احساس زیاں جاتا رہا

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

احساس زیاں نہ رہنے کی بیماری فرد سے شروع ہوتی ہے اور اجتماعی قومی زندگی پر ختم ہو کر کسی بھی قوم کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے۔ ہمارے ہاں احساس زیاں جاتے رہنے کی یوں تو بے شمار مثالیں موجود ہیں مگر اس وقت اس کی ایک بڑی نظیر کالا باغ ڈیم تعمیر نہ کرنا ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ اب احساس زیاں تو پیدا ہونے لگا ہے، مگر نقصان کی تلافی کا سامان نہیں کیا جاتا، اجتماعی قومی نقصان پر ذاتی و انفرادی مفادات غالب آ چکے ہیں، جن میں سب سے بڑا ہاتھ اربابِ سیاست کا ہے، مگر خدا کا شکر ہے کہ اب سیاسی سطح پر بھی کچھ کچھ احساس زیاں شروع ہو چکا ہے، جیسے گورنر پنجاب نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی آواز بلند کر دی ہے، کاش کہ وہ اسے ایک مشن کا درجہ دے کر یہ کارنامہ سرانجام دے دیں، تو ان کا نام پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، کالا باغ ڈیم سے ڈرانے والوں کو اس سیلاب کے بعد خدا سے ڈرنا چاہیے، کالا باغ ڈیم نہ ہونے کے باعث اس کے آس پاس کے علاقے ڈوب گئے، اگر یہ ڈیم ہوتا تو ایسا نہ ہوتا، اس مثال کے بعد تو سیاسی دکان چمکانے والوں اور احساس زیاں سے عاری سیاستدانوں کو سمجھ جانا چاہیے کہ موجودہ سیلاب نے ان کا پردہ چاک کر دیا ہے، کالا باغ ڈیم ایک بین الصوبائی کل پاکستان ڈیم ہو گا جس سے ساری قوم کو بجلی اور پانی کے حوالے سے فائدہ پہنچے گا اور بجلی کے نرخ بہت نیچے آ جائیں گے جبکہ بھارت کا پاکستان کو ریگستان بنانے کا منصوبہ بھی خاک میں مل جائے گا، اگر ان سیاستدانوں کی جڑوں کو دیکھا جائے جو کالا باغ ڈیم کے مخالف ہیں تو معلوم ہو گا کہ وہ پاکستان میں رہتے ہیں، پاکستان کے مفادات کا سوچتے ہیں اور نہ اس کے وجود کو صدقِ دل سے تسلیم کرتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ اگر کالا باغ کے نام سے چڑ ہے تو اس کا نام بے شک باچا خان ڈیم رکھ دیں، مگر قومی زیاں نہ ہونے دیں، بھارت نے 62 ڈیم بنا لئے اور جب پانی کی ضرورت پڑے گی تو پاکستان کے دریا ریت کی لکیریں بن کر رہ جائیں گے، ظاہر ہے پانی زندگی ہے، اور بھارت نہیں چاہتا کہ ہم زندہ رہیں پاکستان پائندہ رہے۔ مسلم لیگ ن پاکستان کی دوسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے لیکن میاں برادران کی جانب سے ابھی تک کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں ایسی آواز نہیں اُٹھی جو گورنر پنجاب بلند کر رہے ہیں اور انہوں نے برملا کہہ دیا ہے کہ کالا باغ ڈیم کو نمبرز گیم کا ذریعہ نہیں قومی ذمہ داری سمجھتا ہوں، اگر مسلم لیگ ن بھی اس کارِ خیر میں گورنر کے ساتھ مل جائے یا اپنے طور پر بھی تحریک شروع کر دے تو یہ تحریک آئندہ انتخابات میں اس کی کامیابی کا سبب بن سکتی ہے اور اگر وہ بھی بہ ایں تن و توش خاموش ہے تو کہئے مسلم لیگ ن کا بنیادی مقصد کیسے پورا ہو گا صرف قرارداد پاس کرانے سے اس کی جان نہیں چھوٹ جاتی، کالا باغ ڈیم کے لئے سیاسی جہاد کرنا پڑے گا اور کچھ مفادات کو قربان بھی کرنا پڑے گا۔ احساس زیاں کی بات ہو تو یوں لگتا ہے کہ ہم میں سے کسی کو اپنے نقصانات کا احساس نہیں، اس وقت پاکستان میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل جو کارروائیاں کر رہے ہیں کیا اس کے بعد یہ کہنا درست نہیں کہ احساس زیاں جاتا رہا، ہمارا نقصان صرف کالا باغ ڈیم کے حوالے سے ہی نہیں لاتعداد حوالوں سے ہو رہا ہے، مگر حکومت، مرد بیمار کا کردار ادا کر رہی ہے اور یوں لگتا ہے کہ پاکستان کو ایسے مسائل میں الجھایا جا رہا ہے جن کے باعث ہماری توجہ احساس زیاں سے ہٹ جائے، امریکہ اپنی دسترس میں روز بروز اضافہ کرتا جا رہا ہے اور پاکستان کی معیشت اس کی موجودگی سے کمزور پڑتی جا رہی ہے، اگر یہی حال رہا اور ہم اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے رہے تو ہمارے بارے میں دشمن جو خواب دیکھ رہا ہے خدانخواستہ وہ شرمندہ تعبیر ہو جائے گا، آدھا پاکستان ہم نے کھو دیا ہے، کشمیر ہم نے کھو دیا ہے، پانی سے ہم ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، شاید ایک وقت آئے کہ ہاتھ دھونے کے لئے بھی پانی میسر نہ ہو، بدامنی، ٹارگٹ کلنگ ، بیروزگاری اور ہوشربا مہنگائی زوروں پر ہے، آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنے سود و زیاں کو سمجھیں اور راست اقدامات کریں، عدلیہ کو آزاد رہنے دیں، تصادم سے گریز کریں، ہمارے دشمن تماشائی آنکھیں لگائے بیٹھے ہیں کہ کب ہمارا اللہ نہ کرے خاتمہ ہو اور وہ چڑھ دوڑیں، دھمکیاں تو آنے لگی ہیں اب مزید کس چیز کا انتظار ہے۔