ایماندر آدمی

ایماندر آدمی

”ایمانداری“ جسے آجکل ہم ایک دوسرے میں ڈھونڈ رہے ہیں مجھے لگتا ہے وہ سرکاری ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں وینٹیلیٹر پر پڑی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ کیا یہ جان بلب ”دیانتداری“ صحت یاب اور چاک و چوبند ہو سکتی ہے؟ یقیناً۔ اگر لیڈر اور عوام چاہیں تو بہت سے ملکوں میں ایسا ہوا، جیسے سنگا پور۔ اس پر بعد میں بات کروں گی، پہلے بات کریں اپنے عوام کی۔ عوام کا چھوٹا سا حصہ جو عوام نہیں خواص ہیں جو اربوں کھربوں روپوں اور کروڑوں عوام کی زندگی سے کھیلتے ہیں کیا وہ چاہتے ہیں کرپشن ختم ہو، غیر فطری خواہش ہو گی۔ ایسا ہوا تو ان کی بادشاہت ختم ہو جائے گی۔ لیکن میری برادری چاہتی ہے کہ کرپشن ختم ہو۔ میری برادری جس میں وہ تمام پاکستانی شامل ہیں جن کا سلسلہ نسب بھی حضرت آدمؑ سے ملتا ہے۔ ان کے پاس موبائل فون تو ہیں لیکن وہ نمبر نہیں جس پر فون کرنے سے سب کام ہو جاتے ہیں۔ میری برادری میں وہ پڑھے لکھے اہل لوگ بھی شامل ہیں جو لاکھوں میں ٹیکس دیتے ہیں اور کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومنے والوں کو دیکھ کر سوچتے ہیں یہ لوگ تو ہم سے کہیں کم ٹیکس دیتے ہیں پھر یہ بڑے گھر اور یہ گاڑیاں کیسے؟
ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پھل خریدیں یا دوا، ہسپتال جائیں یا تھانہ، کورٹ، کچہری یا پاسپورٹ آفس کہیں بھی، ریڈ ٹیپ کرپشن انہیں خوار کرتی ہے۔ اپنا کام کروانے کیلئے انہیں دھکے کھانے پڑتے ہیں، نظام پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو ایفی شینٹ نہیں۔ ان کی آخری امید وہ لوگ ہوتے ہیں جو نظام کو مبہم قوانین کے سہارے چلا رہے ہیں۔ ان کا جی چاہتا ہے کہ ان کا پالا کسی دیانتدار، فرض شناس، خوفِ خدا رکھنے والے انسان سے پڑے تاکہ ان کا کام ہو جائے۔ خود دیانتدار ہوں یا نہ ہوں لیکن یہ جان گئے ہیں کہ ان کے مسائل کا حل ”دیانتداری“ میں ہے۔
اب بات کریں قیادت کی تو نئی حکومت سمجھتی ہے کہ اہل اور دیانتدار لوگوں کو سامنے لائے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔
پہلے حکومت بدلتی تھی تو کرپٹ لوگوں کو ڈھونڈ کر فارغ کرتی تھی اب تناسب ایسا بدلا ہے کہ اب سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ اب اہل اور دیانتدار لوگ دکھائی نہیں دیتے۔ گذشتہ سالوں میں ہم نے ان کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا ہے جو امیر رشتہ دار اپنے کسی غریب رشتہ دار کے ساتھ اپنی تقریب میں بن بلائے آنے پر کرتے ہیں؟ یہ مخلوق اتنی کم کیوں ہو گئی ہے؟ جاننا چاہتے ہیں تو پچھلے دس سالوں میں ریٹائرڈ ہونے والے چند ایماندار اور چند کرپٹ افسروں کے طرزِ زندگی کا موازنہ کر لیجئے بالکل سمجھ میں آ جائے گا۔ دیانتدار افراد کو ڈھونڈے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ ہم چاہتے ہیں ہمارا واسطہ ایماندار آدمی سے پڑے مگر لائف سٹائل ہم کرپٹ آدمی کا اپنانا چاہتے ہیں۔ ایمانداری کی ری برانڈنگ کی ضرورت ہے۔
ویسے ایک اہل اور ایماندار افسر کی دورانِ ملازمت زندگی کا جائزہ بھی لیجئے اس کے دوست، رشتہ دار اس سے ناراض رہتے ہیں کہ بااختیار ہوتے ہوئے ان کے جائز ناجائز کام کروانے میں ان کی مدد نہیں کرتا۔ اگر اس کا باس بدعنوانی کو پسند کرتا ہو تو .... کی ضرورت رہتی ہے، ماتحت عملہ بھی اتنا خوش نہیں رہتا۔ سرکاری گاڑی سے پٹرول چرانے پر صاحب چشم پوشی نہ کرے تو ڈرائیور پریشان رہتا ہے کہ یہ کیسا صاحب ہے؟ جان نثار گھریلو ملازم نہیں ملتا کیونکہ صاحب دفتر سے چھٹی دلوا کر گھر ملازمت رکھ کر دو تنخواہیں نہیں دلواتا۔ کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ اس نے واقعی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کیا۔ بے یقینی سے سوال کرتے ہیں۔ واقعی کچھ نہی بنایا؟ پھر اس کی جانب تاسف کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اسے اُس کی خوبی نہیں بیوقوفی سمجھتے ہیں۔ اگر وہ گریڈ 22 تک نہیں پہنچتا جس کی لازمی وجہ اس کی نااہلی نہیں۔ 25، 30 سال کی نوکری کے بعد سرکار 30 یا 32 لاکھ ہاتھ میں تھما کر کہتی ہے آپ گھر بناﺅ، بچے بیاہو، جنت کے تصور سے دل کو بہلاﺅ مسائل سے فرصت ملے تو بیٹھ کر سوچو کیوں ایمانداری کا رستہ اپنایا اور اس خوف کے ساتھ جیو کہ کہیں بچے یہ رستہ چھوڑ نہ دیں۔ جس ملک میں ٹیکس دہندگان کی فہرست چھوٹی اور کروڑ پتیوں کی لمبی ہو، جہاں اخبار ٹی وی پر ہر روز کرپشن کے سنسنی خیز انکشافات ہوں، الزمات کی بھرمار ہو لیکن جرم قابل گرفت نہ ہو، سزا الزام لگانے، شہادت دینے والے کو ملے، وہاں ایمانداری کیسے پنپ سکتی ہے۔
ایماندار آدمی خواہ سرکاری اہلکار ہو، کاروباری شخص ہو یا کسی بھی شعبے سے منسلک ہو اس کے لئے آسانیاں کم اور مشکلیں زیادہ ہوتی ہیں۔ جو لوگ پاکستان سے باہر قسمت آزمانے گے انہوں نے اپنے اہل خانہ کیلئے دنیا بدل ڈالی لیکن ارض وطن پر دیانتداری سے یہ ممکن نہیں سیدھے راستے پر چلنے والا ہر آدمی جانتا ہے کہ وہ کرپٹ آدمی سے آگے نہیں نکل سکتا وہ کاروبار کر رہا ہو یا ملازمت، کہیں نہ کہیں ضمیر کو نیند کی گولی دئیے بغیر مالی اخلاقی یا قانون کرپشن کے بغیر ایک حد سے زیادہ ترقی نہیں کر سکتا اور کرپٹ آدمی بھی یہ جانتا ہے پکڑا گیا تو سزا نہیں ہو گی، مالی منافع بہت زیادہ ہے، پھر ایسے میں ایمانداری ہمارا شعار کیسے بن سکتی ہے؟ اس لئے ہمیں کرپشن سے نجات کیلئے سخت قوانین اور سزائیں نافذ کرنا ہوں گی۔