" بڑی جنگ کی طرف بڑھتے قدم"

کالم نگار  |  مسرت قیوم

"دنیا ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے" یہ کِسی "سندھی سیاسی نجومی "کا دیکھا گیا خواب ہے نہ ہی" پنڈی وال" کی ہفتہ وار ناکام پیشن گوئیوں میں مزید اضافہ، عالمِ نو کی صورتحال پر تصدیقی مہر لگاتے الفاظ ، ظاہر ہے کِسی "بڑی ہستی "کے ہو سکتے ہیں یہ "پوپ فرانسس "ہیں۔ عیسائیوں کے سب سے بڑے رہنما"پوپ فرانسس" کے جنگ و جدل، امن پر بیانات اکثر نظر سے گزرتے رہتے ہیں مگر شاید جن کے وہ "لیڈر"ہیں۔ روحانی رہنما ہیں وہ چشمِ بصیرت سے محروم ہیں ورنہ دنیا موجودہ" بدترین نقشہ" کے قریب نہ پہنچتی ۔ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جو امن کے جھنڈے تلے سُکھ ۔ چین کی زندگی جی رہا ہو، عراق، شام، افغانستان، اب بیروت، پھر سے، مارٹر، ڈرون حملے، بم دھماکے، بمباری کی زد میں ہیں۔ دنیا میں ہلاکت آفرینی کی کون سی ایسی ایجاد ہے جو استعمال نہیں ہو رہی۔ طیارے، بم، بارودی مواد، "جدید سائنس" نے جتنی ترقی، تحقیق انسانوں کی بہتری، خوشحالی، صحت عامہ کے میدانوں میں کی اتنی ہی تیز رفتاری، مستعدی سے انسانوں کو ہلاک کرنے کے طریقے دریافت کئے۔ انسانی حیات کو دشواری سے نکالنے، سہل بنانے واسطے عرق ریزی میں برسہا برس بِتا دئیے ۔ "دنیا ایک بٹن "کے فاصلہ پر لا کھڑی کر دی تو وہاں ایک بٹن کی طاقت سے گھر بیٹھے" ڈرون حملہ" کی ہلاکت خیزی بھی ڈھا دی۔ امارت اور غربت کی دشمنی کی طرح ترقی او ر قیامت کے مناظر برپا کرتے مناظر مستقل دشمن پیدا کر ڈالے۔ مشرق وسطی سے افریقہ تک بدامنی، دہشت کا راج ہے۔ ترقی یافتہ ممالک پر طاقت، دولت کے نشہ میں مخمور اشخاص قابض ہیں ۔ جمہوریت کے لوگو تلے شہنشاہیت براجمان ہے تو کہیں منشیات کی آمدنی سے ڈان بننے والے مافیا کی حکمرانی ہے ۔ طاقت اور دولت دو چیزیں۔ اعتدال کھو چکی ہیں جامہ سے باہر ہو چکی ہیں اِن کا تو نشہ ہی ڈبونے کے لیے کافی ہے اور جب معاملہ ہو زائد مقدار کا تو پھر ہلاکت یقینی ہے ۔ یہی منظر ہر سُو نظر آرہا ہے ۔ 

چھوٹا سا ٹائون "ہنگوئی" ۔ کسی یورپی ملک کا شہر نہیں" وسط افریقی ملک" میں واقع کنسرٹ پر گرنیڈ حملہ واردات جہاں بھی ہو جس مواد سے بھی ہو "جانیں" قربان ہوتی ہیں۔ ہر پڑھنے سُننے والے کے نزدیک معمول بنتی خبر پر اِس میں تشویش کا زیادہ پہلو"مسلم اکثریتی "علاقے کا انتخاب ہے۔ "مڈل ایسٹ" کی کہانی تو رٹ چکے ہیں۔ صدیوں پرانی منظم پلاننگ کا روڈ میپ سامنے دیوار پر ٹنگا اب ہر کِسی کو دِکھتا ہے یہاں ہم صرف داخلی مسائل کہہ کر دامن نہیں چُھڑا سکتے۔ ہمارے مسائل اتنے گھمبیر ہیں نہ لاینحل کہ باہم بیٹھ کر بات نہ کر سکیں ۔ پریشانی"اُن" کو ہے جو ہماری فوجی قوت سے خائف ہیں نہ سیال مادے کی روانی سے اگر خائف ہوتے تو اربوں ڈالرز کے اسلحہ فروخت کے معاہدے نہ کرتے اصل تکلیف ہمارے "ایمان" سے ہے یہ اُن کا پرانا مرض ہے ہونے کو لا علاج ہو چکا ہے مگر ہم "شفا آور دوائیاں" دینے سے رُک نہیں رہے، ہے کوئی ایسا ملک جو یورپ ، امریکہ سے ہتھیار کا خریدار نہ ہو۔ دنیا واقعی" ایک بڑی جنگ" کی طرف بڑھ رہی ہے۔ "پوپ فرانسس" نے درست فرمایا ۔ زیادہ اچھا ہوتا اصل مرض کی تشخیص بھی کردیتے ۔ موجودہ خرابی فساد میں "بڑے حصہ داروں" کی موجودگی کا اعتراف کر لیتے "عالمی دہشت گردی انڈیکس " کے مطابق دہشت گردی کے حملے بڑھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس جنگ کا سب سے بڑا متاثرہ فریق ہے مگر بیرونی دنیا ہماری قربانیوں کا اعتراف کرنے میں کنجوسی سے کام لے رہی ہے اور ہمارے مسائل کو سمجھنے سے انکاری ہے۔ پوری دنیا کے نقشہ کو میز پر پھیلائے اپنی پسند کے علاقے منتخب کرنے والے صرف "مسلم" لفظ پر ہی لکیر پھیرنے کے کیوں درپے ہیں ؟ دنیا سے ہٹ کر اپنے خطہ کی طرف آئیں تو تصویر زیادہ بھیانک ہو جاتی ہے۔ غربت کی انتہائی حد پرکھڑا انڈیا ،کھربوں روپے اسلحہ خرید پر صرف کرتا ملک اب اپنی فوج کو600" ڈرون" فراہم کر رہا ہے قارئین! مالیت ہے 950"کروڑ روپے " کیا یہ موسم کی صورتحال معلوم کرنے کے لیے دئیے جا رہے ہیں یا ہم پر "پھول" پھینکنے واسطے۔ اگر ہم اِس طرف کی حقیقت حال دیکھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے اِس فیصلہ کے تناظر میں کہ ہم نے انڈیا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیدی ۔ اِس کے باوجود کہ کوئی دن نہیں جاتا جب اُن کی اشتعال انگیزی ہماری طرف کوئی خون بہائے بغیر ختم ہو جائے ۔ بچے ۔ جوان ۔ عورتیں اب 70" سالہ" خاتون شہید ہوگئی ۔
ظلم ، بربریت ، نرمی ، رحم سے مُبرا ہوتے ہیں، یہاں بھی قصہ ملکیت ، طاقت کا ہے، قبضہ گیری کی بد نام تاریخ ہے یہ تاریخ بھی "مُسلم کُشی" کی گھناوٗنی رسم سے بھری پڑی ہے۔ ظلم و تشدد سرحد کے دونوں اطراف خوب رنگ جما رہا ہے۔ "راجستھان ، مقبوضہ وادی "محفوظ ہے نہ ہماری سرحدی حدود، ظلم کا اژدھا انسانی جانوں کو ہی ہڑپ نہیں کر رہا بلکہ" روحانی درگاہیں "بھی نشانہ ستم ہیں ، ہر دوسرے دن سبق سِکھانے ، فوجی کاروائی کی دھمکی الگ سے حیرت ہے اب پیچھے کیا بچا ہے کونسی کاروائی ہونا باقی ہے۔ مسلسل جاری جارحانہ عمل میں تو اب کارروائی ہمارے طرف سے ہونی بنتی ہے کتنے انمول افسر قیمتی سپاہی نشانہ بن گئے اور بن رہے ہیں۔ کیا کیا نقصانات نہیں اُٹھائے اُس" قوم "نے جو دنیا بھر میں قیام امن کے لیے سب سے زیادہ خدمات فراہم کرنے والی ہے ۔
ہماری ترقی سے خوفزدہ ہمارا ہمسایہ ہر اُس عمل پروگرام کی نفی مخالفت کرتا ہے جو آگے بڑھنے کی نوید سناتا ہے۔"سی پیک "پر کام شروع ہونے کے بعد حالات کچھ زیادہ بگڑ گئے ہیں ۔" افغان سرحد" بھی مسلسل دشمنی کی گندی روایات دہرا رہی ہے۔ "آرمی چیف" نے بجا فرمایا کہ" دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کے وجود ختم نہیں کرسکتی " پر فضائی حدود کی اجازت اور اِسی قبیل کے دیگر فیصلوں کی روشنی میں پریشانی کی اطلاعات واضح ہیں، بے شک پاکستان کے وجود کو کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی مگر کھوکھلا کرنے کی کوششیں تو کی جارہی ہیں ملک دشمنوں، سہولت کاروں کی جو مصدقہ فہرست ہے کیا وہ اب بھی رعایت کے مستحق ہیں؟؟ کیا پھانسی ناسور کا شافی حل نہیں ؟؟" چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی" کا کہنا ہے کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف روایتی و نیم روایتی جنگ "بڑی جنگ" میں بدل سکتی ہے ۔ جنگ میں ہر طرف کی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ ترقی پر بھاری ملبہ نقب لگاتا ہے۔ ہمیشہ سے چلا آرہا ایک چلن، لڑائی میں ایک فریق جیتتا اور دوسرا ہارتا ہے تو کیوں نہ تاریخ کا دھارا موڑ ڈالیں ایک" بڑی جنگ" کی طرف بڑھتے قدموں میں سے اپنے قدم واپس موڑلیں ایک دوسرے کے وجود کو دل سے تسلیم کر لیں۔ مقبوضہ وادی پر جبراً قبضہ آپ ختم کر دیں۔ اِس فیصلہ میں کِسی کی ہار، شکست نہیں سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ دونوں فریقین کی برابر فتح۔