مخالفت اپنی جگہ.... قومی مفاد سے نہ کھیلیں

کالم نگار  |  محمد سلیمان خان
مخالفت اپنی جگہ.... قومی مفاد سے نہ کھیلیں

 کالا باغ ڈیم کی تعمیر نہ کرکے حکمران پاکستان کے مفاد سے کھیل رہے ہیں۔ تھر میں معصوم بچوں کی بھوک سے اموات اور سیلابوں میں بے گناہوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار بھی یہی حکمران ہیں جو اپنی کرسی مضبوط کرنے کیلئے کوئی بھی مشکل فیصلہ کرنے سے گریزکرتے ہیں۔پاکستان کو قدرت کاملہ نے بہترین وسائل سے نوازا ہے۔ ہر سال 35/40 ملین ایکڑ کی اوسط سے پانی سیلاب کی تباہ کاریاں مچاتا ہوا سمندر میں گرتا ہے۔ ہزاروں معصوم بے گناہ اس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ان بے گناہوں کا خون کس کے کاندھوںپر ہے، یوم محشر حکمران کس طرح جواب دیں گے ابھی سے تیاری کر لیں۔ قائد اعظم کی فراست ملکی مسائل اور وسائل سے پوری طرح آگاہ تھی۔ انھوں نے پاکستان کے پہلے بجٹ میں میانوالی ہائیڈ روءپراجیکٹ (کالا باغ ڈیم) اور نارا کینال جس کا پانی تھر تک پہنچتا، کی منظوری دی تھی۔ذوالفقار علی بھٹو توانائی کی طاقت سے بخوبی واقف تھے انھوں نے ایٹمی توانائی کے لئے ہی کام نہیں کیا بلکہ کالا باغ ڈیم پر تیزی سے کام کرنے کے احکامات بھی دیئے۔کالا باغ ڈیم کی اہمیت سمجھتے ہوئے ملک دشمن قوتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ لیکن ہوس زر و اقتدار میں مبتلا اپنا آج اچھا رکھنے کےلئے اس قومی ایشو پر کام کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک بات یاد رکھنے کی ہے۔ دریائے کابل اٹک کے مقام دریائے سندھ میں گرتا ہے۔اس کے بعد دریائے سندھ اور قریباً ایک لاکھ مربع کلومیٹر کے وسیع علاقہ کی بارشیں بھی طغیانی کاسبب بنتی ہیں۔ یہ سب پانی کالا باغ سے اوپر دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس طغیانی پانی کو روکنے کےلئے کوئی ڈیم نہیں بنایا گیا چنانچہ یہ پانی تباہیاں پھیلاتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے۔ اس پانی کو صرف اور صرف کالا باغ ڈیم ہی روک سکتا ہے یا پھر آف چینل پراجیکٹس کے ذریعے اکھوڑی اور روہتاس ڈیم بنائے جا سکتے ہیں۔ جس سے اس سیلابی پانی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن حکمران ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ توانائی کے بحران سے نبٹنے کیلئے کوئلے اور سولر کے مہنگے منصوبے بنا رہے ہیں۔ لیکن اس طرح بات مزید بگڑ جائیگی۔ کوئلہ کے ذریعے تقریباً ساڑھے دس روپے فی یونٹ اور سولر بجلی کیلئے تقریباً 17 روپے کا پر کشش ٹیرف دیا گیا ہے۔ اسکے بعد لائن لاسز، بجلی چوری اور ٹیکسز کے فیکٹر کو شامل کیا جائے تو سولر انرجی 26 روپے فی یونٹ اور کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی 16 روپے فی یونٹ میں دستیاب ہوگی۔ نیپرا رپورٹ کے مطابق 2012 ءمیں بجلی کی Installed Capacity 23,538میگا واٹ تھی۔ جس میں حکومتی دعوں کے مطابق دو سے تین ہزار میگا واٹ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ہماری ڈیمانڈ 13 اور 19 ہزار میگا واٹ کے درمیان رہتی ہے۔ مسئلہ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کا نہیں بلکہ بجلی کی پیداواری قیمت میں کنٹرول کا ہے۔ اگر ہم یونہی مہنگے بجلی کے پیداواری یونٹ لگاتے رہے تو مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ حکمران تو اپنی دولت کے بل پر غیر ممالک میں عیش کرینگے اور عوام حکمرانوں کے غلط فیصلوںکو بھگتتے ہوئے اس مہنگی بجلی کے دام چکاتے رہیں گے۔اس کا واحد حل سستی ترین ہائیڈل بجلی کا حصول ہے۔
 مگر حکمران ٹولہ اس پر بھی سودے بازی کرکے مک مکا کرتے ہوئے ہائیڈل بجلی کو ساڑھے آٹھ سے نو روپے فی یونٹ کے ٹیرف سے انٹرنیشنل کمپنیوں کے سپرد کر ر ہے ہیں۔ جو 25سے 30سال تک اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خستہ حال پراجیکٹ قوم کو سونپ کر غائب ہو جائیں گی۔ اس طرح کی ایسٹ انڈیا کمپنیوں کو حاوی کرکے پاکستان کی معیشت کا بیڑہ غرق کیا جا رہا ہے۔ ہائیڈل بجلی کی پراجیکٹ لگانے کیلئے واپڈا ایک بہترین ادارہ تھا۔ حکمرانوں نے اس بہترین ادارہ کو اپنی مفادات کی چکی پر قربان کر دیا۔ آج بھی واپڈا سے کام لیا جائے تو تمام ہائیڈل پراجیکٹ محض چند روپے فی یونٹ کی لاگت سے تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔ جو 5/7 سال بعد ایک روپے فی یونٹ سے بھی کم لاگت میں قوم کو سستی بجلی کا تحفہ دیں گے۔ حکمران دعوے کرتے ہیں کہ ملک جنگ کے ساتھ ترقی نہیں کرتے۔اگر ہم بھارت سے دشمنی کرتے رہے تو ہمارا حال شمالی کوریا کا سا ہوگا۔ حکمران یاد رکھیں، ہم بھارت سے دشمنی نہیں کر رہے بلکہ بھارت ہم سے دشمنی کر رہا ہے۔ ہمارے پانیوں کا رخ وہ تبدیل کر رہا ہے۔ عالمی عدالت کے فیصلہ کے باوجود سر کریک کا علاقہ پاکستان کے حوالے کرنے کو تیار نہیں۔ اقوام متحدہ کی واضح قراردادوںکے باوجود کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہہ رہا ہے۔کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ حکمران یاد رکھیں قومیں جب ترقی کرتی ہیں، جب حکمران دجلہ کے کنارے ایک کتے کے مرنے کو بھی اپنی جوابدہی قرار دیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ جیسی ہستی ایک کتے کے مرنے پر اپنی جوابدہی کے خوف میں مبتلا ہیں مگر یہاں تو سیلاب میں سینکڑوں نہیں ہزاروں ہلاکتیں ہو جاتی ہیں۔ آپ بڑے جوش سے متاثرین کو امدادی سامان دیتے یا تھر کے بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہوئے تصاویر کے خصوصی سیشن کے ذریعے اخبارات اور ٹی وی چینل پر اپنی سخاوت کے جھنڈے گاڑتے نظرآتے ہیں۔ یہ سب کچھ بھی آپ اپنی ذاتی جیب سے نہیں بلکہ حکومتی خزانے سے کرتے ہیں۔
بھارت سے دوستی کے طلبگار، امن کے آشا کے دعویدار یہ جان لیں۔ قائد اعظم اور ان کے رفقاءہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے حامی تھے لیکن برسوں کی تک و دو کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ہندوذہنیت کے ساتھ دوستی نہیں چل سکتی۔ اسی بنیاد پر دو قومی نظریہ پروان چڑھا تھا۔ پاکستان کے قیام کا مقصد صرف انگریزوں سے آزادی نہیں بلکہ بنیئے کے معاشی استحصال سے چھٹکارا بھی تھا۔ بھارت اپنے کسانوں کو تقریباً مفت پانی اور بجلی فراہم کر رہا ہے۔ سستی کھاد اور زرعی ادویات بر وقت سپلائی کی جاتی ہیں۔ان کا زرعی محکمہ اعلیٰ درجے کے بیج کی بر وقت فراہمی کا ذمہ دار ہے۔ کسانوں کو بر وقت قرضہ دیا جاتا ہے۔ کاشتکاروں کی تمام فصل کھیتوں سے ان کے واجبات کی کٹوتی کرتے ہوئے اٹھائی جاتی ہے۔ ان تمام سہولتوں کے مقابلہ میں پاکستان میں کسانوں کا جو حشر کیا جاتا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔
 کیا اس طرح پاکستان کی زراعت کھلی منڈی میں بھارت کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ ہرگز نہیں ؛ بلکہ بھارت کے ساتھ آزاد تجارت کرکے آپ پاکستان کے کسانوں کو بالکل تباہ کر دیں گے۔ پاکستان کی معیشت کی تباہی سے آئی ایم ایف کا ایجنڈا پورا ہوگا۔ صرف زراعت کی وجہ سے آئی ایم ایف اور غیر ملکی طاقتیں پاکستان کو زیر دام لانے سے قاصر رہتی ہیں۔ بھارت کے ساتھ آزاد تجارت اور پھر پاکستانی زراعت کی تباہی کے بعد کچھ نہیں بچے گا۔