’’لوڈشیڈنگ ‘‘ ہائے ہائے!

کالم نگار  |  سید روح الامین
 ’’لوڈشیڈنگ ‘‘ ہائے ہائے!

بلاشبہ قیام پاکستان سے آج تک پاکستانی عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ حکمران وعدے اور دعوے کر کے آتے ہیں اور پھر جھوٹے دلاسے دے کر گزار جاتے ہیں۔ زرداری دور میں لوڈشیڈنگ عروج پر تھی۔ حکمران جماعت اپنے اتحادیوں کیساتھ پورے پانچ سال لوٹ کھسوٹ میں لگی رہی۔ ملک میں جنگل کا قانون تھا کوئی کسی کو روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔ حالانکہ زرداری حکومت نے بھی لوڈشیڈنگ کی مناسبت سے ہی نوید قمر صاحب کو وزیر لوڈشیڈنگ مقرر کیا تھا جو کہ خود بھی ٹھہر ٹھہر کر بات کرنے کے عادی تھے اور نوید قمر صاحب اکثر پارلیمنٹ کے اجلاس میں نیند میں پائے جاتے۔ انہیں علم تھا کہ بجلی تو ہے ہی نہیں جس کا میں وزیر ہوں۔ مراعات اور تنخواہ تو مل رہی ہے کیوں نہ مزے کی نیند لیں۔ 2013ء کے انتخابات میں ن لیگ نے عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر لوڈشیڈنگ کے خاتمے کو اپنا انتخابی منشور قرار دیا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف اسے گھنٹوں میں ختم کرنے کے دعوے کرتے رہے۔ نوازشریف صاحب بھی عوام سے جلسوں میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر پوچھتے رہے کہ آپ کے ہاں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے ناں۔ لوگ ہاں میں جواب دیتے تو نوازشریف فرماتے کہ ہم اسے ختم کرینگے۔ پھر ن لیگ کو اقتدار ملنے کے بعد موجودہ حکومت نے لوڈشیڈنگ کی وزارت دو آدمیوں کو سونپ دی۔ خواجہ آصف اور عابد شیر علی یہ دو حضرات بھی رک رک کر بات کرنے کے عادی تھے۔ ہم ورطہ حیرت میں مبتلا تھے کہ بجلی ہے ہی نہیں تو وزارت دو صاحبان کو تھما دی گئی بعد میں معلوم ہوا کہ ان دونوں حضرات کا کام محض عوام کو جھوٹا دلاسا دینا ہے۔ یہاں تک کہ انکے اپنے بیانات بھی تضاد کا شکار ہوتے ہیں۔ آغاز میں خواجہ آصف صاحب لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا ٹائم دینے کیلئے تیار نہیں تھے۔ اکثر کہتے ہیں کہ میرے قائد نوازشریف ہی بتائینگے بہرحال وزیراعظم بننے کے کچھ عرصہ عوام سے اوجھل رہنے کے بعد ایک دن وزیراعظم پہلی بار نمودار ہوئے اور پہلے خطاب میں فرمایا کہ 480 ارب بجلی کی کمپنیوں کو ادا کر دیا گیا ہے اور یہ کہ ہم لوڈشیڈنگ 2018ء تک ختم کر دینگے۔ بہرحال سردیوں میں وزیر لوڈشیڈنگ خواجہ آصف کی طرف سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی بھی نوید بڑے فخریہ انداز میں سنائی جاتی رہی۔ ابھی چند روز قبل دونوں وزرا ئے لوڈشیڈنگ نے کہا کہ گرمیوں میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آئیگی۔ پھر فرمایا کہ شہروں میں 6 گھنٹے اور دیہات میں 8 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو گی۔ آپ قومی اخبارات کی روزانہ کی بنیاد پر خبروں کا جائزہ لیں۔ آج کل 16 سے 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے کچھ حکومتی وزراء 2016 ء میں خاتمے کا کہتے ہیں چند 2017ء کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا سال قرار دیتے ہیں جبکہ وزیراعظم فرماتے ہیں کہ 2018ء میں ختم ہو جائیگی۔ احسن اقبال صاحب پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا ذکر بڑے فخریہ اندازمیں کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائیگا۔ جناب یہ تو علیحدہ باب ہے۔ آپ یہ بتائیے کہ ان دو سال میں موجودہ حکومت نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کیا کئے ہیں۔ چند روز قبل موجودہ حکومت نے لوڈشیڈنگ کیلئے کیا شاندار حل نکالا ہے۔ ’’مارکیٹیں 8 بجے بند کر دی جائیں ، میرج ہال 10 بجے اور ریسٹوران 11 بجے بند کر دئیے جائیں‘‘ مگر حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ دو سالوں میں لوڈشیڈنگ کی مد میں کتنے ارب روپیہ اڑایا ہے اور کتنے میگاواٹ بجلی حاصل کی ہے؟ اگر بجلی کی بچت ہی اس کا حل ہے تو صدر، وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ ، قومی و صوبائی وزراء بیورو کریٹس کے گھروں اور دفاتر تمام اے سی بند کر دئیے جائیں اور انرجی سیور کی تعداد بھی محدود کر دی جائے۔ قومی و صوبائی اجلاس میں اے سی کا استعمال بالکل بھی نہ کیا جائے۔ جب صدر، وزیراعظم صاحب اور دیگر وزراء صاحبان پسینے سے شرابور ہوں گے اور اجلاسوں میں آدھا گھنٹہ بھی نہیں بیٹھ سکیں گے تو انہیں یہ علم ہو سکے گا کہ لوڈشیڈنگ ہے کیا؟ ابھی تک انہیں تو اندازہ ہی نہیں کہ لوڈشیڈنگ کسے کہتے ہیں۔ ان کا کبھی واسطہ ہی اس سے نہیں پڑا۔ اب گرمی کی شدت ہے لوگ مرنا بھی شروع ہو گئے پانی کو بھی ترستے ہیں۔ ہمارے حکمرن خود چونکہ اس سے محفوظ رہتے ہیں اور عوام کیلئے وہ اسے ختم کرنا ہی نہیں چاہتے ویسے بھی عوامی مسائل حل کرنا انکی ڈکشنری میں ہوتا ہی نہیں۔ بہرحال بچت سے ہی لوڈشیڈنگ کا حل ممکن ہے تو حکومت کو فوری طورپر ایک قانون منظور کرنا چاہئے کہ صدر سے لیکر تمام سرکاری اداروں میں کہیں بھی اے سی استعمال نہیں کئے جائینگے۔ انرجی سیور کی تعداد بھی مقرر کر دی جائے اور عوام کے علاوہ صدر‘ وزیراعظم ہائوس اور سب حکومتی اراکین کی بجلی کے بل ماہانہ چیک کرنے کیلئے ایک کمیٹی جوکہ اپوزیشن ارکان پر مشتمل ہو‘ قائم کر دی جائے اور باقاعدہ ان کے بل میڈیا پر مشتہر کئے جائیں تاکہ علم ہو سکے کہ کون کتنی بجلی استعمال کرتا ہے اور بل کتنا ادا کرتا ہے۔ قانون سب کیلئے ایک ہے اور سب کو یکساں مراعات حاصل کرتا ہے۔ قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ عام آدی بل بھی باقاعدگی سے ادا کرے اور بجلی سے محروم بھی رہے۔ دوسری طرف صدر‘ وزیراعظم‘ وزراء صاحبان خود بھی اور ان کے اہل خانہ بھی اے سی میں مزے اڑائیں۔