تو بھی کلیجہ تھام کر مجھ سے کہے کہ ہائے دل

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان
تو بھی کلیجہ تھام کر مجھ سے کہے کہ ہائے دل

عمران خان نے ”شرمناک“ کی اصطلاح جن معنوں میں وضع کی ہے تو محسوس ہو رہا ہے کہ ہر طرف شرمناک حقیقتیں سر اٹھائے کھڑی ہیں۔ یہ ایسے شرمناک باب ہیں جن کے سامنے ہم سرنگوں کھڑے ہیں۔ بے حسی نے اناﺅں کو مفلوج، بے ضمیری نے غیرت کو معذور اور خود غرضی نے حب الوطنی کو مصلوب کر دیا ہے ورنہ آج ہماری خبریں عبرتناک نہ ہوتیں۔ سمجھنے اور سنبھلنے کیلئے بہت سے سبق آموز مناظر ہیں لیکن مومنوں کا تو قحط پڑا ہوا ہے۔ حکمرانوں پر تو ویسے بھی ہدایت کے تمام دروازے بند ہیں۔ چاپلوس مشیر، وزیر، نااہل بیورو کریسی نے حکمرانوں کو یہی باور کرا رکھا ہے کہ وہ امیر المومنین ہیں اور انہوں نے اکبر، جہانگیر، شاہجہان کے شاہانہ زمانے یاد کرا دئیے ہیں۔ دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں اسلئے عوام کو صاف پانی کی کیا ضرورت ہے۔ ایکڑوں اور کنالوں میں رہنے والوں کو کیا معلوم کہ ڈھائی تین یا پانچ مرلے کے گھروں میں رہنے والے کروڑوں پاکستانی کیسے غیر انسانی طریقے سے جی رہے ہیں۔ پورا ملک بحران میں مبتلا ہے لیکن وزراءاور مشیروں کی فوج ظفر موج میاں برادران کے سامنے دوزانو ہو کر خوشامدی انداز میں کہتی ہے کہ آپ جیسا تو کبھی پاکستان میں حکمران ہی نہیں آیا۔ ایک بہت پرانا گھیسا پٹا لطیفہ ہے کہ لوگ بھوکے مر رہے تھے تو ملکہ نے پوچھا، کیا بات ہے؟ مشیر نے کہا جناب انکے پاس روٹی نہیں ہے۔ ملکہ نے کہا کہ روٹی نہیں ہے تو یہ کیک کیوں نہیں کھا لیتے۔“ اب روز بعض اخبارات میں یہ دلچسپ خبریں لگی ہوتی ہیں کہ چینی تجارتی وفد کے سربراہ نے کہا کہ شہباز شریف جیسا عظیم لیڈر تو پیدا ہی نہیں ہوا۔ کبھی خبر لگتی ہے کہ ترکی کے وزیر دفاع نے کہا کہ شہباز شریف نے پنجاب کو دنیا کا عظیم خطہ بنا دیا ہے۔ کبھی خبر چلتی ہے کہ جاپانی سفیر نے ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے اقدامات کو ایشیا کے بہترین اقدامات قرار دیا ہے۔ ایک خبر پڑھی کہ جرمنی کے وفد نے وزیر اعلیٰ سے ملنے کے بعد کہا کہ خادم اعلیٰ حیرت انگیز شخصیت کے مالک ہیں۔ پھر ایک اور دلچسپ خبر لگی کہ ناروے کے وزیر نے شہباز شریف کی ذہانت اور کارکردگی نیز پنجاب کو مثالی صوبہ بنانے پر عوام کو مبارکباد دی ہے بلکہ ایک بار تو ملائیشیا، کوریا یا آسٹریلیا کے سفیر نے کہا کہ کاش! شہباز شریف ہمارے ملک کے وزیر اعلیٰ ہوتے تو ہمارا ملک بھی ترقی کرتا۔ یہ لطائفِ صحافت جو ظاہر ہے کہ لین دین کے معاملات سے ہی وجود میں آتے ہیں۔ ذرا غور فرمائیے کہ اس میں شرم کے کتنے پہلو مضمر ہیں۔ مثال کے طور پر کیا خبر دینے اور خبر بنانے والے سو چینی جاپانی فرانسیسی اطالوی جرمنی اور نارویجن یا کوریائی زبانیں آتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ہر غیر ملکی بندہ یہ بات صرف صحافیوں سے اپنی زبان میں کیوں کہتا ہے۔ وہ ملاقات کے دوران یا تقریب میں تقریر کے دوران اس بات کا اقرار کیوں نہیں کرتا کہ خبر پاکستان میں اردو کے علاوہ انگریزی یا اسکی قومی زبان میں بھی چلے۔ تیسرے یہ کہ پنجاب میں روزانہ دو کروڑ کی ڈکیتیاں اور ایک درجن قتل، چھ خودکشیاں اور دس احتجاجی ریلیاں نکلتی ہیں۔ روز دہشت گردی، اغوا، زنا، مار دھاڑ کے واقعات ہوتے ہیں۔ چند مخصوص سڑکوں کے سوا ہر جگہ اندھیرے اور کھڈے ہیں۔ کیا یہ واقعی ترقی ہے؟ کیا پنجاب سچ مچ بیجنگ، شنگھائی، ٹوکیو، برلن، اوسلو، کوالالمپور، جدہ اور انقرہ سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اس طرح کی خبروں سے سوائے جگ ہنسائی کے اور کیا ملتا ہے۔ خادم اعلیٰ ابھی تک 80ءاور 90ءکی دہائی میں جی رہے ہیں، وہ بھول گئے ہیں کہ آج پنجاب میں پرائیویٹ سیکٹر کی وجہ سے آدھی سے زیادہ آبادی بی اے سے اوپر، ایم اے، ایم بی اے، ایم ایس سی، ایم بی بی ایس، ایل ایل بھی، ایم کام، ایم فل اور پی ایچ ڈی کر چکی ہے۔ وہ اب پڑھے لکھے عوام کے سر پر بیٹھے ہیں جو ہر خبر کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو ایسے ہی نام نہاد بہی خواہوں، مخلصوں اور دوستوں نے اندھیرے میں رکھا ہوا ہے جو سامنے تعریفوں کے پُل باندھتے ہیں اور مراعات و عنایات سے فیضیاب ہو کر پیٹھ پیچھے قہقہے لگاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمرانوں کے گرد خوشامدیوں کا ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے تو حکمرانی چند روزہ رہ جاتی ہے۔ اس کے بعد شرمناک حقیقتوں اور کہانیوں سے پردہ اٹھنے لگتا ہے۔اب ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے، بھارت جانے کا شوق پورا کرنے کے بعد میاں نواز شریف نے ایک عدد بیش قیمت ساڑھی بھی نریندر مودی کو بھجوا دی جس کا شکریہ بھی نریندر مودی نے ایک سطر میں ٹوئٹر پر دیکر جان چھڑا لی لیکن میاں نواز شریف کی تابعداری کی تسلی نہ ہوئی چنانچہ اپنے کسی نامعقول، سفارشی اور چاپلوس، مقرب خاص، مشیر یا وزیر کے کہنے پر نریندر مودی کو ایک لمبا چوڑا خط بھی لکھ ڈالا جس میں نریندر مودی کی میزبانی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا ڈالے۔ لیکن ہوا کیا --- نریندر مودی کو اتنی مٹھاس سے پُرزور دعوت دینے کا کیا انجام نکلا کہ نریندر مودی بھوٹان اپنے جیسے لوگوں سے ملنے، اتنی دور چلے گئے۔ سوال یہ ہے کہ لاہور دہلی سے قریب ہے یا ؟ یہ پاکستان کے منہ پر زور دار طمانچہ نہیں تو کیا ہے۔ پرسوں بھارتی وزیر دفاع اردن جٹیلی نے دوستی کا تابوت اٹھا کر دے مارا۔ اردن جٹیلی نے نخوت سے کہا کہ ہم پاکستان کو سیز فائر کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسکا جواب دے سکتے ہیں۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ بھارتی وزیر دفاع کو بھی اس کا تہنیتی خط ارسال کریں۔ ملک آگ میں جل رہا ہے اور آپ کا سارا فوکس پرویز مشرف یہ ہے کہ کس طرح اسے رسوا کیا جائے اور اسے جیل میں جھونکا جائے۔ آپکی تمام توجہ ذاتی پروجیکشن اور ذاتی تجارت پر مرکوز ہے۔ روزانہ پاکستان میں ڈھائی سو افراد غیر طبعی اموات سے دوچار ہیں۔ اس طرح تو کیڑے مکوڑے بھی نہیں مرتے جس طرح روزانہ پاکستانی مار دئیے جاتے ہیں۔ پورے ملک میں خون کے چھینٹے ہیں۔ اس بجٹ سے عوام الناس میں حکومت سے جلد چھٹکارے کی طلب بڑھی ہے۔ لوگ بُرا بھلا کہہ رہے ہیں کیونکہ لوگوں کے بچے بھوکے مر رہے ہیں۔ لوگوں کیلئے محدود آمدنیوں میں گزارہ مشکل نہیں، ناممکن ہو گیا ہے۔ لوگوں کے پاس روٹی کے پیسے نہیں مگر کھربوں روپے کے بجٹ میں محیر العقول منصوبے ہیں۔ جب لوگ زندہ نہیں رہیں گے تو کون آپکی میٹرو بس، لگژری ٹرین میں بیٹھے گا۔ کون نالج پارک جانے کا سوچے گا۔ کون چار سال بعد آپکے لوڈشیڈنگ کے وعدوں تک زندہ بچے گا۔ آپکے مشیر، وزیر، ماتحت آپ کو سبز باغ دکھاتے، جھوٹی تعریفیں کرتے اور وہ خبریں کالم دکھاتے ہیں جو آپکے ہی نوازے ہوئے لوگ لکھتے ہیں۔ کبھی خود اخبار بھول کر پڑھیں تو شرمناک سچائیاں سامنے آئیں اور آپ کو پتہ چلے کہ اگر آپ پر یہ وقت آ جائے تو کتنا کڑا ہو گا۔ آپکے لئے تو یہی عرض ہے کہ اگر آپکی منی سی عقل میں آ جائے ....
تیرا کسی پہ آئے دل تیرا کوئی دُکھائے دل
تو بھی کلیجہ تمام کر مجھ سے کہے کہ ہائے دل