پاکستان کی جغرافیائی تکمیل کا عزم

کالم نگار  |  نعیم احمد
پاکستان کی جغرافیائی تکمیل کا عزم

نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کا ایک مقصد اپنی اجتماعی کوششوں کو بروئے کار لاکر پاکستان کی جغرافیائی تکمیل ہے۔ اس کے حصول کی خاطر یہ ادارہ قوم بالخصوص نوجوان نسل میں ان جذبوں اور ولولوں کو بیدار کرنے میں کوشاں ہے جو بانیٔ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زیرقیادت جدوجہد آزادی میں مصروف مسلمانانِ ہند کا طرۂ امتیاز تھے۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم ڈاکٹر مجید نظامی اس مملکت کو عطیۂ خداوندی اور علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظمؒ کو اپنا روحانی و سیاسی مرشد مانتے ہیں۔ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش کشمیر کا پاکستان سے الحاق ہے۔ وہ پاکستان کے سیاسی و عسکری حکمرانوں کو تواتر کے ساتھ اس امر کی یاد دہانی کراتے رہتے ہیں کہ بابائے قوم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا‘ لہٰذا اسے واپس لینے کا جتن کرو‘ چاہے اس کے لئے اپنے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ ایٹمی تصادم کا خطرہ ہی کیوں نہ مول لینا پڑے۔ ان کی ولولہ انگیز رہنمائی میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ اپنی منزل یعنی بانیانِ پاکستان کے فکر و عمل کی روشنی میں ایک جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی مملکت کے قیام کی جانب رواں دواں ہے۔ اس ادارے کے رہنما اصول اور لائحہ عمل تشکیل دینے کا ذمہ دار اس کا بورڈ آف گورنرز ہے۔ وطن عزیز کی نابغۂ روزگار شخصیات اس کی رکن ہیں۔ اس کا اجلاس سال میں دو مرتبہ ہونا لازم ہے۔
 گزشتہ روز اس کا چودھواں اجلاس ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان‘ لاہور میں محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سابق صدر مملکت محمد رفیق تارڑ‘ سید غوث علی شاہ‘ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ چیف جسٹس(ر)میاں محبوب احمد‘ لیفٹیننٹ جنرل(ر) ذوالفقار علی خان‘ میاں فاروق الطاف‘ چودھری نعیم حسین چٹھہ‘ بیگم مہناز رفیع‘ کرنل(ر) ڈاکٹر جمشید احمد ترین‘ ولید اقبال ایڈووکیٹ اور ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید شریک ہوئے۔ شرکائے اجلاس کے روبرو ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے 16اپریل تا 14جون 2014ء کارکردگی رپورٹ پیش کی جبکہ چیف کوآرڈی نیٹر میاں فاروق الطاف نے 2014-15ء کے مالی سال کا بجٹ پیش کیا۔ معزز اراکین نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس امر پر اظہارِ مسرت کیا کہ محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی زیر قیادت ایوانِ قائداعظمؒ کے پہلے فیز کی تعمیر تیزی کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچ رہی ہے۔ اُنہوں نے ٹرسٹ کی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دشمنانِ دین و وطن کے مذموم ہتھکنڈوں کے سامنے یہ ادارہ سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہے۔ اُنہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک 23مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی تکمیل نہیں ہوجاتی‘ ہم چین سے نہ بیٹھیں گے۔
 محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے اپنے صدارتی خطاب میں اس امر پر فخر کا اظہار کیا کہ پورے ملک میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ واحد ادارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وطن عزیز کی اساس یعنی نظریۂ پاکستان یا دو قومی نظریہ کی ترویج و اشاعت کے لئے دن رات سرگرم عمل ہے۔ ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر اور افواجِ پاکستان کی طرف سے شمالی وزیرستان میں آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کو دہشت گردی کے جس عفریت کا سامنا ہے‘ اس کے مقابلے کے لئے پوری قوم کو متحد ہوجانا چاہئے۔ کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا‘ وہاں کے ایئر پورٹ پر دہشت گردوں کے حالیہ حملے کے بعد ضروری ہوگیا ہے کہ ملک دشمنوں کے خلاف بھرپور ریاستی طاقت کو بروئے کار لایا جائے تاہم ایسا کرتے وقت مقامی آبادی کو جانی و مالی نقصان سے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن تدبیر کی جائے۔ اجلاس کے دوران مختلف اہم قومی معاملات و مسائل کے حوالے سے قراردادوں کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔ ایک قرارداد میں ڈھاکہ میں محصور پاکستانیوں کے کیمپ پر حملے اور دس افراد کو زندہ جلادینے کے واقعہ کی شدید مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان پاکستانیوں کو واپس لانے کا فوری بندوبست کرے۔ ایک قرارداد میں حکومت کو باور کرایا گیاکہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے‘ پاکستانی دریائوں پر 60سے زائد ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کو ریگستان بنانے کی سازش‘ افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے اور بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کو شہ دینے کے تناظر میں پاکستانی قوم بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارتی تعلقات کو کسی صورت قبول نہ کرے گی۔
لہٰذا حکومت بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کی بجائے کشمیر واپس لینے کی منصوبہ بندی کریں۔ایک دوسری قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ میڈیا کے لئے ایک ضابطۂ اخلاق مرتب کرے اور پیمرا کو ہدایت کرے کہ وہ ملک کے اندر بھارتی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات دکھانے پر پابندی کو سختی سے نافذ کرے۔ اجلاس کے اختتام پر جسٹس(ر) ڈاکٹر منیر احمد مغل نے پاکستان کی ترقی و استحکام اور محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی صحت اور طوالت عمر کے لئے دعا کرائی۔