سیاست کا نیا درخت

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
سیاست کا نیا درخت

یہ پاکستان میں پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی اہم سیاسی کردار نے انٹری لی ہو۔ پہلی بار کسی کا ”ضمیر“ جاگا ہو۔ نہ ہی پہلی بار اپنی پارٹی کے خلاف بغاوت ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بھی گھنٹوں گھنٹوں پریس کانفرنسز ہوتے رہے۔ ٹاک شوز میں ”ضمیر کی آواز“ بیان کی جاتی رہی ہے۔ اسکے بعد وہ ماضی کی قبر میں اس طر ح دفن ہوجاتے ہیں کہ ڈھونڈے کے باوجود نہیں مل پاتے۔ پاکستان کی سیاست کی یہی منشا رہی ہے اور سیاست دانوں کا وطیرا بھی یہی رہا ہے۔

سیاسی تخلیق بھی کسی بطن کی محتاج رہی ہے۔ ہم دیکھیں تو ایوب کی کابینہ سے پی پی نے جنم لیا۔ ضیاء الحق بھی سیاسی جماعت کا درخت لگاگئے۔ پرویز مشرف نے بھی اس ”کارِ خیر“ میں ق لیگ کی صورت حصہ ملایا۔ اب یہ سیاست کے درخت مضبوط ہوچکے ہیں۔ ان میں سے بعض کی شاخیں زیر زمین انڈیا،برطانیہ، ایران، سعودیہ اور امریکا تک پہنچ چکی ہیں۔ کو ئی بھی طوفان ان کو اکھاڑ نہیں سکتا۔ مگر انکے خالق ان کی دکھتی اور کمزور جڑوں کا راز جانتے ہیں اور اسی کا سراغ لگاکر ایم کیو ایم سے مصطفی کمال کی پیدا ئش ہوئی ہے۔ مصطفی کما ل کی متحدہ سے بغاوت اور پاکستان سے محبت جاگنے کے مختلف پہلو ہوسکتے ہیں۔ ایک تو کراچی کے عوام میں جو خوف کا عنصر اور دباﺅ تھا، اس میں کسی حد تک کمی ہوگی۔ دوسرا، وہ ان تمام غلطیوں سے دور رہیں گے اور کوشش کرینگے جن کے نتیجے میں وہ خود اس سے الگ ہوئے اور جن خرابیوں کی وہ خود اپنی لمبی اور طویل پریس کانفرنسوں میں اظہار کررہے ہیں۔ تیسرا، جو ایم کیو ایم پر را سے فنڈنگ اور تشدد کی سیاست کے الزامات ہیں، ان کی اہمیت اور بھی پختہ ہوجائے گی۔ اب اس سب میں مصطفی کما ل کے ہا تھ کیا آئیگا، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔
لیکن بہرحال یہ سوال ایک ملین کا ہے کہ آخر مصطفی کمال کی ہی ضرورت کیوں پڑی؟ باقی کسی سیاسی پارٹی نے یہ خلا پر کرنے کی کوشش کیو ں نہیں کی‘ اصل میں ایسا نہیں ہے سب کا تو پتا نہیں، البتہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے ضرور کوشش کی ہے۔ میں خود اور میڈیا اس کا عینی شاہد ہے۔ اب یہ الگ بحث کہ ان کی کوششیں کارگر نہیں ہوسکیں۔ جماعت اسلامی کا نکتہ نظر شاید عوام کو قابل قبول نہیں اور پی ٹی آئی پذیرائی کے باوجود پاﺅں نہیں جماسکی۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مصطفی کمال کے آنے سے نہ صر ف ایم کیو ایم کو نقصان ہوگا، بلکہ یہ پی ٹی آئی کی متبادل جماعت بن جائے گی۔ پی ٹی آئی کراچی اور سندھ کے کئی لوگ انہیں جوائن کرلیں گے۔ میرا خیال ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی پوزیشن اگر بہتر نہیں ہوگی تو مزید ڈاﺅن بھی نہیں ہوگی۔ مگر اس سب سے زیادہ اہمیت اثرات کی ہے۔ ان اثرات کا پتہ دو صورتوں میں لگایا جائے گا۔ ایک یہ کہ مصطفی کمال نے عوامی طاقت کا مظاہرہ اپریل میں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسرا، ایم کیو ایم سے ٹوٹے ہوئے ممبرز نے اسمبلی سے استعفے دیے تو ان پر ضمنی انتخاب ہوگا۔ ان میں الیکشن کے نتا ئج ووٹوں کے تناسب اور نتائج سے ضرور پتہ چل جائے گا۔
وہ وقت دور نہیں ہے جب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ اسکے اظہار کے لیے شاید مارچ کا آخر یا اپریل کا آغاز ہوگا۔ مگر الطاف حسین پر یہ الزامات کہ ان کے بھارتی ایجنسی ”را“ سے تعلقات ہیں اور انہوں نے قومی سلامتی اور وقار کے ساتھ دھوکا کیا ہے تو اب یہ الزامات ان پر پابندیا ں اور سیاسی طریقے سے کمزور کرکے دور کرنے کی کوشش کا حربہ استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ وسیع تر قومی مفاد کی خاطر پہلے تو ان سنگین اور ملک دشمن الزامات کی انکوائری ہونی چاہیے۔ اگر یہ غلط ہیں اور چوہدری نثار علی خان کے بقول ایسے بیانات سیاست میں کوئی نئی بات نہیں، تو پھر کمپرومائز کرلیا جائے۔
پچھلے کئی عشروں سے کراچی کا امن وامان تہ وبالا تھا۔ اسٹبلشمنٹ اور مقتدر اداروں نے کراچی کے عوام کے اوپر بڑا احسان کیا ہے کہ انہیں ایک حد ریلیف فراہم ہوا اور روشنیاں کچھ نہ کچھ بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ اسے اب کسی مفاد کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ نہ ہی ایسی جتھہ بندیاں ہوں جس طرح آفاق احمد کے الگ ہونے کے نتیجے میں ہوئی تھیں اور پورا شہر بارود کا گولہ بن گیا تھا۔ ہمیں ا±مید ہے کہ جو بھی ہورہا ہے، یہ سب ایک نیک مقصد اور اچھے منصوبے کے تحت ہورہا ہوگا، اس لیے بہتر ہے کہ یہ سب نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ ہو۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس میں کسی فرد کے ساتھ زیادتی اور ظلم نہ ہو۔ کراچی پاکستان کی معاشی حب ہے اور اس کی روشنیاں بحال کرنا پورے ملک کے مفاد میں ہے۔