جموں کشمیر ووکیشنل سنٹر لاہور سے شفٹ نہ کیا جائے

کالم نگار  |  محمد صادق جرال
جموں کشمیر ووکیشنل سنٹر لاہور سے شفٹ نہ کیا جائے

آزاد جموں کشمیر کونسل کے تحت خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے 1980ءکی دہائی میں کشمیر غرض ووکیشنل سنٹرز راولپنڈی‘ لاہور‘ ایبٹ آباد‘ جہلم‘ مظفر آباد‘ باغ‘ بھمبھر‘ کوٹلی‘ سدھنوتی اور راولا کوٹ میں قائم کئے گئے۔ لاہور شہر جہاں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی دو نشستیں ہیں۔ کشمیری مہاجرین اور آزاد کشمیر کے باشندگان کی کافی تعداد قیام پاکستان سے پہلے اور بعد سے رہائش پذیر ہے۔ انکے پرزور مطالبے پر 1994ءمیں لاہور میں خواتین کیلئے کشمیر گرلز ووکیشنل سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس میں عصر حاضر کے تکنیکی اور فنی مہارت کیمطابق مختلف کورسز کرائے جاتے ہیں۔
جو کشمیری اور پاکستان کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کیلئے عزت اور مالی فوائد حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ کشمیری خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے ایک فلاحی ادارہ ہے جس میں کشمیری خواتین کو فری فنی تربیت کے ساتھ فری خام مال بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ تاکہ کشمیری خواتین کسی قسم کی معاشی تنگی کا سامنا نہ کرنا پڑے تاکہ معاشی ترقی کیساتھ ساتھ باعزت طریقے سے مالی فوائد بھی حاصل کر سکیں۔ اس کا آغاز پہلے نسبت روڈ پر کرائے کی عمارت میں اور بعدازاں فرید کورٹ ہا¶س میں جاری رہا۔ فرید کورٹ ہا¶س میں 22 مرلے اراضی پر کشمیر کونسل نے اپنی عمارت تعمیر کی تو اس کشمیر ووکیشنل سنٹر کو اس عمارت میں جولائی 2013ءکو شفٹ کر دیا گیا۔ اس کو تمام کشمیری تنظیموں‘ نمائندگان اور کشمیری مقیم لاہور نے بے حد سراہا۔ 25 سے زائد نئے فنی شعبوں میں تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کا سربراہ ایک پرنسپل اور اساتذہ پوری محنت اور جانفشانی سے سینکڑوں طلباءکو فنی تربیت دے رہے ہیں۔
 اب تک ہزاروں طلباءتعلیم مکمل کرنے کے بعد مختلف محکموں میں روزگار حاصل کر رہی ہیں۔ اب جبکہ پاکستان میں ایک نظریاتی حکومت ہے جو کہ قائداعظم کی پاکستان مسلم لیگ اور بالخصوص میاں نواز شریف جوکہ کشمیر اور کشمیریوں سے محبت رکھتے ہیں اور کشمیری عوام ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔ انکے زیر سایہ ان کے وزیر امور کشمیر چودھری برجیس طاہر کشمیر کونسل کے چند اعلیٰ افسران کے مشورے پر اس گرلز ووکیشنل سنٹر کو لاہور سے آزاد کشمیر میں شفٹ کرنا چاہتے ہیں‘ حالانکہ یہ عمارت کشمیریوں کے سرمایہ سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس کو کشمیر کاز کیلئے استعمال ہونا چاہئے کہ لاہور شہر میں آزاد کشمیر‘ قانون ساز اسمبلی کی دو نشستیں ہیں۔ لاکھوں مہاجرین جموں کشمیر آباد ہیں۔ انکے حق کو چھین کر اس کشمیر ووکیشنل سنٹر کو آزاد کشمیر میں شفٹ کرنا سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔ کشمیری مقیم لاہور نے پاکستان مسلم لیگ کی کامیابی میں واضح کردار ادا کیا اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سنٹر کو لاہور سے شفٹ نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی خصوصی توجہ چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ خبریں بھی وزارت امور کشمیر کی طرف سے آرہی تھیں کہ کشمیر اور گلگت کو بھی پاکستان کا صوبہ بنایا جائے۔ انکی اس بات سے تقویت حاصل ہوتی ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے آئینی امور کے انچارج سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر‘ سید منظور حسین گیلانی نے آئینی مسودہ تیار کیا ہے۔ جس سے محسوس ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کے صوبے کے برابر کا سٹیٹس دیا جائیگا۔ وزارت امور کشمیر اور پاکستان مسلم لیگ آزاد کشمیر کی خواہش کو کشمیری عوام پسند نہیں کرتے اور ساری کشمیری قیادت نے کہا ہے کہ کسی طور پر صوبہ نہیں بننے دیا جائیگا۔ پاکستان مسلم لیگ آزاد کشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر‘ منظور وٹو کے دور حکومت میں ایکٹ 74 وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل کو ختم کرانے کیلئے کافی تجویز دے رہے تھے اور ان کو بڑی امید تھی کہ وہ اصولی سیاست کرینگے نہ جانے اب کیوں سمجھوتہ کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ یہ معاملہ وہیں ٹھپ ہو گیا ہے۔ ان سب باتوں سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اور بھارت کی کشمیر پالیسی کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ کشمیر اگر ایک ریاست ہے تو کشمیریوں کی مرضی کے بغیر فیصلہ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ کشمیری پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ الحاق چاہتے ہیں لیکن کبھی کسی کشمیری نے مسئلہ کشمیر کے حق سے پہلے صوبہ بنانے کی بات نہیں کی اور ایسی باتوں کا ذکر کشمیر کاز کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
 بھارت کی نئی حکومت کانگریس کی ہو یا کسی اور پارٹی کی کشمیر پر ایجنڈا بھارت کا واضح ہے۔ ہر حکمران اٹوٹ انگ کی بات کرتا ہے۔ لہٰذا حکومت پاکستان کے حکمران بھارت سے ہر معاملات میں کشمیر کو نہ بھولیں۔ یہی ملک کی سلامتی‘ بقاءاور ترقی کیلئے ضروری ہے۔ جناب نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر مجید نظامی ہر بات میں کشمیر کو زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ یہ بات ہمارے حکمرانوں کو کرنی چاہئے۔