بیچاری حکومت

صحافی  |  عطاء الرحمن

روئے پاکستان پر موجودہ حکومت سے زیادہ ہمدردی کا مستحق کوئی نہیں۔ ان مظلوموں کی حالت زار دیکھی نہیںجاتی۔ لیکن کوئی اُن کے دل سے اٹھنے والی پکار پر کان دھرنے کیلئے تیار نہیں۔یہ اپنا مقدمہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش نہیں کرسکتے۔ عوام کو سنا نہیں پا رہے۔ میڈیا خاطر میں نہیں لاتا۔ کوئی تدبیر کاگر نہیں ثابت ہورہی۔ ایک زمانہ تھا جب امریکہ بات سن لیتا تھا اب وہ بھی کرپٹ کہتا ہے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی رہ گئے ہیں۔ جو دلاسا دینے کیلئے ان کے گھر چلے آتے ہیں۔ شائد اس لئے کہ جمہوری تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن جمہوریت ہے وہ بھی اپنے نام لیوائوں سے پناہ مانگتی نظر آتی ہیں۔ ان کی وجہ سے بد نام ہوتے جارہی ہیں۔ حکومت کہاں جائے۔ سوچا تھا سپریم کورٹ کے موجودہ ججوں سے نجات حاصل کرلیتے ہیں۔ کچھ دن سکون سے گزر جائیں گے۔ آخر جنرل پرویز مشرف نے بھی تو یہ حربہ استعمال کیا تھا۔ تمام اعلیٰ عدالتوں کو الٹا کر رکھ دیا تھا۔ جج گھر جا بیٹھے تھے۔ عملاً نظر بند ہوگئے تھے۔ ہم یہ نسخہ کیمیا کیوں نہ آزمائیں اگرچہ یہ تدبیر جنرل مشرف کے زیادہ دیر تک کام نہ آئی۔ لیکن وہ تو فوجی ڈکٹیٹر تھا۔ دوسری مرتبہ آئین توڑنے کے جرم کا متحمل نہ ہوسکا۔چند مہینوں کے اندر اس کا اپنا تختہ الٹا کر رکھ دیا گیا۔لیکن ہم ٹھہرے جمہوری اور منتخب حکمران۔ عوام کا دیا ہوا مینڈیٹ اپنے پاس ہے۔ جو چاہے کرسکتے ہیں۔ ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن اگر واپس لے لیاجائے۔ تو ان کے پائوں تلے سے زمین نکل جائے گی۔ ’ پی سی او‘ والے جج ان کی جگہ لے لیں گے۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر دیکھے بھالے آدمی ہیں۔ وہ دوبارہ قاضی القضاۃ کے منصب پر آن بیٹھیں گے۔ اس کے بعد کونسی کرپشن کہا ں کی سوئس عدالتیں اورکدھر کے ساٹھ ملین ڈالر … سب کچھ قصد ماضی بن جائے گا۔ آخرPAST AND CLOSED TRANSACTION بھی تو عدلیہ اور قانون کی اصطلاح ہے۔اس کا اطلاق ہمارے خلاف مقدمات پر کیوں نہ ہو۔ لیکن برا ہو خبر’’ لیک‘‘ کرنے والے کا۔اس نے سارا بانڈھا پھوڑ دیا۔ قیامت کا شور اٹھا۔ ہمیں کچھ کرنے کے قابل نہ رہنے دیا۔ معلوم نہیں سپریم کورٹ کو اتنی جلدی کیا پڑی تھی۔ رات کے بارہ بجے اجلاس بلا لیا… تدبیر ابھی زیر غورتھی۔ ہم نے فیصلہ تو نہیں کیا تھا۔ اگر اقدام کرلیتے تو عدلیہ بھی ردّ عمل دکھاتی۔ اس نے پہلے ہی اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا۔ کہا وزیراعظم کی جانب سے تحریری یقین دہائی پیش کرو۔ ہم بھی کچی گولیاں کھیلے ہوئے نہیں ہیں۔ اتنی جلدی ہار ماننے والے نہیں۔ ایک تدبیر ناکام ہوتی ہے تو دوسری آزما لیں گے۔ شریف الدین پیر زادہ بصدِحیات ہیں۔ بقائمی ہوش و ہواس مشورے دیتے ہیں۔ اگرچہ فیس بہت بڑھالی ہے لیکن قومی خزانہ کس کام کا۔ اس کے بل بوتے پر سینئر ترین وکیل کی خدمات کیوں نہ حاصل کی جائیں۔ وکیل بھی ایسا جس کے مشوروں پر ایوب خان ضیاء الحق اور پرویز مشرف جیسا کہتے۔ ہم تو پھر جمہوری ہیں۔ اگرچہ ساکھ اور عزت ختم ہوکر رہ گئی ہیں مگر یہ آنی جانی چیزیں ہیں۔ مسئلہ بیچ میں آن پڑا ہے ملک کے عوام بھی روز کی دانتا کامکل سے تنگ آگئے ہیں۔ سوائے قارئین حکومت کے ساتھ پائے ماندن نہ جائے رفتن والا معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کرتی ہے تو کرپشن طشت ازبام ہوجاتی ہے۔ عدلیہ سے جان چھڑانے کے بارے میں سوچتی ہے تو گھیرا تنگ ہوجاتا ہے۔ ایک مرتبہ پھر آرمی چیف کی جانب دیکھ رہی ہے۔ اعلان کرتی ہے وہ دوبارہ ملاقات کیلئے آنے والے ہیں۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔
چودھری محمد اکرم کی وفات حسرت آیات
سپرئیر یونیورسٹی کے بانی برادران چودھری عبدالرحمن اور چودھری عبدالخاق اور بورڈ آف گورنرز کے چیئر مین چودھری محمد اکرم اسی سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ گزشتہ دس برس کے دوران سپرئیر یونیورسٹی جو ایک نجی تعلیمی ادارے سے ترقی پا کر ملک کی بڑی اور معیاری درس گاہوں میں شامل ہوگئی ہے۔اس میں چودھری محمد اکرم کی شبانہ روز سرپرستی اورفروغ تعلیم کے ساتھ لگن کا بڑا عمل دخل حاصل ہے۔ مرحوم اپنے بیٹوں کے کام کی مسلسل نگرانی کرتے تھے۔ قدم قدم پر مشورے دیتے تھے۔ حصول تعلیم کو سستا کرنے اور معیار کو بلند سے بلند تر رکھنے میں خصوصی دلچسپی لیتے تھے۔راقم کے ساتھ خصوصی شفقت کا رویہ تھا۔ اپنی علالت کی وجہ سے اگر کبھی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی صدارت نہ کرپاتے تو اپنی جگہ میرا نام تجویز کرتے۔ میں نے چھ سال قبل شعبہ ابلاغیات کا اجراء کیا تو بہت حوصلہ افزائی کی۔آج سپریئر یونیورسٹی کے ساتھ اس کے شعبہ ابلاغیات نے بھی مثالی ترقی کی ہے تو اس میں ان کی دعائیں بہت کام آئیں۔ اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے۔