پر لگے ہوئے داغ اگر جھوٹے ہیں تو دھل سکیں اور کوئی ان پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ فرانس میں رشوت لینے کے الزام میں ایک مجسٹریٹ فرانسیسی صد ر سرکوزی کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے کوسوو کا بانی صدر عدالتی فیصلے کے احترام میں منصب صدارت سے مستعفی ہوگیا لیکن ہمارے صدر ہر قسم کی کرپشن‘ مقدمات اور الزامات سے خود کو نہ جانے کیوں مبرا قرار دے رہے ہیں۔