پنجاب کی قسمت میں ایسا کیوں ؟

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
پنجاب کی قسمت میں ایسا کیوں ؟

یہ تو پتہ چل گیا کہ نواز شریف سے جان چھڑانا ٹھہر گیا تھالیکن یہ نہیں پتا چلا کہ ایسا کیوں طے پایا؟ اگر یہ کہا جائے کہ یہ معاملہ نواز شریف کے اناپرست مزاج کا کیا دھرا ہے تو یہ ماضی میں تو سچ لگتا تھا لیکن اس مرتبہ تو اُن کی کمپرومائزنگ پالیسیوں پر ان کی اپنی صاحبزادی مریم نواز کو بھی اعتراض ہے۔ جس کی مثالوں میں جنرل مشرف کو باہر جانے کا راستہ دینے جیسا آلودہ گھونٹ پینا، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو بننے اور اُسے ڈی سٹیبل کئے بغیر وقت بھی پورا کرنے دینا، سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو سیاسی اڑنگے لگانے کی بجائے سموتھ فلائٹ کا موقع دینا، بلوچستان میں دو مختلف گروپوں کو باری باری حکومت کرنے کا پلان دینا اور قومی انتخابات کے بعد سابقہ روایات کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی مخالف حکومتوں کو فوری گرانے کی بجائے اُن کی جمہوری مدت ختم ہونے کا انتظار کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ اگر معاملہ نیوز لیک کا ہے تو 2014ء کا دھرنا تو اُس سے پہلے ہوگیا تھا۔ اگراناپسندی اور خبر لیک کرنے والے معاملات کو سامنے رکھا جائے تو اس طرح کی چوں چالاکیاں زرداری حکومت کے دوران بھی ہوتی رہیں۔ اگر کرپشن اور دھاندلی کو لیںتو پیپلزپارٹی کے لاثانی قصے بھی ابھی زیادہ پرانے نہیں ہوئے۔اگرمعاملہ خاندانی سیاست کو ختم کرنے کا ہے توسب سے زیادہ پیپلز پارٹی اور باقی جماعتیں بھی اسی گناہ میں مبتلا ہیں۔ ان باتوں کے علاوہ کیا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آصف علی زرداری اپنی حکومت کے عوض وہ بہت سی رعایتیں دے رہے تھے جو نواز شریف اپنی اصول پسندی کے زعم میں دینے کو تیار نہ ہوئے؟ یہ یا کچھ اور وغیرہ وغیرہ؟ اگر یہ سب کچھ نہیں تو پھر ایسا کیا ہے جس کی اب تک پردہ داری ہے؟ دیکھا جائے تو نواز شریف غیر سیاسی دبائو کے بوجھ تلے اٹھارہ سال بعد بھی2017 میں وہیں موجود ہیں جہاں اکتوبر 1999ء میں کھڑے تھے۔ اس دوران جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاء اور پیپلز پارٹی کی نیم سِول حکومت اپنی طبعی عمریں پوری کرچکے ہیں۔ یہ بات عین فطری ہے کہ جب غیرفطری طریقے سے اقتدار حاصل کیا جاتا ہے تو اقتدار حاصل کرنے والا اُسے ہرممکن دباتا ہے جس سے وہ اقتدار چھینتا ہے۔ مثلاً انگریز مسلمانوں سے اقتدار چھین کر برصغیر پر قابض ہوئے تو انہوں نے مسلمانوں کو سیاسی، ثقافتی اور لسانی اعتبار سے ہرممکن طریقے سے دبایا۔لیکن مذکورہ فطری مخالفت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہے جیسا کہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد پیپلز پارٹی کے لئے معاملات رفتہ رفتہ آسان ہوتے گئے لیکن عجب ہے کہ جنرل مشرف کے جنرل ضیاء الحق کے مقابلے میں مبینہ نرم مارشل لاء کے دس برس پہلے ختم ہو جانے کے باوجود بھی ن لیگ مقتدر حلقوں کی ہستی کا ساماں اب تک نہیں ہوئی۔ وہ یہ کہ کسی نہ کسی انداز میں پنجاب کو ڈپریس رکھا جاتاہے ۔ غور کریں تو پنجاب اور اُس کے لوگوں کو اکثر اوقات کچھ نہ کچھ سننے کو ملتا رہتا ہے۔جبکہ پاکستان کے چاروں مارشل لاء غیرپنجابیوں نے لگائے۔ اگر کوئی جنرل ضیاء الحق کو پنجاب کی فہرست میں داخل کرے تو اُسے اپنی تاریخ درست کرلینی چاہئے کہ جنرل ضیاء الحق کا تعلق غیرمنقسم ہندوستان کے وقت موجودہ پاکستانی پنجاب سے نہیں تھا۔ بعدازاں انہوں نے اُس وقت کے صوبہ سرحد اور موجودہ خیبرپختونخوا میں ہجرت کی۔ اسی طرح سِول حکمرانوں میں بھی غیرپنجابی حکمرانوں کی طویل فہرست موجود ہے جن میں تین بڑے نام ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ہیں۔ دوسری طرف پنجاب سے نواز شریف وہ واحد سیاست دان ہیں جو پورے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر ایک بھرپور سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ورنہ پنجاب سے قومی سیاست میں قومی بونے ہی آتے رہے ۔ کچھ ماہ پہلے پیپلز پارٹی کی قیادت میں سندھ کی اسمبلی نے ایک قرارداد پاس کی کہ کرپٹ وزیراعظم نواز شریف کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔ اگر ایسی ہی قرارداد پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں سندھ کے کسی وزیراعظم کے خلاف پاس کی جاتی تو یہی پیپلز پارٹی اِسے پاکستان کے خلاف اقدام قرار دیتی۔

بلوچستان میں جس طرح پنجابیوں کو چن چن کے نکالا اور مارا گیا اور حال ہی میں تربت میں 15 پنجابیوں کا قتل عام کیا گیا، اس کا عشرعشیر اگر دوسرے صوبوں کے لوگوں کے ساتھ خدانخواستہ پنجاب میں ہوتا تو ردعمل لکھنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔بہتر انتظام کے لئے اگر سندھ کو انتظامی طور پر تقسیم کرنے کی بات کی جائے تو پیپلز پارٹی والے مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں۔ ہزارہ اور فاٹا کو علیحدہ صوبہ بناکر انہیں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی مخالفت کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے ساتھ رہنے اور اس میں ضم کرنے کی تحریک چلائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس پنجاب کو تقسیم کرکے سرائیکی صوبہ بنانے کے لئے خوب زور دیا جاتا ہے۔ دوسرے سب علاقے اپنی مادری زبانوں کو قومی زبانیں بناناچاہتے ہیں جبکہ پنجاب نے اپنی مادری زبان پنجابی کو چھوڑ کرآئینی قومی زبان اردو کو اپنی مادری زبان بنا لیا ہے۔اگر یہ سب کچھ پنجاب کا بڑے بھائی ہونے کی وجہ سے ہے تو کیااس کے پائوں کاٹ کر اسے چھوٹا کرنا مناسب ہے؟پنجاب کی قسمت میں یہ بھی لکھا ہے کہ اُسے دوسروں کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اپنے بھی گرے کو مارنے کا کام خوب سرانجام دیتے ہیں۔ کیا عام لوگوں کی یہ رائے نہیں ہے کہ اگر عمران خان کے پہیوں سے ہوا نکال دی جائے تو اُن کا ورکشاپ تک پہنچنا بھی ممکن نہیں؟ نواز شریف اور ان کے خاندان کو جو چاہے سزا ملے، بیشک ان کی نسلیں ابد تک سیاست سے باہر کردی جائیں لیکن اس تاثر کا خیال رکھا جائے کہ پنجاب کو ڈپریس کیا جاتا ہے۔