پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت

کالم نگار  |  مریم گیلانی
پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت

پاکستان کی معیشت پچھلے کئی سال بحران کا شکار رہی۔ پرویز مشرف کے دور اقتدار کے بعد ڈالر ایک دم بہت زیادہ مہنگا ہو گیا اور پیپلزپارٹی کا تقریباً سارا دور معیشت کے مسائل حل کرنے میں صرف ہوا مگر پاکستان کی معاشی حالت ابتر سے ابتر ہوتی چلی گئی۔ موجودہ حکومت جب برسر اقتدار آئی تو معیشت کی بہتری ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ پاکستان اقوام عالم میں دہشت گرد ممالک کی فہرست میں گردانا جانے لگا تھا۔ ترقی یافتہ ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے گھبراتے تھے۔ حتیٰ کہ پاکستانی سرمایہ کار بھی پاکستان کے حالات سے خوفزدہ ہو کر دوسرے ممالک میں سرمایہ منتقل کر رہے تھے۔ اس لیے نواز حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد معیشت میں بہتری کے ساتھ ساتھ پاکستان کو سکیورٹی کے حوالے سے بھی سازگار بنانا اور سرمایہ کاری کو پاکستان کی طرف راغب کرنا بھی ایک اہم مرحلہ تھا۔ بحرانوں میں گھِرا پاکستان دھیرے دھیرے استحکام کی طرف گامزن ہے۔ حکومت پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں معاشی ترقی کے لئے بے پناہ کاوشیں کی ہیں جن کے ثمرات آہستہ آہستہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ معاشی استحکام کے ضمن میں گوادر اور CPECکے معاہدے کا بہت اہم کردار ہے، لگ بھگ 51 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر مشتمل یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کے لئے ترقی کی نئی راہیں کھولے گا بلکہ چین سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیئے بھی معاشی اعتبار سے خوشحالی کی نوید لے کر آئے گا ۔ پاکستان دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہونے میں مصروف ہی تھا کہ نیشنل ایکشن پلان (National Action Plan) اور آپریشن ضرب عضب کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ یہ دونوں کاوشیں عسکری اور سیاسی قیادت کی مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے بدلتے ہوئے معاشی اور سیاسی حالات دیکھتے ہوئے اقوام عالم نے پاکستان کی کامیاب پالیسیوں کو بے حد سراہا ہے اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کو مثال بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں معاشی استحکام آیا ہے اور اس کا شمار دس ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہونے لگا ہے ۔ عالمی مالیاتی فنڈز کی منیجنگ ڈائرکٹر کرسٹن کے مطابق پاکستان معاشی بحران سے محض دو سال کی قلیل مدت میں باہر جا چکا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈز کے 11جائز ہ جلاسوں میں کامیابی کی وجہ سے بین الاقوامی سرمایہ داروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے۔ معروف فرم لینگ لانین کے مطابق پاکستان میں افراط زرکم ہو کر تین فیصد رہ گیا ہے۔ یہی شرح چند سا ل قبل تقریباً 15فیصد تھی۔ ورلڈ بنک نے پاکستان کی معاشی استحکام کی بحالی کے حوالے سے پاکستان کی تعریف کی ہے اور اس میں مزید اقدامات کرنے کی گنجائش کرنے کی نشاندہی بھی کی ہے۔ عالمی بنک بزنس رپورٹ 2017ء کے مطابق پاکستان کی کارکردگی 190 ممالک میں سے 144 نمبر پر آچکی ہے اس سے قبل پاکستان کا درجہ 148نمبر پر تھا یہ ترقی اس امر کی غمازی کرتی ہے چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے پاکستان کاروباری دوست ملک ہے۔ تازہ ترین رپورٹ نے پاکستان کو کاروباری ضابطہ کار پر پابندی کی وجہ سے اُبھرتی ہوئی معیشت میں ظاہر کیا ہے اور جنوبی ایشیا میں سے واحد پاکستان ہی وہ ملک ہے جس کے انڈکس میں ترقی واضح ہے ۔ سرمایہ کاری میں اضافہ پاکستان کی احسن معاشی اصلاحات اور پالیسیوں کے باعث ہو رہا ہے۔ پاکستان معاشی خدوخال میں یہ تبدیلی حیران کن بھی ہے اور خوش آئند بھی۔ پاکستان اپنی معاشی پالیسیوں کی بدولت عالمی سرمایہ کاری کے منظر پر نمایاں نظر آنے لگا ہے ملک کی شرح نمو 4.7فیصد تک پہنچ چکی ہے جو پچھلے آٹھ سال کی بلند ترین سطح ہے اور بجٹ خسارہ میں تین فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ پاکستان میں روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے اور فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں 5فیصد اضافہ ہوا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 24بلین ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جو کافی حوصلہ افزاء ہے اور شرح سود میں بھی نمایا ں کمی آ چکی ہے۔ معاشی ترقی کے یہ تمام Indicatorsسرمایہ داروں کے لیے تسلی بخش ہیں اور ملک میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے ضامن ہیں۔ نہ صرف سرمایہ کار بلکہ بیروں ملک پاکستانی بھی پاکستان میں سرمایہ لگانے کے لیے کوشاں ہیں موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے علاوہ کراچی سٹاک ایکسچینج پر نظر ڈالیں تو اس کی کارکردگی ایشیاء میں بہتر ین اور دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ اس کی مثبت کار کردگی سے معیشت کو استحکام حا صل ہوا ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن پر دہشت گردی نے بے پناہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں انسانی جانوں کی قربانی کے علاوہ نقصانات بھی بے شمار ہیں۔ ایک محتاط انداز ے کے مطابق اب تک تقریباً 120ارب ڈالر کا نقصان پاکستان کی معیشت برداشت کر چکی ہے ۔ دہشت گردی کے ناسور نے پاکستان کی معاشی فضا کو اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ بیرون ملک سے سرمایہ کار تو دور کی بات ہے پاکستان کے اپنے تجارتی حلقے بھی پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ تصور نہیں کرتے تھے۔ مگر گوادر کے معاشی باب کے آغاز کے بعد یہ تاثر زائل ہوتا جا رہا ہے اور سرمایہ کار پاکستان کو ترجیح دینے لگے ہیں وزیر اعظم پاکستان نے گوادر کی بندر گاہ سے پہلے جہاز کو روانہ کر کے پاکستان کی معاشی تاریخ کے سنہری باب کا آغاز کر دیا ہے۔ گوادر اور CPECکے ذریعے تقریباً 7لاکھ افراد کو روزگار میسر آئے گا اور شرح نمو میں تقریباً 2.5فیصد اضافہ ہو گا ۔ پاکستان کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور عوام ایک ہی صفحہ پر ہوں۔ حالیہ امریکی انتخابات میں ہم نے یہ محسوس کیا کہ لوگ انتہائی شدت کے ساتھ اپنے اپنے سیاسی رجحانات کی نمائندگی کر رہے تھے مگر جب غیر متوقع طور پر ٹرمپ صدر کے طور پر سامنے آئے تو سب نے ایک آواز ہو کر کہا کہ اب ہم امریکہ کی ترقی کے لئے مل جُل کر کام کریں گے۔ اسی قسم کے جذبے اور ولولے کی پاکستان میں ضرورت ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی ترقی کے لئے یکجا ہو جائیں۔ دھرنے، نفرت انگیز تقاریر پاکستان کو دوبارہ معاشی تاریکیوں کی طرف لے جاسکتی ہیں ۔
معاشی جریدے Business Insideنے اس بات کی پیشن گوئی کی ہے کہ 2030ء تک پاکستان دنیا کی بیسویں بڑی معاشی طاقت بن کر ابھرے گا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی کاوشیں آئندہ ہونے والے سالوں میں پاکستان کی معاشی ترقی کا راستہ ہموار کریں گی۔